?️
سچ خبریں:امریکی جریدے نیویارک ٹائمز نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اپنی سیاسی بقا کے لیے غزہ میں جنگ کو جان بوجھ کر طول دے رہے ہیں،رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو اپریل 2024 میں جنگ بندی پر راضی ہو سکتے تھے، مگر انہوں نے اقتدار بچانے کی خاطر یہ موقع ضائع کر دیا۔
نیویارک ٹائمز نے اسرائیل، امریکہ اور عرب ممالک کے 110 سے زائد ذرائع سے گفتگو کے بعد یہ رپورٹ مرتب کی ہے، رپورٹ میں کہا گیا کہ نیتن یاہو نے اپنے انتہا پسند دائیں بازو کے اتحادیوں کے دباؤ میں اہم لمحات پر مذاکرات کو سست کر دیا، جب کہ حماس سمیت فلسطینی مزاحمتی گروہ جنگ بندی پر آمادہ تھے۔
یہ بھی پڑھیں: صیہونی اپنی فوجی ہلاکتوں کی صحیح تعداد کیوں نہیں بتاتے؟
حتیٰ کہ جب اسرائیلی اعلیٰ عہدیدار جنگ کے جاری رہنے کو ضروری نہیں سمجھتے تھے، تب بھی نیتن یاہو نے جنگ جاری رکھنے پر اصرار کیا۔ جب بالآخر جنوری 2025 میں فریقین نے جنگ بندی پر اتفاق کیا تو نیتن یاہو نے مارچ میں اس معاہدے کی خلاف ورزی کی تاکہ دائیں بازو کے اتحادیوں کی ناراضی سے بچ سکیں۔
رپورٹ کے مطابق اس پالیسی کی بھاری قیمت چکانی پڑی۔ غزہ میں جنگ ختم نہ کرنے کی ضد نے ہزاروں فلسطینیوں کی جان لے لی، متعدد اسرائیلی قیدی زندہ واپس نہ آ سکے، اسرائیلی معاشرے میں اختلافات بڑھ گئے، سعودی عرب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل متاثر ہوا اور عالمی سطح پر اسرائیل کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس پالیسی کے نتیجے میں نیتن یاہو نے اپنی اقتدار پر گرفت مضبوط رکھی، انہوں نے 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کی آزادانہ تحقیقات رکوا دیں جو اُن کی ناکامی کو ظاہر کر سکتی تھیں، اپنے سیاسی اتحاد کو مضبوط کیا اور ایران کے خلاف جارحانہ کارروائیاں منظم کیں۔
نیویارک ٹائمز نے نتیجہ اخذ کیا کہ اب خود نیتن یاہو کے سب سے وفادار حامی بھی اعتراف کرتے ہیں کہ جنگ کے جاری رہنے نے وزیراعظم کو اقتدار میں رہنے کا موقع فراہم کیا۔
واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت کے باعث غزہ میں اب تک 57 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور دسیوں ہزار زخمی ہو چکے ہیں، اس جنگ نے نہ صرف غزہ کے انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا، بلکہ ہسپتالوں، اسکولوں اور پانی و بجلی کے نیٹ ورک کو بھی شدید نقصان پہنچایا، لاکھوں فلسطینی بے گھر، شدید غذائی قلت اور بے مثال انسانی بحران کا شکار ہیں۔
غزہ سے سامنے آنے والی تصاویر تباہ شدہ رہائشی علاقوں، امدادی اشیاء کی لمبی قطاروں اور ادویات و ایندھن کی کمی کے سبب ناکارہ ہسپتالوں کی عکاسی کرتی ہیں۔
دسمبر 2024/جنوری 2025) میں فریقین میں جنگ بندی اور اسرا کے تبادلے پر اتفاق ہوا، تاہم اسرائیل نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوبارہ بڑے پیمانے پر حملے شروع کر دیے ہیں، جس سے شہداء کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکی جریدے نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنی سیاسی بقا کے لیے غزہ کی جنگ کو جان بوجھ کر طول دیا، جس سے ہزاروں فلسطینی شہید اور اسرائیل کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
نیتن یاہو اسرائیل کی امریکی فوجی امداد ختم کرنے پر کیوں تیار ہیں؟
?️ 13 مئی 2026 سچ خبریں:آندریاس موتزفلت کراویک، ناروے کے نائب وزیر خارجہ، جو ایک
مئی
فلسطین اور بیت المقدس پر اسرائیل کی بربریت اور امریکہ کی سرپرستی میں ہونے والا ظلم پوری امت مسلمہ کیلئے لمحہ فکریہ ہے.
?️ 13 جولائی 2025ملتان: (سچ خبریں) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا
جولائی
طالبان کی حکومت کے بعد شیعوں پر حملے کیوں بڑھے؟
?️ 17 اکتوبر 2021سچ خبریں: افغان نیشنل پارٹی کے سیکریٹری جنرل جعفر مہدوی نے کہا کہ
اکتوبر
بدعنوان اسرائیلی سیاسی اور فوجی شخصیات کا جائزہ
?️ 29 مارچ 2023سچ خبریں:حالیہ عشروں میں صیہونی حکومت بہت سے گہرے مسائل سے دوچار
مارچ
سیکیورٹی فورسز کی ٹانک اور شمالی وزیرستان میں کامیاب کارروائیاں، 6 دہشت گرد ہلاک
?️ 1 جولائی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سیکیورٹی فورسز نے ٹانک اور شمالی وزیرستان کے اضلاع
جولائی
آبنائے ہرمز میں امارات کی ادنوک کمپنی کے ٹینکر پر حملہ
?️ 15 اگست 2026سچ خبریں: ابوظہبی کی قومی تیل کمپنی (ادنوک) نے ایک بیان میں
اگست
افغانستان کی بدلتی صورتحال کے بعد یورپی ممالک نے ملک سے بھاگنا شروع کردیا
?️ 17 اگست 2021لندن (سچ خبریں) افغانستان کی بدلتی صورتحال اور طالبان کے مکمل قبضے
اگست
پاکستان: غزہ میں فوج بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا
?️ 19 دسمبر 2025سچ خبریں: غزہ سے متعلق سیکیورٹی منصوبوں میں اسلام آباد کی شرکت
دسمبر