?️
لبنانی فوج کے اقدامات ناکافی،حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح ہونا ہوگا:صہیونی وزیر اعظم
صہیونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے لبنانی فوج کے اس بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، جس میں لبنان میں اسلحے کو ریاست کے اختیار تک محدود کرنے کے پہلے مرحلے کی تکمیل کا اعلان کیا گیا تھا، ان اقدامات کو ناکافی قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ جنگ بندی معاہدے کے مطابق حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح کیا جانا چاہیے۔
جمعرات کو ایرنا نے النشرہ کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ نیتن یاہو نے کہا: لبنانی حکومت اور فوج کے اقدامات ایک امید افزا آغاز ہیں، لیکن یہ کافی نہیں۔ امریکی حمایت یافتہ جنگ بندی معاہدہ حزب اللہ کے مکمل خاتمے پر واضح طور پر زور دیتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: لبنانی حکومت اور مسلح افواج کی کوششیں اگرچہ مثبت آغاز ہیں، تاہم ابھی مطلوبہ اہداف سے بہت دور ہیں۔ اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکی ثالثی میں طے پانے والا جنگ بندی معاہدہ بالکل واضح ہے اور اس کے مطابق حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح ہونا ہوگا۔
صہیونی وزیراعظم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حزب اللہ، ایران کی حمایت سے، دوبارہ مسلح ہونے اور اپنے فوجی ڈھانچے کی بحالی کی کوشش کر رہی ہے۔
اس سے قبل لبنانی فوج کی قیادت نے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ وہ پورے لبنان بالخصوص دریائے لیتانی کے جنوب میں امن و استحکام برقرار رکھنے کی ذمہ داری مکمل طور پر سنبھالنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ اقدامات تمام سکیورٹی اداروں کے تعاون، آئین، ملکی قوانین اور متعلقہ بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق اور کابینہ کے 5 اگست 2025 کے فیصلے کی روشنی میں کیے جا رہے ہیں۔
لبنانی فوج کے بیان میں کہا گیا کہ اسلحے کو ریاست کے دائرہ اختیار میں محدود کرنے کا منصوبہ، پہلے مرحلے کے اہداف کی تکمیل کے بعد ایک جدید مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ان اہداف میں فوج کی عملی تعیناتی کو مضبوط بنانا، اہم علاقوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانا اور جنوبی علاقوں میں ریاستی کنٹرول کا مؤثر نفاذ شامل ہے، سوائے ان مقامات کے جو اب بھی اسرائیلی قبضے میں ہیں۔
بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ فوج غیر پھٹے ہوئے گولہ بارود کو ناکارہ بنانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور آئندہ مراحل کے تعین کے لیے سپرِ وطن منصوبے کے پہلے مرحلے کا جامع جائزہ لیا جائے گا۔
لبنانی فوج نے اس امر پر زور دیا کہ اسرائیلی جارحانہ حملوں کا تسلسل، لبنانی سرزمین کے اندر بعض فوجی ٹھکانوں پر قبضہ، کچھ سرحدی بفر زونز کا قیام اور وعدہ کی گئی فوجی صلاحیتوں کی فراہمی میں تاخیر، یہ سب عوامل فوجی مشن کی تکمیل اور ریاستی اختیارات کے دائرہ کار میں توسیع میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
بیان کے آخر میں لبنانی فوج نے اقوام متحدہ کی امن فورس (یونیفل) اور جنگ بندی کی نگرانی کے نظام کے ساتھ مسلسل رابطے پر زور دیا اور جنوبی لبنان کے عوام کے تعاون کو سراہتے ہوئے اسے شہریوں اور فوجی ادارے کے درمیان باہمی اعتماد کی علامت قرار دیا۔


مشہور خبریں۔
کیا چین کا خطرہ حقیقی اور قریب الوقوع ہے ؟
?️ 31 مئی 2025سچ خبریں: امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے خبردار کیا ہے کہ
مئی
ٹک ٹاک پر فلٹرز اور افیکٹس بناکر پیسے کمانا ممکن
?️ 13 اکتوبر 2023سچ خبریں: شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک نے اپنے ’ایفیکٹ
اکتوبر
غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کا مختصر جائزہ
?️ 2 جون 2024سچ خبریں: اس باخبر ذریعے نے بتایا کہ جنگ بندی کے معاہدے کے
جون
غزہ جنگ میں امریکہ کے مشکل حالات پر شامی ماہر کا تجزیہ
?️ 11 دسمبر 2023سچ خبریں:العفیف نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد کے
دسمبر
پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس سے متعلق پی ٹی آئی کا کوئی پیغام نہیں ملا، یورپی یونین
?️ 14 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد میں یورپی یونین کے وفد نے
مارچ
اسرائیلی ابھی بھی شمال کو محفوظ نہیں سمجھتے
?️ 17 دسمبر 2024سچ خبریں: لبنان اور صیہونی حکومت کے درمیان جنگ بندی کے قیام کو
دسمبر
ڈسکہ: پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری
?️ 10 اپریل 2021لاہور(سچ خبریں)قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ میں پولنگ کا
اپریل
عراق "حشد الشعبی” قانون کیوں پاس نہیں کیا جا رہا؟ امریکہ ملوث ہے!
?️ 22 ستمبر 2025سچ خبریں: النصرۃ اتحاد کے ترجمان نے کہا کہ عراقی پارلیمنٹ میں
ستمبر