?️
یمن کی صورتحال،تاریخی اتحاد سے موجودہ کشیدگی تک
یمن، جو 1990 میں اتحاد کے بعد قومی یکجہتی کی امید بن کر ابھرا تھا، آج مختلف قوتوں کے زیرِ اثر ایک پیچیدہ اور منقسم نقشے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ شمال میں انصار اللہ، جنوب میں متحدہ عرب امارات اور اسرائیلی حمایت یافتہ علیحدگی پسند، اور مشرق میں سعودی عرب سے وابستہ فورسز، اس ملک کو شدید سیاسی و عسکری کشیدگی کی طرف لے جا رہی ہیں، جہاں اسلحہ کی بمباری اور براہِ راست جھڑپوں نے یمن کو عملی طور پر ٹوٹ پھوٹ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
ایرنا کے بین الاقوامی امور کے نمائندے کے مطابق، یمن ایک قدیم تاریخ اور تہذیب کا حامل ملک ہے، جس کی موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے اس کے تاریخی پس منظر پر نظر ڈالنا ناگزیر ہے۔
شمالی یمن، جسے جمہوریہ عرب یمن کہا جاتا تھا، سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کے بعد بیسویں صدی کے آغاز میں وجود میں آیا اور 1962 میں انقلاب کے بعد جمہوریہ بن گیا۔ اس کے برعکس، جنوبی یمن یا عوامی جمہوریہ یمن، 1967 میں برطانیہ سے آزادی کے بعد قائم ہوا اور عرب دنیا کا واحد کمیونسٹ ملک بن گیا، جو سوویت یونین کے زیرِ اثر تھا۔
دونوں یمن نظریاتی اور معاشی طور پر مختلف تھے؛ شمال زیادہ روایتی اور زرعی جبکہ جنوب صنعتی اور سوشلسٹ نظام کا حامل تھا۔ یہ تقسیم کئی دہائیوں تک برقرار رہی اور وقتاً فوقتاً سرحدی جھڑپیں بھی ہوتی رہیں۔
1990 میں شمالی اور جنوبی یمن کا اتحاد ایک تاریخی موڑ ثابت ہوا، جو علی عبداللہ صالح اور علی سالم البیض کی قیادت میں عمل میں آیا اور جمہوریہ یمن وجود میں آئی، جس کا دارالحکومت صنعا قرار پایا۔ تاہم یہ اتحاد کمزور ثابت ہوا اور 1994 میں مختصر خانہ جنگی کے بعد شمال نے جنوب پر غلبہ حاصل کر لیا، جس کے نتیجے میں جنوبی قیادت جلاوطنی پر مجبور ہوئی۔ اسی دور سے جنوبی علاقوں میں محرومی اور امتیاز کا احساس گہرا ہوتا چلا گیا۔
آج یمن عملاً مختلف حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ شمال اور مغربی علاقوں بشمول صنعا پر انصار اللہ کا کنٹرول ہے، جو آبادی کے بڑے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ جنوب میں جنوبی عبوری کونسل (STC) عدن، ابین اور لحج جیسے علاقوں پر قابض ہے، جبکہ مشرقی صوبوں حضرموت، المہرہ اور شبوہ میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ فورسز موجود ہیں۔ اس کے علاوہ، طارق صالح کی قیادت میں فورسز تعز کے بعض حصوں پر قابض ہیں۔
2011 کی عرب بہار نے یمن کی سیاست کو یکسر بدل دیا۔ بدعنوانی اور معاشی ناہمواری کے خلاف عوامی احتجاج نے تین دہائیوں سے برسراقتدار علی عبداللہ صالح کی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا۔ بالآخر 2012 میں اقتدار ان کے نائب عبد ربہ منصور ہادی کو منتقل ہوا، مگر یہ عبوری انتظام بھی ناکام ثابت ہوا اور 2014 میں انصار اللہ نے صنعا پر کنٹرول حاصل کر لیا۔
2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی فوجی مداخلت نے یمن کو مکمل خانہ جنگی کی طرف دھکیل دیا۔ اس کے بعد سے امارات اور سعودی عرب کے درمیان اثر و رسوخ کی کشمکش نمایاں ہوتی چلی گئی۔ امارات جنوبی علیحدگی پسندوں کی حمایت کے ذریعے بندرگاہوں اور تجارتی راستوں پر کنٹرول چاہتا ہے، جبکہ سعودی عرب مشرقی یمن کو اپنی اسٹریٹجک گہرائی تصور کرتا ہے۔
