عراق میں وائٹ ہاؤس کا خصوصی نمائندہ، اقتصادی ڈپلومیسی سے لے کر مزاحمتی اثر و رسوخ پر کنٹرول

اقتصادی

?️

عراق میں وائٹ ہاؤس کا خصوصی نمائندہ، اقتصادی ڈپلومیسی سے لے کر مزاحمتی اثر و رسوخ پر کنٹرول

امریکا نے عراقی امریکی پس منظر رکھنے والے مارک ساوایا کو عراق کے لیے اپنا نمایندۂ ویژه مقرر کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق ان کی ذمہ داری صرف سفارتی رابطوں تک محدود نہیں، بلکہ وہ عراق میں امریکا کے سیاسی،اقتصادی اور امنیتی نقش کو ازسرِنو مضبوط بنانے کی ماموریت بھی رکھتے ہیں۔
امریکی ذرائع کے مطابق ساوایا کی اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن کئی سال کی نظامی پس‌روی کے بعد اب غیرنظامی اور اقتصادی ابزارها کے ذریعے عراق میں اثرگذاری بڑھانا چاہتا ہے۔ ساوایا امریکی ریاست میشیگان میں پروان چڑھے اور طویل عرصہ نجی شعبے، خصوصاً سرمایہ‌کاری اور جدید صنعتوں میں سرگرم رہے ہیں۔ یہی پس منظر انہیں امریکا کے لیے “اقتصادی نفوذ” کے کارآمد چہرے کے طور پر پیش کرتا ہے۔
ساوایا کے لیے اولین چیلنج عراق کے حشد الشعبی اور دیگر مسلح گروہوں کے اثرورسوخ میں کمی لانا ہے وہ گروہ جنہیں واشنگٹن عراق کی سیاسی و امنیتی خودمختاری میں مزاحم سمجھتا ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ ساوایا بغداد کی سیاسی قیادت سے براہِ راست رابطے میں رہ کر ایسی فضا تشکیل دیں جس میں حکومت مرکزی سطح پر زیادہ مقتدر ہو سکے۔
اسی کے ساتھ ساوایا کو عراق کے علاقائی روابط، خصوصاً ان کشوروں کے ساتھ تعلقات، پر بھی اثرانداز ہونا ہوگا جن کی پالیسیوں کو واشنگٹن اپنی منطقه‌ای راهبرد کے مخالف سمجھتا ہے۔
ساوایا کی ماموریت کا دوسرا محور عراق کی اقتصاد و انرژی ہے۔ امریکا کوشش کر رہا ہے کہ اس کی تیل و گیس کمپنیاں ایک بار پھر عراق کے بڑے منصوبوں میں شامل ہوں اور وہ مارکیٹ جن پر چین، روس اور ایران اپنی موجودگی بڑھا رہے ہیں، دوبارہ واشنگٹن کے دائرہ نفوذ میں آ جائے۔ساوایا کا کام عراقی اقتصادی اداروں اور امریکی نجی سرمایہ‌کاروں کے درمیان فاصلے کم کرنا ہے تاکہ نئی سرمایہ‌کاری کی راہیں کھولی جا سکیں۔
تجزیہ‌کاروں کے مطابق ساوایا کی نامزدگی روایتی سفارتکاری سے ہٹ کر ایک ہم‌آهنگ‌کنندهٔ سیاسی امنیتی کردار کی نشاندہی کرتی ہے۔ ان سے توقع ہے کہ وہ عراق میں امریکی حکومتی اداروں  کے درمیان هماهنگی پیدا کریں اور بغداد کے فیصلہ‌سازی مراکز میں واشنگٹن کی اثرگذاری بڑھے۔
اہم چیلنجوں میں شامل ہیں:عراق کی امنیتی ساخت میں مقاومت گروہوں کا مؤثر کردار،عراقی حکومت بھی اپنی خارجہ پالیسی کو متوازن رکھنے کی کوشش میں ہے، جس سے واشنگٹن کی توقعات سے بعض اوقات تضاد پیدا ہو سکتا ہے۔
مارک ساوایا کے لیے عراق میں ماموریت صرف سفارتی تعیناتی نہیں، بلکہ امریکا کے لیے غربِ آسیا میں موازنهٔ قدرت کی بازتعریف کا اہم جز ہے۔ان کی کامیابی یا ناکامی نہ صرف بغداد واشنگٹن تعلقات پر اثر ڈالے گی بلکہ اس بات کا بھی تعین کرے گی کہ امریکا آئندہ برسوں میں عراق اور خطے میں اپنا اثرورسوخ دوبارہ قائم کر پاتا ہے یا نہیں۔

مشہور خبریں۔

شہبازشریف اور سعودی ولی عہد کی ملاقات، توانائی، تجارت اور نئے منصوبوں پر گفتگو

?️ 27 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہبازشریف اور سعودی ولی عہد محمد بن

پاکستانی آرمی چیف نے چینی اعلی حکام سے ملاقات کی

?️ 25 جولائی 2025پاکستانی آرمی چیف نے چینی اعلی سے ملاقات  پاکستان کے آرمی چیف

اپنے خلاف تلخ گفتگو اور بداخلاقی پر کوئی جواب نہیں دینا چاہتا، مولانا فضل الرحمان

?️ 15 جولائی 2025چارسدہ: (سچ خبریں) جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان

گرین لائن بس سروس 25 دسمبر سے شروع کرنے کا اعلان

?️ 28 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے کراچی گرین لائن بس سروس

وزیراعظم کے حکم پر ’کیش لیس اکانومی‘ کو فروغ دینے کیلئے کمیٹیاں قائم

?️ 24 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی ہدایت پر کیش

بغداد میں یہ سب کیا ہو رہا ہے ؟

?️ 11 ستمبر 2023سچ خبریں:عراق کے وزیر اعظم محمد شیاع السوڈانی نے اتوار کے روز

نیب نے ہاؤسنگ مقدمہ میں علیم خان کے خلاف تحقیقات بند کردیں

?️ 1 اگست 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی حکومت کے اتحادی اور نئی تشکیل کردہ جماعت

گلاسگو کانفرنس معاملے پروزیراعظم کا اہم فیصلہ

?️ 1 دسمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں)وزیرمملکت زرتاج گل اور ملک امین اسلم کے درمیان گلاسگو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے