نیتن یاہو کا صیہونی انتخابات پر اعتراض

صیہونی

?️

سچ خبریں:صہیونی حکومت کے وزیر اعظم نے تبدیلی والی حکومت تشکیل دینےاورا ن کے12 سالہ اقتدار کو ختم کرنے کی کوشش کرنے والی حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا
روس ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاھو نے اتوار کو کہا کہ نئی اتحادی حکومت جمہوریت کی تاریخ میں "سب سے بڑے انتخابی دھوکہ دہی” کا نتیجہ ہے ، ،انہوں نے لیکوڈ پارٹی کے پارلیمانی اجلاس کے آغاز میں پارٹی کے ممبروں کو بتایا کہ ہم اسرائیل کی تاریخ یہاں تک کہ جمہوریت کی تاریخ کے سب سے بڑی انتخابی دھوکہ دہی کو دیکھ رہے ہیں،انہوں نے یمینا پارٹی کے رہنما نفتالی بینیٹ کا ذکر کرتےہوئے کہا کہ انہوں نے کہا تھا کہ یش عتید پارٹی کے رہنما یئرلاپڈ کے ساتھ اتحاد نہیں کریں گے تاہم انھوں نے ایسا کیا جس سے لوگوں کو لگتا ہے کہ ان کو دھوکا دیا گیا ہے تبھی وہ مزاحمت کر رہے ہیں اس لیے کہ خاموشی ٹھیک نہیں ہے۔

یادرہے کہ لاپڈاور بینیٹ نے گذشتہ بدھ کو آٹھ مختلف سیاسی جماعتوں کی مخلوط حکومت بنانے کے معاہدے کا اعلان کیا تھا کہ اگر وہ کنسیٹ میں اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیتے ہیں تو نیتن یاہو کی 12 سالہ صدارت کا خاتمہ ہوجائے گا ۔

قابل ذکر ہے کہ نیتن یاھو نے نئی حکومت کو دھمکی دیتے ہوئے یہ بھی کہاکہ میں اور لیکوڈ میں میرے حلیف اس جعلی حکومت کے قیام کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں اور اگر اس کی تشکیل ہوبھی جاتی ہے تو ہم اسے بہت جلد ختم کردیں گے،انہوں نے کہا کہ اپوزیشن محاذ جس "تبدیلی حکومت” کی تشکیل کے لئے کوشاں ہے وہ یہودی ریاست کے مفادات کی ضمانت نہیں دے سکے گا۔

نیتن یاھو نے زور دے کر کہا کہ اگلی حکومت ایک بہت ہی خطرناک بائیں بازو کی حکومت ہے جو "دہشت گردی” کی حمایت پر مبنی ہے ، جو اسرائیل کے لئے خطرہ ہے اور اگر حکومت تشکیل دی گئی تو وہ اسے برطرف کر دیں گے،موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ بائیں بازو کی حکومت غزہ کی پٹی یا بین الاقوامی فوجداری عدالت کے اسرائیل کے خلاف فیصلوں سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے میں ناکام ہے نیز ایران کو اپنے جوہری ہتھیاروں تک رسائی حاصل کرنے سے نہیں روک سکتی۔

نیتن یاھو نے دائیں بازو کی جماعتوں یمینا اور نیو امید کے ممبروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے موقف کی توثیق کریں اور نئی حکومت کے خلاف ووٹ دیں،انہوں نے کہاکہ جو بھی دائیں بازو کا ہے وہ بائیں بازو کی حکومت کو ووٹ نہیں دے گا اور جو بائیں بازو کی حکومت کو ووٹ دے گا وہ دائیں بازو کا نہیں ہے،موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم نے شباک کے سربراہ کے حالیہ ریمارکس اور ان پر لگائے جانے والے الزامات کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کنسیٹ میں "تبدیلی محاذ” کے نمائندوں کو بھڑکانے کے الزامات لگائے اور زور دیا کہ وہ اور ان کے اہل خانہ مزید اشتعال انگیز کاروائیوں میں ملوث ہیں ، جن میں انھیں اور ان کےلواحقین کو قتل کرنے کی دھمکی بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ تبدیلی کی حکومت پر تنقید کا مطلب یہ نہیں کہ وہ تشدد کو ہوا دیں، ہر لفظ کو اشتعال انگیز نہیں سمجھا جاسکتا، یہاں اظہار رائے کی آزادی ہے اور ہر شہری اس سے فائدہ اٹھا سکتاہے اور تنقید کا مطلب اشتعال انگیزی نہیں ہے۔

 

مشہور خبریں۔

دار الارقم اسکول پر اسرائیلی بمباری پر حماس کا شدید ردعمل

?️ 4 اپریل 2025 سچ خبریں:غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے دار الارقم اسکول

شام کے شہر حلب میں کار بم دھماکہ

?️ 12 اپریل 2021سچ خبریں:شامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اس ملک کے شہر

حزب اللہ نے ایک گولی بھی نہیں ڈالی ہے: شیخ نعیم قاسم

?️ 9 ستمبر 2025سچ خبریں: سید علی الموسوی، جو شیخ نعیم قاسم کے نمائندے ہیں،

کیا کنیسٹ میں نیتن یاہو کی اکثریت باقی رہے گی؟

?️ 17 نومبر 2023سچ خبریں:نیتن یاہو کی غزہ کی پٹی کے خلاف جنگ کو اقتدار

فواد چوہدری کا  نعمان نیاز اور شعیب اختر کی صلح پر ردعمل

?️ 13 نومبر 2021لاہور (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات برائے نشریات فواد چوہدری نے سابق

پاک بھارت کشیدگی: چین کیلئے خلا سے انٹیلی جنس معلومات کا حصول آسان ہوگیا

?️ 9 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاک بھارت کشیدگی نے چین کو انٹیلی جنس

اسرائیل کب سے ایٹمی بم بنا رہا ہے؟

?️ 24 دسمبر 2024سچ خبریں: ماریو اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق حال ہی میں

جولانی حکومت کی ناکامی سے اسرائیل کے نئے تجزیاتی منصوبے تک

?️ 19 جولائی 2025 سچ خبریں:جنوبی شام کے دروزی اکثریتی علاقے سویداء میں جولانی حکومت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے