?️
چارلی کرک کے قتل کے بعد امریکا میں سیاسی زلزلہ، قانون ساز اور وائٹ ہاؤس مزید سکیورٹی فنڈز کے خواہاں
امریکا میں قدامت پسند میڈیا شخصیت اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی حامی چارلی کرک کے قتل کے بعد ملک کی سیاسی فضا ہل کر رہ گئی ہے۔ قانون سازوں اور وائٹ ہاؤس نے بڑھتے ہوئے سیاسی تشدد کے خدشات کے پیش نظر سکیورٹی اخراجات میں نمایاں اضافہ کرنے کی تجاویز دی ہیں۔
امریکی روزنامہ واشنگٹن ٹائمز کے مطابق، اراکین کانگریس چاہتے ہیں کہ انہیں گھریلو سکیورٹی نظام کی تنصیب اور ذاتی تحفظ کے لیے 20 ہزار ڈالر تک کا بجٹ دیا جائے۔ اس کے علاوہ ماہانہ حفاظتی الاؤنس کو 150 ڈالر سے بڑھا کر 5 ہزار ڈالر کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے تاکہ ارکان اپنی حفاظت کے لیے ذاتی محافظ بھرتی کر سکیں۔
اسپیکر مائیک جانسن نے صحافیوں کو بتایا کہ کرک کے قتل سے قبل صرف 20 کے قریب اراکین اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے تھے، لیکن اب مزید قانون ساز بھی دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے مطابق، صدر ٹرمپ کی حکومت نے کرک کے قتل کے بعد کانگریس سے 58 ملین ڈالر اضافی فنڈز کی درخواست کی ہے تاکہ ایگزیکٹو اور عدلیہ کی سکیورٹی کو مزید سخت کیا جا سکے۔ یہ مطالبہ یادگار 11 ستمبر کی برسی کے قریب سامنے آیا ہے، جسے اس بار غیرمعمولی حفاظتی خدشات کے باعث پینٹاگون کے باہر سے اندرونی احاطے میں منتقل کیا گیا۔
این بی سی نیوز نے رپورٹ کیا کہ کرک کے قتل کے بعد ڈیموکریٹ اور ریپبلکن دونوں جماعتوں کے قانون ساز اپنی جانوں کے تحفظ پر شدید پریشان ہیں۔ ڈیموکریٹ رکن الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز اور ریپبلکن رکن نینسی میس نے حفاظتی وجوہات کی بنا پر اپنے عوامی پروگرام ملتوی کر دیے ہیں۔ کچھ قانون سازوں نے یہاں تک اعلان کیا ہے کہ وہ ذاتی ہتھیار رکھنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
ڈیموکریٹ رکن جیرڈ موسکووٹز نے کہا یہاں موجود بہت سے لوگ اپنی جان کے خوف میں ہیں۔ سب کھل کر نہیں کہتے، لیکن اندر سے سب ڈرے ہوئے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق، اس واقعے نے کانگریس میں دونوں جماعتوں کے درمیان ایک دوسرے پر الزام تراشی کو ہوا دی ہے۔ ریپبلکنز نے ڈیموکریٹس کی سیاسی زبان اور میڈیا بیانیے کو ذمہ دار ٹھہرایا، جبکہ ڈیموکریٹس نے الزام لگایا کہ ریپبلکنز نے سخت اسلحہ قوانین منظور نہ کر کے ملک کو اس المیے کی طرف دھکیلا۔
یاد رہے کہ 31 سالہ چارلی کرک، جو قدامت پسند طلبہ تنظیم ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کا بانی اور اسرائیل کا کھلا حامی تھا، بدھ 10 ستمبر 2025 کو ریاست یوتا میں یونیورسٹی آف یوتا ویلی میں طلبہ سے خطاب کے دوران گولیوں کا نشانہ بنا۔ اسپتال منتقل کیے جانے کے باوجود اس کی جان نہ بچ سکی۔یہ قتل امریکا میں بڑھتے ہوئے سیاسی تشدد کی ایک اور علامت قرار دیا جا رہا ہے، جسے مبصرین امریکی تاریخ کے غیر معمولی عدم استحکام کا دور کہہ رہے ہیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
طالبان ملک کے 65 فیصد حصے پر کنٹرول حاصل کرچکے ہیں، یورپی یونین کا دعویٰ
?️ 12 اگست 2021کابل (سچ خبریں) یورپی یونین نے بڑا دعویٰ کرتے ہوے کہا ہے
اگست
اقتصادی سرگرمیوں کی آڑ میں جاسوسی؛ بحرین کو صیہونیوں سے سمجھوتہ کرنے صلہ
?️ 16 فروری 2022سچ خبریں:بحرینی اپوزیشن کے ایک رہنما نے کہا کہ آل خلیفہ حکومت
فروری
یوکرائن میں جو بھی ہورہا ہے اس کا ذمہ دار امریکہ ہے:سید حسن نصراللہ
?️ 2 مارچ 2022سچ خبریں:سید حسن نصراللہ نے بیروت میں ایک تقریر کے دوران کہا
مارچ
کوئی بھی ملک قانون پر عملدرآمد کے بغیر خوشحال نہیں ہوسکتا: وزیراعظم
?️ 14 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ قانون
جنوری
ایران اور چین نے مل کر ہماری کوششیں مٹی میں ملا دیں
?️ 28 مارچ 2021سچ خبریں:امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہےکہ ایران اور چین کے مابین
مارچ
ارشد شریف قتل کیس میں سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی رپورٹ مسترد کر دی
?️ 13 فروری 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے صحافی ارشد شریف قتل کیس کی فیکٹ فائنڈنگ
فروری
صحافیوں کا قتل صیہونی جارحیت کا واضح ثبوت:ایران
?️ 14 مئی 2022سچ خبریں:اسلامی جمہوریہ ایران نے صیہونیوں کے ہاتھوں الجزیرہ کی خاتون رپورٹر
مئی
عدنان ملک نے بھی عائزہ خان کے ڈرامے پر برہمی کا اظہار کیا
?️ 31 جولائی 2021کراچی (سچ خبریں)پاکستان فلم و ٹی وی انڈسٹری کے معروف اداکار عدنان
جولائی