عرب اور عالم اسلام کے حوادث پر بن سلمان کی خاموشی

عرب

?️

سچ خبریں:سعودی حکومت کے ایک مخالف نے آل سعود حکومت کے جبروں کی شدت پر زور دیتے ہوئے عرب اور اسلامی دنیا کے نازک دور کے دوران سعودی ولی عہد کی مسلسل عدم موجودگی اور اس کی وجوہات کا انکشاف کیا۔
الواقائع السعودی کی رپورٹ کے مطابق آل سعود کی مخالفت کرنے والے ایک حجازی کارکن جمانه الصانع نے کہا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان عرب اور اسلامی دنیا کے ایک نازک وقت پر مستقل طور پر غیر حاضر تھے جبکہ اس وقت اس اہم اسلامی ریاست کےسخت موقف کی ضرورت تھی پر حقیقت کی حمایت کے اظہار میں سعودی عوام کے رد عمل کے باوجود اس ملک کے حکام کا مؤقف کمزور ہی رہا۔

الصانع نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عوام اورسماجی کارکن سعودی ولی عہد شہزادہ کے اقدامات کو مسترد کرتے ہیں اور اپنے مخالفین کے خلاف ان کے اقدامات سے خوفزدہ ہیں ، خاص طور پر مذکورہ سعودی کارکن نے بار بار ذرائع کو بتایا ہے کہ محمد بن سلمان نشے کے عادی ہیں نیز تنقیدی سعودی صحافی جمال خاشقجی ، کے قتل کے فیصلے میں ان کا اہم کردار تھا، سعودی حزب اختلاف نے کہا ہے کہ سعودی عوام صہیونیوں کے خلاف فلسطینیوں کی حمایت کرتے ہیں تو انھیں سخت سزا کا سامنا کرنا پڑٹا ہےجس میں طویل قید کی سزا اور بعض اوقات جھوٹے الزامات کے تحت پھانسی بھی شامل ہوتی ہے۔

جمانه الصانع نے مزید زور دے کر کہاکہ محمد بن سلمان کے طرز عمل متضاد ہیں، جب کچھ سعودی عہدے داروں نے مزاحمتی تحریک اور فلسطین کی حمایت کرنے پر ایران کا شکریہ ادا کرنے پر حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ پر حملہ کیا تو سعودی ولی عہد شہزادہ نے ایران کے ساتھ تعلقات کا ایک نیا باب کھولا اور ایران کے ساتھ تعاون کی خواہش ظاہر کی،ا نہوں نے کہاکہ محمد بن سلمان کی سربراہی میں سعودی عرب ایک بہت بڑی جیل بن گیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ دس سال قید کی سزا ان اعمال کی سزا ہے جو سعودی ولی عہد شہزادہ پسند نہیں کرتے ہیں ہیں جبکہ ان کی حکومت پر تنقید کرنے والوں کو 20 سال قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے اور جو لوگ حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہیں انہیں سزائے موت سنائی جاتی ہے،شائستہ اور پرامن مخالفت کی صورت میں لاش کے بھی ٹکڑے کر دیے جاتے ہیں، 2021 کی غزہ جنگ کے آغاز پر سعودی حکام نے ایک سعودی کارکن کو گرفتار کیا،کیونکہ اس نے سعودی جیلوں میں موجود فلسطینیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا،اس کا کیا حشر ہوا ابھی تک معلوم نہیں ۔

سعودی کارکن نے مسئلہ فلسطین کے سلسلہ میں محمد بن سلمان کی عدم موجودگی کی وجوہات اور ملک کے مسائل کے بارے میں مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ سیاسی نظریہ کے علاوہ ماہرین نے سعودی ولی عہد شہزادہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ملاقاتوں اور میڈیا میں اپنی موجودگی کو کم کریں، انہوں نے مزید وضاحت کیکہ منشیات کے استعمال سے ان کے طرز عمل پر غیر معمولی اثر پڑا ہے ، جبکہ میڈیا میں موجودگی کے دوران اس کے ہاتھ اور چہرے کی حرکتیں اس کی عکاسی کرتی ہیں، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آل سعود کے رشتہ داروں نے ریاستہائے متحدہ اور یورپ کے بہت سارے سیاستدانوں کو بتایا کہ محمد بن سلمان منشیات کا استعمال کرتے ہیں،’’ وائٹ ہاؤس کے اندر آگ اور غصہ‘‘ نامی کتاب میں امریکی مصنف مائیکل ولف نے لکھا ہے کہ محمد بن سلمان کوکین کے استعمال کے ساتھ ویڈیو گیم کی لت کے دائمی مسئلے کا شکار ہیں۔

 

مشہور خبریں۔

کربلا کے گورنر کا صدر آصف زرداری کو ظہرانہ، پائیدار تعاون کی اہمیت پر زور

?️ 23 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) صدر مملکت آصف علی زرداری کا دورہ عراق،

آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری: پاکستان نے ٹیکس آمدنی کا پلان پیش کردیا

?️ 15 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان قلیل

اسحاق ڈار کا آذربائیجان کے وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، شراکت داری کو مضبوط کرنے کا عزم دہرایا

?️ 10 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے

میٹا کا سوچ کو الفاظ میں تبدیل کرنے والی ٹیکنالوجی تیار کرنے کا دعویٰ

?️ 15 فروری 2025سچ خبریں: انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنی میٹا جو کہ فیس بک، انسٹاگرام اور

افغانستان میں روزانہ 20 ملین لوگ بھوکے سوتے ہیں: ورلڈ فوڈ پروگرام

?️ 15 مئی 2023سچ خبریں:افغانستان میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے ڈائریکٹر Hsiao Wei Li نے

فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے نسل پرستانہ جرائم کو بے نقاب کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے: ایمنسٹی انٹرنیشنل

?️ 4 فروری 2022سچ خبریں:ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سکریٹری جنرل نے کہا کہ یہ تنظیم فلسطینیوں

تعمیراتی منصوبوں میں خورد برد کیس: عدالت کا فواد چوہدری کو رہا کرنے کا حکم

?️ 1 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے جہلم پنڈ دادن خان

حکومتیں تو چھوڑیں شوگر مافیا کے سامنے فوج بھی کھڑی نہیں ہو سکتی، سابق چیئرمین ایف بی آر کا انکشاف

?️ 16 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے