مادورو کا ردِعمل نہ جنگ، نہ سی آئی اے کی بغاوت

مادورو

?️

مادورو کا ردِعمل نہ جنگ، نہ سی آئی اے کی بغاوت
وینیزویلا کے صدر نکولاس مادورو نے امریکہ کی جانب سے سی آئی اے کو وینیزویلا میں خفیہ اور مہلک کارروائیوں کی اجازت دینے پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ:ہم کیریبین میں جنگ نہیں چاہتے، نہ کسی حکومت کی تبدیلی، اور نہ ہی سی آئی اے کی منظم بغاوتیں قبول کریں گے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، مادورو کا یہ بیان اُس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سی آئی اے کو وینیزویلا کی سرزمین پر خفیہ کارروائیوں کی اجازت دینے کی منظوری دی۔ اسی کے ساتھ امریکہ نے کیریبین کے پانیوں میں جنگی بحری جہاز بھی تعینات کیے، جنہیں بظاہر منشیات فروشوں کے خلاف آپریشن کا حصہ بتایا جا رہا ہے۔
مادورو نے کہا ہم کیریبین میں جنگ کے مخالف ہیں۔ ہمیں اُن ناکام جنگوں کی یاد مت دلائیں جو افغانستان، ایران اور عراق میں لڑی گئیں۔ ہم کسی بھی غیر ملکی سازش یا سی آئی اے کی سرپرستی میں ہونے والی بغاوت کو قبول نہیں کریں گے۔
ان بیانات سے ایک روز قبل، ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ وینیزویلا میں ممکنہ کارروائیوں پر غور کر رہے ہیں، جبکہ نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا کہ صدر ٹرمپ نے سی آئی اے کو خفیہ طور پر وینیزویلا میں حکومت مخالف آپریشن کی اجازت دے دی ہے۔
ٹرمپ نے حالیہ حملوں کے بعد اشارہ دیا کہ امریکہ زمینی کارروائیوں کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا “ہم سمندری حدود پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں، اب ہماری نظر خشکی پر ہے۔”
واشنگٹن حکومت نکولاس مادورو اور ان کی انتظامیہ پر منشیات کی اسمگلنگ کے عالمی نیٹ ورک کی قیادت کا الزام لگاتی ہے — الزامات جنہیں کاراکاس نے جھوٹ اور سیاسی پروپیگنڈا” قرار دیا ہے۔
دوسری جانب، وینیزویلا نے امریکی اقدامات کو فوجی خطرہ قرار دیتے ہوئے ملک میں بڑی فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں اور رضاکار افواج کو بھی متحرک کیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، حالیہ ہفتوں میں امریکہ نے بین الاقوامی پانیوں میں کم از کم پانچ کشتیوں پر حملے کیے ہیں جنہیں منشیات فروشوں کی کشتیاں بتایا گیا، اور ان میں 27 افراد ہلاک ہوئے۔
یہ حملے اُس وقت کیے گئے جب امریکہ نے اگست میں وینیزویلا کے ساحل کے قریب آٹھ جنگی جہاز اور ایک ایٹمی آبدوز تعینات کی تھی، جسے بظاہر “انسدادِ منشیات آپریشن” کا حصہ کہا گیا تھا۔
تاہم، ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز کی ان رپورٹوں کی تصدیق یا تردید سے گریز کیا کہ انہوں نے خفیہ طور پر سی آئی اے کو وینیزویلا میں مادورو حکومت کے خلاف کارروائی کی اجازت دی ہے۔
وینیزویلا کے صدر نکولاس مادورو نے امریکہ کی جانب سے سی آئی اے کو وینیزویلا میں خفیہ اور مہلک کارروائیوں کی اجازت دینے پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کیریبین میں جنگ نہیں چاہتے، نہ کسی حکومت کی تبدیلی، اور نہ ہی سی آئی اے کی منظم بغاوتیں قبول کریں گے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، مادورو کا یہ بیان اُس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سی آئی اے کو وینیزویلا کی سرزمین پر خفیہ کارروائیوں کی اجازت دینے کی منظوری دی۔ اسی کے ساتھ امریکہ نے کیریبین کے پانیوں میں جنگی بحری جہاز بھی تعینات کیے، جنہیں بظاہر منشیات فروشوں کے خلاف آپریشن کا حصہ بتایا جا رہا ہے۔
مادورو نے کہا ہم کیریبین میں جنگ کے مخالف ہیں۔ ہمیں اُن ناکام جنگوں کی یاد مت دلائیں جو افغانستان، ایران اور عراق میں لڑی گئیں۔ ہم کسی بھی غیر ملکی سازش یا سی آئی اے کی سرپرستی میں ہونے والی بغاوت کو قبول نہیں کریں گے۔
ان بیانات سے ایک روز قبل، ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ وینیزویلا میں ممکنہ کارروائیوں پر غور کر رہے ہیں، جبکہ نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا کہ صدر ٹرمپ نے سی آئی اے کو خفیہ طور پر وینیزویلا میں حکومت مخالف آپریشن کی اجازت دے دی ہے۔
ٹرمپ نے حالیہ حملوں کے بعد اشارہ دیا کہ امریکہ زمینی کارروائیوں کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا “ہم سمندری حدود پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں، اب ہماری نظر خشکی پر ہے۔
واشنگٹن حکومت نکولاس مادورو اور ان کی انتظامیہ پر منشیات کی اسمگلنگ کے عالمی نیٹ ورک کی قیادت کا الزام لگاتی ہے — الزامات جنہیں کاراکاس نے “جھوٹ اور سیاسی پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔
دوسری جانب، وینیزویلا نے امریکی اقدامات کو فوجی خطرہ قرار دیتے ہوئے ملک میں بڑی فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں اور رضاکار افواج کو بھی متحرک کیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، حالیہ ہفتوں میں امریکہ نے بین الاقوامی پانیوں میں کم از کم پانچ کشتیوں پر حملے کیے ہیں جنہیں منشیات فروشوں کی کشتیاں بتایا گیا، اور ان میں 27 افراد ہلاک ہوئے۔
یہ حملے اُس وقت کیے گئے جب امریکہ نے اگست میں وینیزویلا کے ساحل کے قریب آٹھ جنگی جہاز اور ایک ایٹمی آبدوز تعینات کی تھی، جسے بظاہر انسدادِ منشیات آپریشن کا حصہ کہا گیا تھا۔
تاہم، ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز کی ان رپورٹوں کی تصدیق یا تردید سے گریز کیا کہ انہوں نے خفیہ طور پر سی آئی اے کو وینیزویلا میں مادورو حکومت کے خلاف کارروائی کی اجازت دی ہے۔

مشہور خبریں۔

اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ کا انتباہ: فلسطینی زمینوں پر قبضہ جارحانہ اقدام ہے

?️ 19 فروری 2026اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ کا انتباہ: فلسطینی زمینوں پر قبضہ جارحانہ

12 ملین یوکرینی بے گھر ہو چکے ہیں: زیلینسکی

?️ 3 جون 2022سچ خبریں:   یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جمعرات کو کہا کہ

رفح کراسنگ کی بحالی فلسطینی عوام کا بنیادی حق ہے:حماس

?️ 3 فروری 2026رفح کراسنگ کی بحالی فلسطینی عوام کا بنیادی حق ہے:حماس حماس کے

دلی ہائی کورٹ نے یاسین ملک کوسزائے موت دلوانے کیلئے درخواست کی سماعت 14فروری کو مقرر کر دی

?️ 5 دسمبر 2023نئی دلی: (سچ خبریں) دلی ہائیکورٹ نے بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی

کوپ 28 کانفرنس: متحدہ عرب امارات کا 30 ارب ڈالر کے کلائمٹ فنڈ کے قیام کا اعلان

?️ 2 دسمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) کوپ 28 کی دو روزہ عالمی موسمیاتی ایکشن سمٹ

روس یوکرین جنگ میں مصر کو 7 ارب ڈالر کا نقصان

?️ 16 مئی 2022سچ خبریں: مصری وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ روس کی یوکرین کے

سعودی سماجی کارکنوں کی اس ملک کی عدالتوں سے خطرہ

?️ 4 اگست 2022سچ خبریں:انسانی حقوق کی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ سعودی عدالتی

مقبوضہ علاقوں میں پناہ گاہیں دوبارہ کھول دی گئیں

?️ 5 مئی 2026سچ خبریں:  مقبوضہ فلسطین میں عدم تحفظ کے احساس کے بعد، مقبوضہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے