?️
مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کو ضم کرنے کا اسرائیل کا منصوبہ
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی اتحادی کابینہ، جس کی مقبولیت اور سیاسی بقا پر اکتوبر 2023 کے واقعات کے بعد سنگین سوالات اٹھ چکے ہیں، آئندہ انتخابات سے قبل اپنے وجود کو بچانے کے لیے دائیں بازو کے انتہاپسند ایجنڈے پر تیزی سے عمل پیرا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ میں بعض وزرا نے تجویز دی ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے قبل مغربی کنارے کے حصوں کو باقاعدہ طور پر اسرائیل میں ضم کرنے کا عمل شروع کیا جائے۔ اسرائیلی میڈیا نے بھی اطلاع دی ہے کہ یہ مسئلہ آئندہ ہفتے کابینہ اجلاس میں زیر غور آئے گا۔
انتہاپسند جماعت صہیونی مذہبی پارٹی کے سربراہ اور وزیر خزانہ بیتسلائل اسموتریچ نے ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے جس میں 3400 سے زائد یہودی آبادی کے لیے رہائشی یونٹس پر مشتمل علاقے E1 کی تعمیر شامل ہے۔ یہ علاقہ مقبوضہ بیت المقدس اور معالیہ ادومیم کے درمیان بنایا جانا ہے، جس کے نتیجے میں مغربی کنارہ دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا اور فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات تقریباً ختم ہو جائیں گے۔
بین الاقوامی دباؤ کے باعث اب تک اس منصوبے پر عمل رکا ہوا تھا، لیکن حالیہ دنوں میں اسے دوبارہ آگے بڑھانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ اس صورتحال نے اسرائیل کے اپنے مغربی اتحادیوں جیسے فرانس اور برطانیہ کے ساتھ تعلقات کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔
فرانس نہ صرف فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے جا رہا ہے بلکہ رام اللہ میں فلسطینی سفارتخانہ کھولنے پر بھی غور کر رہا ہے، جسے اسرائیل کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔
اسموتریچ نے حالیہ بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ اگر حماس ہتھیار ڈالنے اور قیدیوں کو آزاد کرنے پر راضی نہیں ہوتی، تو اسرائیل کو غزہ کے حصے بھی اپنے کنٹرول میں لے لینے چاہئیں۔ اس نے ایک مرحلہ وار منصوبہ پیش کیا ہے جس کے مطابق چند ماہ میں پورے غزہ پر اسرائیل کا کنٹرول ممکن ہے۔
دوسری جانب، نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ میں فوجی کنٹرول برقرار رکھے گا لیکن وہاں حکومت نہیں چلائے گا۔ اس کے مطابق، غزہ کی انتظامیہ کسی عرب فریق کو دی جائے گی تاکہ علاقے کو اسرائیل کے خلاف خطرے کے بغیر چلایا جا سکے۔
تازہ رائے عامہ کے جائزوں میں دکھایا گیا ہے کہ نیتن یاہو کی لیکود پارٹی اور اس کے اتحادیوں کی مقبولیت تیزی سے گر رہی ہے۔ اسموتریچ کی جماعت بھی کنسٹ میں داخلے کی حد عبور کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے، اسی لیے وہ سخت گیر بیانات دے کر اپنی حمایت واپس حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اسی دوران، اطلاعات ہیں کہ امریکہ کوشش کر رہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور دیگر رہنماؤں کو جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے امریکہ آنے سے روکا جائے، تاکہ اسرائیل کے خلاف عالمی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
امریکی بالادستی کا زوال اور ابھرتی ہوئی کثیر قطبی ترتیب میں روس کا کردار
?️ 14 نومبر 2024سچ خبریں: سوویت یونین کے انہدام اور سرد جنگ کے خاتمے کے
نومبر
مغربی کنارے میں استقامت کے جوانوں کی اسرائیلیوں سے جھڑپیں
?️ 19 جون 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے ٹی وی چینل 13 نے اپنی ایک رپورٹ
جون
گوادر کے 3 ہزار سے زائد گھروں کیلئے شمسی توانائی فراہم کریں گے: اسدعمر
?️ 17 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں)وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر
دسمبر
ٹرمپ کے عدالتی استثنیٰ پر فوری نظرثانی کی درخواست مسترد
?️ 23 دسمبر 2023سچ خبریں:امریکی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کیس کے خصوصی تفتیش کار
دسمبر
فلسطینیوں کے پاس استقامت کے سوا کوئی چارہ نہیں: نصراللہ
?️ 2 اکتوبر 2022سچ خبریں: لبنان میں حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن
اکتوبر
چین، سعودی عرب اور یو اے ای کا قرضوں کے بارے میں اعلان
?️ 7 اگست 2024سچ خبریں: وفاقی وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ چین، سعودی عرب
اگست
آئندہ دو تین سال میں تمام غیر ضروری ٹیکسز ختم کردیں گے: شوکت ترین
?️ 8 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) مشیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ
نومبر
مصر کا اسرائیلی حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات کی مشروط واپسی کا امکان
?️ 18 اکتوبر 2025مصر کا اسرائیلی حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات کی مشروط واپسی کا
اکتوبر