قطر پر اسرائیلی حملہ، ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی بنیاد بنا

قطر

?️

قطر پر اسرائیلی حملہ، ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی بنیاد بنا
 امریکی ویب سائٹ اکسیوس نے انکشاف کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ غزہ پلان کی جڑیں اس وقت رکھی گئیں جب اسرائیل نے تین ہفتے قبل قطر کو نشانہ بنایا۔ اس ناکام حملے کا مقصد مبینہ طور پر حماس کے رہنماؤں کو ختم کرنا تھا، لیکن اس نے عرب رہنماؤں کو متحد کر دیا اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر دباؤ بڑھایا کہ وہ جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی پر معاہدہ کریں۔
رپورٹ کے مطابق، ابتدا میں ٹرمپ کے مشیروں جیرڈ کوشنر اور اسٹیو وٹکاف نے اس حملے پر ناراضی ظاہر کی، مگر جلد ہی انہوں نے اسے بحران سے نکلنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے موقع کے طور پر پیش کیا۔ ٹرمپ کی منظوری کے بعد دونوں نے ایک جامع منصوبہ تیار کیا جس میں امریکہ کی موجودہ جنگ بندی تجویز اور کوشنر کا پرانا خاکہ، جس پر وہ سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے ساتھ کام کر چکے تھے، یکجا کر دیا گیا۔ نتیجہ ایک 21 نکاتی دستاویز تھی۔
قطر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر نیویارک میں ٹرمپ اور آٹھ عرب و مسلم ممالک کے رہنماؤں کی میٹنگ تجویز کی۔ اس اجلاس میں سبھی رہنماؤں نے اسرائیلی حملے پر سخت تنقید کی۔ ٹرمپ نے اس موقع پر اپنی ٹیم کا منصوبہ پیش کیا جسے ابتدائی طور پر مثبت ردعمل ملا۔ بعدازاں عرب ممالک اور اسرائیل کے ساتھ کئی نشستیں ہوئیں، تاہم متن میں ترامیم پر شدید اختلافات سامنے آئے۔
اکسیوس کے مطابق، نیتن یاہو اور ٹرمپ کی ٹیم کے درمیان کئی راؤنڈ کی بات چیت ہوئی، یہاں تک کہ ٹرمپ نے خود اسرائیلی وزیر اعظم سے پانچ بار فون پر رابطہ کر کے کہا کہ وہ کسی ’’ابہام‘‘ کے بغیر اس منصوبے کو قبول کریں۔ ٹرمپ نے یہاں تک یقین دہانی کرائی کہ اگر اسرائیل اس منصوبے کو مان لے اور حماس اس کی مخالفت کرے تو واشنگٹن مکمل حمایت کرے گا۔
اس دوران، عرب رہنماؤں نے بعض ترامیم مسترد ہونے پر ناراضی ظاہر کی اور قطری حکام نے ٹرمپ کو مشورہ دیا کہ منصوبے کو فوری طور پر منظرِ عام پر نہ لایا جائے۔ اس کے باوجود، صدر امریکہ نے اسے اعلان کر دیا۔
اکسیوس کے مطابق، اگرچہ ایک مشترکہ بیان میں منصوبے کا خیرمقدم کیا گیا، لیکن عرب رہنماؤں کا ماننا ہے کہ مذاکرات ابھی جاری ہیں اور کئی بنیادی نکات حل طلب ہیں۔ ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ کچھ تبدیلیاں ممکن ہیں، مگر ٹرمپ مجموعی منصوبے پر دوبارہ بات چیت کے موڈ میں نہیں۔ وہ بالخصوص قطر، مصر اور ترکی پر انحصار کر رہے ہیں تاکہ حماس کو اس منصوبے پر راضی کر سکیں۔

مشہور خبریں۔

سید حسن نصر اللہ اسرائیل کی کمزوریوں سے بخوبی واقف ہیں؛ سابق صیہونی وزیر اعظم کا اعتراف

?️ 8 مارچ 2022سچ خبریں:سابق اسرائیلی وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ سید حسن نصر اللہ

چین کے خلاف امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان کا مشترکہ بیان

?️ 2 اکتوبر 2022سچ خبریں:    جاپان کی وزارت دفاع نے اتوار کو اپنی ویب

واٹس ایپ نے صارفین  کی بڑی مشکل حل کر دی

?️ 6 ستمبر 2021سان فرانسسکو (سچ خبریں) دنیا کی مقبول ترین موبائل ایپلیکیشن واٹس ایپ

چیف جسٹس پاکستان کا عہدہ برقرار رہے گا۔ اعظم نذیر تارڑ

?️ 12 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ

امریکہ نے یمن میں جنگ بندی کا خیر مقدم کیا

?️ 2 اپریل 2022سچ خبریں:  وائٹ ہاؤس نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے یمن

ایران کا اسلامی انقلاب، اسلامی حکومت کی کامیاب مثال ہے: طالبان

?️ 9 فروری 2025سچ خبریں: ہرات میں طالبان کی وزارت خارجہ کے نائب نمائندے رحمت

غزہ کے سلسلے میں کینیڈا کا منافقانہ بیان

?️ 18 اکتوبر 2023سچ خبریں:کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے المعمدانی ہسپتال پر بمباری میں

برلن، واشنگٹن اور پیرس زیلنسکی کو کنٹرول کرتے ہیں: جرمن اخبار

?️ 23 اگست 2022سچ خبریں:    جرمن تجزیہ کار کرسٹوف شلٹز نے ڈائی ویلٹ اخبار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے