نیتن یاہو غزہ جنگ دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں:اسرائیلی میڈیا

نیتن یاہو

?️

نیتن یاہو غزہ جنگ دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں:اسرائیلی میڈیا
اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی وعدوں کے باوجود، جن میں غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنے اور تعمیر نو شامل ہے، اسرائیلی قیادت غزہ پر دوبارہ بھرپور فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اسرائیلی ٹی وی چینل ۱۳ کی رپورٹ کے مطابق صہیونی حکام ثالثی کی کوششوں کو نظرانداز کرتے ہوئے غزہ میں جنگ کے دوبارہ آغاز کے خواہاں ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ جنگ بندی منصوبے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد سے انکار کر رہے ہیں اور اس کے بجائے غزہ پر وسیع پیمانے پر فوجی حملے دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جو عملی طور پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
اسی دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو آئندہ ہفتے امریکی صدر سے ملاقات کے لیے فلوریڈا کے شہر میامی کا دورہ کرنے والے ہیں۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اسرائیلی حکام یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ غزہ میں جنگ کا دوبارہ آغاز ٹرمپ منصوبے کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہو سکتا ہے۔
چینل ۱۳ کے مطابق نیتن یاہو نے گزشتہ ہفتے سکیورٹی اور عسکری حکام کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد کیا جس میں غزہ میں دوبارہ داخلے اور بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی تیاری پر زور دیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل کا اندازہ ہے کہ امریکہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور غزہ کو غیر فوجی بنانے کے لیے کوئی کثیر القومی فورس تشکیل دینے میں ناکام رہے گا، جس کے باعث فوجی آپشن کو واحد حل سمجھا جا رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر خزانہ بتسلئیل اسموٹریچ نے بھی عندیہ دیا ہے کہ اسرائیل کو ممکنہ طور پر انتخابات سے قبل غزہ اور لبنان میں نئی فوجی کارروائیاں کرنا پڑ سکتی ہیں اور موجودہ جنگ بندی طویل عرصے تک برقرار رہنے کا امکان کم ہے۔
دوسری جانب امریکہ نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک کثیر مرحلہ منصوبہ پیش کیا ہے جس میں انسانی امداد، فلسطینی قیدیوں کی واپسی، بعض علاقوں سے فوجی انخلا اور بین الاقوامی نگرانی میں ایک امن کونسل کے قیام جیسے نکات شامل ہیں۔ تاہم امریکی خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے واضح کیا ہے کہ اس منصوبے کا دوسرا مرحلہ تمام فریقوں کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے بھی غزہ کے انتظام کے لیے ایک امن کونسل کے قیام کا وعدہ کیا ہے جس کے ارکان ۲۰۲۶ کے آغاز میں متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔ اسی تناظر میں وال اسٹریٹ جرنل نے جیرڈ کوشنر کی سرپرستی میں ایک منصوبے کا ذکر کیا ہے جس کا مقصد غزہ کو مشرق وسطیٰ کی جدید ٹیکنالوجی پر مبنی شہر میں تبدیل کرنا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک غزہ کا محاصرہ ختم اور اسرائیلی قبضہ ختم نہیں ہوتا، اس نوعیت کے منصوبے محض کاغذی خواب ہی رہیں گے اور خطے میں پائیدار امن کے بجائے اسرائیلی فوجی تسلط کو مزید مضبوط کریں گے۔ایران کے جدید میزائل نظام سے اسرائیل میں بڑھتی ہوئی تشویش

مشہور خبریں۔

حماس کب جنگ بندی قبول کرے گی؟

?️ 13 جون 2024سچ خبریں: حماس کی اسلامی مزاحمتی تحریک نے ایک بار پھر غزہ

سعودی عرب چین سے فضائی دفاعی نظام خریدنے کا خواہاں

?️ 19 جنوری 2022سچ خبریں:  پریس ذرائع کے مطابق رائل سعودی ایئر فورس چین کا

ایران پر عائد پابندیوں کا پڑوسی ممالک پر اثر

?️ 6 اکتوبر 2023سچ خبریں: مغرب اور امریکہ کے دوہرے رویے پر تنقید کرتے ہوئے

گلوبل وارمنگ کیلئے اقدامات بہت ضروری ہیں: وزیراعظم

?️ 3 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ گلوبل

نیتن یاہو کو حزب اللہ کے جنگ میں داخل ہونے کا خوف

?️ 9 اکتوبر 2023سچ خبریں:صیہونی ٹیلی ویژن کے مطابق اسرائیل نے گذشتہ رات اپنے فیصلوں

صہیونی حلقوں میں فلسطینیوں کی انتقامی کاروائی پر تشویش

?️ 7 فروری 2023سچ خبریں:ایک صیہونی صحافی نے اس حکومت کے فوجیوں کے ہاتھوں کفرعقب

غزہ کی حمایت اور منحوس تکون کے خلاف لاکھوں یمنیوں کا مارچ

?️ 31 مارچ 2024سچ خبریں: غزہ کی حمایت اور منحوس تکون کے خلاف لاکھوں یمنیوں

امریکہ پر اعتماد افغانستان کے زوال کا باعث بنا ہے: اشرف غنی

?️ 30 دسمبر 2021سچ خبریں:مفرور افغان صدر نے ملک چھوڑنے کے بعد ایک سرکاری انٹرویو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے