?️
نیتن یاہو ٹرمپ کی نگرانی میں،واشنگٹن کے اعلی حکام کے مقبوضہ فلسطین میں مسلسل دورے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے حالیہ ہفتوں میں اسرائیل پر گہری نظر رکھنے کے لیے اپنے اعلیٰ حکام کے مسلسل دوروں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ یہ سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ واشنگٹن، غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کے خدشے سے شدید طور پر پریشان ہے اور ہر قیمت پر اس معاہدے کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
اسرائیلی روزنامہ یدیعوت آحارانوت کے مطابق، وائٹ ہاؤس نے فیصلہ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے پیش کردہ امن منصوبے کے تحت ہونے والے آتشبس معاہدے کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے سینئر نمائندوں کی مستقل موجودگی اسرائیل اور غزہ کے قریب یقینی بنائے۔ مقصد یہ ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کسی طور اس معاہدے کو کمزور یا منسوخ نہ کر سکیں۔
گزشتہ دنوں وائٹ ہاؤس کے متعدد اعلیٰ عہدیدار ایک کے بعد ایک مقبوضہ فلسطین پہنچ رہے ہیں تاکہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کی نگرانی کر سکیں۔ بعض اسرائیلی تجزیہ کار اس طرزِ عمل کو طنزیہ انداز میں بی بی سیٹنگ یعنی نیتن یاہو پر نگران نشست قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ دیگر مبصرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے یہ ایک "بسکٹ بال ٹیکٹک ہے یعنی دباؤ بڑھانے اور قریبی کنٹرول رکھنے کی عملی حکمتِ عملی۔
یدیعوت آحارانوت کے مطابق، وائٹ ہاؤس نے اپنے نمائندوں کی تعیناتی کو مستقل حیثیت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے امریکی وزراء اور مشیروں کی آمد و رفت کا ایک منظم سلسلہ قائم کیا گیا ہے۔
آج امریکی وزیرِ توانائی کریس رائٹ اسرائیلی حکام سے ملاقات کے لیے تل ابیب پہنچ رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ہی امریکی وزارتِ خارجہ کی نمائندہ برائے اقوام متحدہ مورگن اورٹیگس بھی مشرقِ وسطیٰ میں قیام کے دوران آتشبس کی نگرانی کے مشن پر موجود ہیں۔
اس سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو جمعرات کے روز اسرائیل پہنچے، جہاں انہوں نے اسرائیلی حکام کے ساتھ ملاقاتوں کے علاوہ بین الاقوامی مانیٹرنگ سینٹر کا بھی دورہ کیا — یہ مرکز مختلف ممالک کے فوجی ماہرین پر مشتمل ہے جو جنگ بندی پر عملدرآمد کی نگرانی کر رہے ہیں۔
اس سے قبل جیرڈ کشنر (ٹرمپ کے داماد)، وائٹ ہاؤس کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف اور نائب صدر جے ڈی ونس بھی اسرائیل اور غزہ کے حالات کا قریب سے جائزہ لینے کے لیے وہاں جا چکے ہیں۔
امریکی جریدے پولیٹیکو کے مطابق، جے ڈی ونس کا حالیہ دورہ دراصل ایک خصوصی پیغام کے ساتھ تھا جس میں صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو سختی سے متنبہ کیا کہ وہ جنگ بندی کی خلاف ورزی نہ کرے۔ رپورٹ کے مطابق، کچھ امریکی حکام نے ایک عرب اتحادی ملک کو یہ بھی بتایا کہ "اسرائیل اب کنٹرول سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔
واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں نیتن یاہو کی پالیسیوں، غزہ پر حالیہ حملوں اور کنسٹ میں مغربی کنارے کے انضمام کے فیصلے پر شدید ناراضی پائی جاتی ہے۔
یدیعوت آحارانوت نے لکھا کہ امریکی نگرانی اور عالمی فورسز کی بڑھتی ہوئی موجودگی نے اسرائیل کی خودمختاری کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ اس اخبار کے مطابق، اسرائیل اب عملاً امریکہ کی اکاونوی ریاست بن چکا ہے، کیونکہ واشنگٹن اس کی پالیسیوں پر براہِ راست اثرانداز ہو رہا ہے۔
اخبار نے مزید لکھا کہ غزہ میں امریکی قیادت میں قائم بین الاقوامی فورس میں فرانس اور اسپین جیسے ممالک کے فوجی بھی شامل ہیں وہی ممالک جو ماضی میں اسرائیلی کارروائیوں کے سخت ناقد رہے ہیں۔ اس سے اسرائیلی سیاسی و عسکری حلقوں میں بےچینی اور تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
ٹرمپ کے ایلچی کی عراق میں آئندہ حکومت کے کن ۷ وزارتی محکموں پر اثر و رسوخ کی خواہش
?️ 29 اکتوبر 2025ٹرمپ کے ایلچی کی عراق میں آئندہ حکومت کے کن ۷ وزارتی
اکتوبر
آئی فون کے ٹکر کا ون پلس 12 متعارف
?️ 6 دسمبر 2023سچ خبریں: اسمارٹ موبائل فون بنانے والی چینی کمپنی ون پلس نے
دسمبر
صیہونی ڈاکٹرز سفید پوش قصاب
?️ 6 جولائی 2022سچ خبریں: انسانی حقوق کی حمایت کرنے والے ڈاکٹروں کی کمیونٹی نے
جولائی
یمن میں امریکی فوجی موجودگی قبضہ ہے:انصاراللہ
?️ 8 مارچ 2023سچ خبریں:یمنی عوامی تنظیم انصاراللہ کی سپریم سیاسی کونسل کے سربراہ نے
مارچ
قرآن پاک کی بے حرمتی کا سلسلہ جاری،کوئی خاص مقاصد ہیں؟
?️ 9 اگست 2023سچ خبریں: عراقی نژاد سویڈش پناہ گزین سلوان مومیکا نے سویڈن میں
اگست
اپنی گولی لگنے سے ایک صہیونی فوجی ہلاک
?️ 16 اگست 2022سچ خبریں: صیہونی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا ایک
اگست
ہماری اصل جنگ صہیونی دشمن کے ساتھ
?️ 24 جنوری 2022سچ خبریں: اسلامی مقاومتی تحریک حماس نے بیانات جاری کرکے دوسرے ممالک
جنوری
قومی اسمبلی کا اجلاس، بجٹ سے قبل آئی ایم ایف کے حکم پر ایک اور بل کی منظوری
?️ 23 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ پیش کیے
مئی