یورپی یونین کی ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم بنانے کی کوشش

یورپی

?️

سچ خبریں: یورپی یونین کے خارجہ امور کے اعلیٰ نمائندے نے یمن کی موجودہ صورتحال اور اس ملک کے خلاف کی جانے والی بمباری پر ایک دن کی تاخیر سے ردعمل کا اظہار کیا۔

ٹاس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق یمن پر امریکی اور برطانوی کے حملوں کے تقریباً ایک دن بعد یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندے برائے خارجہ امور جوزپ بوریل نے اس یونین کے رکن ممالک کی جانب سے ایک بیان جاری کیا ۔

یہ بھی پڑھیں: یمنی کب تک فلسیطنیوں کا ساتھ دے سکتے ہیں؟

انہوں نے اپنے بیان میں یمن میں واشنگٹن اور لندن کے اقدامات کا ذکر نہیں کیا لیکن یمنیوں سے تحمل سے کام لینے کو کہا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حکومتوں کو اپنے جہازوں کی حفاظت کا حق حاصل ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین 10 جنوری کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2722 کی منظوری کا خیرمقدم کرتی ہے جس میں بحیرہ احمر کی جہاز رانی پر یمن کے حملوں کی شدید مذمت کی گئی ہے اس لیے کہ عالمی تجارت اور سلامتی کے آزادانہ بہاؤ کے لیے بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی آزادی کو برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔

یورپی یونین نے یمنی افواج سے کہا ہے کہ وہ تحمل سے کام لیں تاکہ بحیرہ احمر اور خطے میں کشیدگی میں اضافے کو روکا جا سکے، اس تناظر میں یورپی یونین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 (2015) کے تحت ہتھیاروں کی پابندی کے احترام کے لیے تمام ممالک کے عزم کو یاد دہانی کرائی۔

بوریل کے مطابق یورپی یونین یمن میں حملوں کو فوری طور پر روکنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مداخلت کا مطالبہ کرتی ہے اس لیے کہ یہ حملےعالمی تجارت میں خلل ڈال رہے ہیں اور جہاز رانی کے حقوق کو نقصان پہنچا رہے ہیں نیز خطے میں امن و سلامتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

آخر میں یورپی یونین کی ڈپلومیسی کے سربراہ نے کہا کہ یورپی یونین خطے کے استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

دریں اثنا، کل یمن کے انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن محمد البخیتی نے المیادین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یمن بحیرہ احمر میں تنازعات کے نئے ضابطے تشکیل دینے میں کامیاب ہوگیا ہے جو مستقل ہوگا اور کوئی بھی اسے تبدیل نہیں کرسکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور انگلینڈ براہ راست جنگ میں داخل ہو چکے ہیں اور یہی وہ لمحہ ہے جس کا ہم انتظار کر رہے تھے۔

البخیتی نے کہا کہ صیہونی حکومت اور بحیرہ احمر میں ہماری کاروائیوں نے امریکیوں اور اسرائیلیوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔

مزید پڑھیں: کیا یمن پر امریکی اور برطانوی حملے بھی اپنا دفاع ہے؟

انصار اللہ سیاسی بیورو کے رکن نے کہا کہ ہمیں امریکہ اور انگلستان کے اقدامات کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے،اس سے پہلے ہم صرف صیہونی حکومت کے بحری جہازوں کو نشانہ بناتے تھے اور آج برطانوی اور امریکی جہاز بحیرہ احمر کو عبور کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔

مشہور خبریں۔

محسن عزیز کی زیرصدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس ہوا

?️ 4 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں

بلوچستان: سی ٹی ڈی کا کامیاب آپریشن، کالعدم ٹی ٹی پی کے 4 انتہائی مطلوب دہشتگرد ہلاک

?️ 30 اگست 2023بلوچستان:(سچ خبریں) بلوچستان کے علاقے مہاجر کیمپ سرخاب پشین میں محکمہ انسداد

نگراں حکومت پنجاب نے شرپسندوں کےخلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی کی منظوری دے دی

?️ 16 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) نگراں حکومت پنجاب نے آرمی تنصیبات اور املاک پر

آئی جی جیل خانہ جات کو عہدے سے ہٹا دیا گیا‘ ڈی آئی جی جیل اور سپرنٹنڈنٹ معطل:شرجیل میمن

?️ 3 جون 2025کراچی: (سچ خبریں) سندھ کے وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے

پاکستان بھر میں انٹرنیٹ سروسز متاثر، صارفین کو مشکلات کا سامنا

?️ 12 اکتوبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان بھر میں گذشتہ رز سے صارفین کو انٹرنیٹ

یورپی یونین نے پاکستان کو ہائی رسک ممالک کی فہرست سے خارج کردیا، نوید قمر

?️ 29 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی وزیر تجارت نوید قمر نے کہا ہے کہ

ہنیہ; شیخ یاسین کے اسکول کے مقبول ترین طالب علم

?️ 4 اگست 2024سچ خبریں: جب دو ستارے ٹکراتے ہیں تو روشنی اور توانائی کا دھماکہ

سی این این: یوکرین کی جنگ اب ٹرمپ کی جنگ ہے

?️ 5 اگست 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فعال طور پر یوکرین میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے