?️
چین اور بھارت خود فیصلہ کریں کہ روسی تیل خریدیں یا نہیں:روس
روسی صدارتی محل کریملن کے ترجمان دیمتری پسکوف نے کہا ہے کہ روس دنیا کو اعلیٰ معیار کی توانائی مصنوعات پرکشش قیمتوں پر فراہم کر رہا ہے، تاہم یہ فیصلہ چین اور بھارت پر منحصر ہے کہ وہ روس سے تیل اور گیس خریدنا چاہتے ہیں یا نہیں۔
روسی خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق، پسکوف نے یہ بات منگل، کو اس وقت کہی جب ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ آیا ماسکو نے بیجنگ اور نئی دہلی کے رہنماؤں سے واشنگٹن کے اس دباؤ پر بات کی ہے کہ وہ روسی تیل و گیس کی خرید بند کریں۔
کریملن کے ترجمان نے کہا "ہم بہت سے ممالک، جن میں چین اور بھارت بھی شامل ہیں، کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھتے ہیں۔ ہم اپنی مصنوعات مسابقتی معیار اور دلکش قیمتوں پر پیش کرتے ہیں، لیکن آخرکار خرید کا فیصلہ خود ان ممالک پر منحصر ہے۔
انہوں نے اس معاملے پر مزید تفصیلات دینے سے گریز کیا، البتہ کہا کہ روس، چین اور بھارت کے درمیان جاری معاشی منصوبوں پر مختلف امور پر بات چیت جاری ہے۔
روسی تیل اور گیس کی برآمدات پر حالیہ عرصے میں امریکہ اور یورپی اتحادیوں کی جانب سے شدید دباؤ دیکھا گیا ہے۔امریکہ نے روسی توانائی کمپنیوں روس نیفٹ (Rosneft) اور لوک آئل (Lukoil) پر نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے انہیں اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے ان اقدامات کو "غیر دوستانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماسکو کسی دباؤ میں آکر فیصلے نہیں کرے گا۔
اسی دوران، یورپی یونین نے بھی اپنا انیسواں پابندی پیکج منظور کیا ہے، جس میں روسی تیل و گیس کمپنیوں کے ساتھ ساتھ اُن جہازوں پر بھی نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جنہیں "روس کا سایہ بیڑہ” قرار دیا گیا ہے۔
روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے ان پابندیوں کو "غیرقانونی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین خود تسلیم کر رہی ہے کہ ان کے اقدامات غیر مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔
پسکوف نے یورپی ممالک کی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "یورپی یونین کے اندر سنگین تضادات واضح طور پر نظر آ رہے ہیں”۔ان کے بقول، کیف مالی امداد کے لیے مسلسل التجا کرتا رہے گا، اور یورپی ممالک کو طویل مدت تک یوکرین کی حمایت کے اخراجات برداشت کرنے ہوں گے۔
کریملن کے ترجمان نے مزید کہا کہ یورپی اقدامات، خصوصاً روسی اثاثوں سے متعلق فیصلے، خود یورپی یونین کے مستقبل پر منفی اثر ڈالیں گے۔
لیتھوانیا کے صدر کی جانب سے کالینینگراد جو روس کا ایک جغرافیائی طور پر جدا صوبہ ہے — کے لیے سامان کی ترسیل محدود کرنے کی تجویز پر، پسکوف نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہاکالینینگراد روس کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس کے ساتھ رابطے ہمیشہ محفوظ رہیں گے۔
روسی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، بالٹک ممالک مسلسل روس مخالف پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں اور کالینینگراد کو محاصرے میں لینے جیسے اقدامات تجویز کر رہے ہیں، جو بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
حکومت اور پیپلز پارٹی کی مذاکرات
?️ 22 جون 2024سچ خبریں: پنجاب میں پاور شیئرنگ کے مسئلے پر حکومت اور پیپلز
جون
ٹرمپ کا تجارتی جنگ سے حاصل آمدنی میں سے امریکیوں پر پیسے نچاور
?️ 10 نومبر 2025ٹرمپ کا تجارتی جنگ سے حاصل آمدنی میں سے امریکیوں پر پیسے
نومبر
افغانستان میں ذلت آمیز شکست سے عبرت حاصل نہیں کی:چین کا امریکہ سے خطاب
?️ 17 اگست 2022سچ خبریں:چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے افغانستان سے امریکی انخلا کا
اگست
وزیر خارجہ نے کشمیر پریمیئر لیگ پر بھارتی رد عمل کا جواب دیا
?️ 3 اگست 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے غیر ملکی
اگست
وفاقی وزیر اوورسیز چوہدری سالک حسین کا تمام ممالک سے اسرائیل کے بائیکاٹ کا مطالبہ
?️ 2 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر برائے اوور سیز پاکستانی چوہدری سالک
اکتوبر
غزہ اور لبنان میں جنگ بندی کے بارے میں مصر اور سعودی عرب کا بیان
?️ 17 اکتوبر 2024سچ خبریں: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے قاہرہ دورے کے
اکتوبر
مخصوص نشستوں پر نظرثانی کیس ،جسٹس منصور علی شاہ نے درخواستوں کے دائرہ کار پر اہم فیصلہ جاری کر دیا
?️ 6 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) مخصوص نشستوں پر نظرثانی کیس میں درخواستوں کے
مئی
اشرف غنی نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے افغانستان کو طالبان کے حوالے کردیا
?️ 16 اگست 2021کابل (سچ خبریں) افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اپنی شکست تسلیم
اگست