حالیہ عرصے میں یہ رقابت براہِ راست عسکری جھڑپوں میں تبدیل ہو چکی ہے، جہاں سعودی حملوں میں اماراتی اسلحہ بردار قافلوں کو نشانہ بنایا گیا اور جنوبی عبوری کونسل کو بعض علاقوں سے پسپا ہونا پڑا، جس میں درجنوں افراد ہلاک اور متعدد گرفتار ہوئے۔
اسی تناظر میں یمن کی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے جنوبی عبوری کونسل کے صدر عیدروس الزبیدی کی رکنیت ختم کرتے ہوئے ان پر سنگین غداری کے الزامات عائد کیے اور ان کا معاملہ استغاثہ کے حوالے کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق، الزبیدی پر مسلح گروہ سازی، شہریوں پر حملے، یمن کی معیشت اور سیاست کو نقصان پہنچانے اور آئینی اداروں کے خلاف بغاوت جیسے الزامات ثابت ہوئے ہیں۔
دوسری جانب، اسرائیل بھی خطے میں اپنے مفادات کے تحت یمن کی صورتحال میں مداخلت کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اسرائیل جنوبی علیحدگی پسندوں کی حمایت کر رہا ہے تاکہ باب المندب کی آبی گزرگاہ پر اثر و رسوخ حاصل کیا جا سکے اور انصار اللہ کو کمزور کیا جا سکے، جو اسرائیلی جہازوں کے خلاف بحری حملے تیز کر چکے ہیں۔
مجموعی طور پر، 1990 کے تاریخی اتحاد سے لے کر آج کی شدید کشیدگی تک، یمن نے ایک کٹھن اور پرآشوب سفر طے کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، جب تک قومی مفاد کو ترجیح دے کر بیرونی مداخلت کو محدود نہیں کیا جاتا، یمن میں پائیدار استحکام کا حصول مشکل دکھائی دیتا ہے۔


مشہور خبریں۔
واشنگٹن نے تل ابیب کو ایران کے خلاف سیکورٹی تعاون کی پیشکش کی: صہیونی میڈیا
?️ 4 فروری 2023سچ خبریں:ایک صہیونی اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے
فروری
یوکرین میں روسی ریفرنڈم غیر قانونی ہے: بلنکن
?️ 30 ستمبر 2022سچ خبریں: جمعرات کی شام امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے کہا
ستمبر
بائیڈن کا اندھیرے میں آخری تیر
?️ 12 جولائی 2022سچ خبریں:تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر کے آئندہ دورہ مغربی ایشیاء
جولائی
پنجاب کی چھ جامعات کے مستقل وائس چانسلرز کی تعیناتی پر گورنر ہاؤس کو تحفظات
?️ 29 اکتوبر 2024لاہور: (سچ خبریں) پنجاب کی چھ جامعات میں وائس چانسلرز کی تعیناتی
اکتوبر
بائیڈن سے جھوٹ بولنے والے امریکی جاسوس
?️ 20 مارچ 2022سچ خبریں:ایک امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ نے اطلاع دی ہے کہ 51
مارچ
کراچی پریس کلب کے باہر سول سوسائٹی کا سمی دین بلوچ کی رہائی کا مطالبہ
?️ 1 اپریل 2025کراچی: (سچ خبریں) عید الفطر کے پہلے روز کراچی پریس کلب کے
اپریل
ایران سے تعلقات دوبارہ بحال ہو سکتے ہیں: جولانی
?️ 13 ستمبر 2025ایران سے تعلقات دوبارہ بحال ہو سکتے ہیں: جولانی شام کی عبوری
ستمبر
کوئٹہ نہ جانے دیا تو مستونگ میں دھرنا دیں گے، بلوچ خواتین کو رہاکیا جائے، اختر مینگل
?️ 30 مارچ 2025مستونگ: (سچ خبریں) بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل (بی این پی- ایم) کے
مارچ