?️
عراق میں ریکارڈ توڑ خشک سالی، زمینیں پیاسی، آنکھیں آسمان کی جانب
عراق اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین آبی بحران سے دوچار ہے۔ کم بارش، بڑھتا ہوا درجہ حرارت، آبادی میں اضافہ اور ترکی کی جانب سے دریائے دجلہ و فرات پر بند باندھنے کے باعث ملک میں خشک سالی نے خطرناک حد اختیار کر لی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، عراق میں پانی کے ذخائر گزشتہ ۸۰ برسوں میں سب سے نچلی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
عراقی نیوز چینل عراق 24 کے مطابق، ملک کا موجودہ آبی بحران صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی اور وجودی چیلنج بن چکا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ عراق نے صرف تین برسوں میں اپنی نصف زرعی زمینیں کھو دی ہیں، جبکہ وزارتِ آبی وسائل کے مطابق تقریباً ۲۷ ملین ہیکٹر اراضی اب قابلِ کاشت نہیں رہی۔ ماہرین کا خدشہ ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ۲۰۴۰ تک عراق ایک بے دریا ملک بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، موجودہ بحران کی جڑیں کئی دہائیوں پر محیط غلط آبی انتظام، مؤثر حکومتی منصوبہ بندی کی کمی، آبادی میں تیزی سے اضافہ، اور ترکی و ایران کی بند سازی پالیسیوں میں پیوست ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے کافی ڈیم اور ذخائر نہ ہونے سے بڑی مقدار میں پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ غیر قانونی جھیلوں کی تعمیر اور حقِ آبی تقسیم میں بد انتظامی نے بحران کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو زرعی زمینوں کی تباہی، بیابان زدگی، اور صاف پانی کی شدید قلت خاص طور پر جنوبی اور وسطی صوبوں میں پیدا ہو جائے گی۔
عراقی پارلیمنٹ کے رکن زہیر الفتلاوی نے ترکی پر عراق کے آبی حقوق پامال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بغداد کو "واضح سیاسی مؤقف” اپنانا چاہیے۔
ان کے مطابق، ترکی کا رویہ صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ سیاسی جارحیت کے زمرے میں آتا ہے، اور عراق کے پاس ترکی پر دباؤ ڈالنے کے کئی راستے موجود ہیں جن میں تجارتی تعلقات بھی شامل ہیں، کیونکہ ترکی کی معیشت بڑی حد تک عراق کے ساتھ تجارت پر انحصار کرتی ہے۔
ترکی تقریباً فرات کا ۹۰ فیصد اور دجلہ کا ۴۰ فیصد پانی کنٹرول کرتا ہے یہی دو دریا عراق کے ۹۸ فیصد سطحی پانی کا ذریعہ ہیں۔۱۹۸۵ میں ترکی نے ۲۲ ڈیمز پر مشتمل ایک بڑا ہائیڈرو پاور منصوبہ شروع کیا جس سے عراق میں آنے والے پانی کی مقدار میں ۸۰ فیصد کمی واقع ہوئی۔
یونیسف کی ۲۰۲۱ کی رپورٹ کے مطابق، ہر پانچ میں سے تین عراقی بچے صاف پینے کے پانی سے محروم ہیں۔عراق کے پانی کے مسائل میں داخلی بدانتظامی، آب و ہوا کی تبدیلی، اور ہمساہ ممالک کا دباؤ سب شامل ہیں۔
پروفیسر محمود صالح الخفاجی کے مطابق، یہ بحران نیا نہیں، بلکہ ۱۹۸۰ کی دہائی سے جاری ہے، اور اب شدت اختیار کر چکا ہے۔ ترکی کا مقصد واضح ہے وہ پانی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ترکی طویل عرصے سے یہ نعرہ لگا رہا ہے ہم پانی کی قیمت کو تیل کی قیمت کے برابر کرنا چاہتے ہیں جو ان کے بقول ترکی کے سیاسی عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عراق کے لیے سب سے بڑا چیلنج اب یہ ہے کہ وہ اس بحران کو موقع میں بدل سکے — نئے آبی ذخائر بنائے، خطے کے ممالک سے حقِ آبی معاہدے پر بات کرے، اور پانی کے مؤثر استعمال کے لیے پائیدار پالیسی اپنائے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
پاکستان کا اسرائیلی قابض افواج سے فلسطینیوں پر مظالم فوری بند کرنیکا مطالبہ
?️ 8 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی کا کہنا
اکتوبر
غزہ میں 10 لاکھ سے زائد بچے شدید نفسیاتی صدمے کا شکار: یونیسیف
?️ 27 اگست 2025 سچ خبریں: اقوام متحدہ کے ادارہ برائے کودکان (یونیسف) نے غزہ میں
اگست
لبنان کے شہر الخیام پر قبضہ کرنے میں اسرائیلی فوج ناکام
?️ 4 نومبر 2024سچ خبریں: لبنانی ذرائع کے مطابق صیہونی فوجیں گذشتہ چند دنوں سے
نومبر
رواں ہفتے ملک بھر میں ریکارڈ مہنگائی
?️ 19 اگست 2022اسلام آباد:( سچ خبریں)ملک میں 18 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے
اگست
سید علی گیلانی نے شہید کا رتبہ پایا ہے: شیخ رشید
?️ 2 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے شیخ
ستمبر
بھارت سے کشیدگی کی واحد وجہ کشمیرہے: وزیراعظم
?️ 16 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بھارت
فروری
حکومت کا چیمپئنز ٹرافی کے دوران سیکیورٹی کیلئے پاک فوج کی تعیناتی کا فیصلہ
?️ 9 فروری 2025لاہور: (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025
فروری
الیکشن سے متعلق غیر ملکی نصیحتوں کی ضرورت نہیں، ترجمان دفتر خارجہ
?️ 15 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا
فروری