?️
عالمی تنقید کے سائے میں اسرائیلی وزیر خارجہ کا دورۂ واشنگٹن
ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی وزیر خارجہ گدعون سعر شدید بین الاقوامی دباؤ اور بڑھتی ہوئی عالمی تنہائی کے ماحول میں آج رات واشنگٹن روانہ ہو رہے ہیں۔ وہ اپنے اس دورے کے دوران امریکی وزیر خارجہ، قومی سلامتی کے مشیر اور یہودی کمیونٹی کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔
اسرائیلی ٹی وی چینل چینل ۷ کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور اقوام متحدہ نے بھی اس المیے کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گدعون سعر بدھ کے روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے واشنگٹن میں ملاقات کریں گے۔ یہ ان کا نومبر ۲۰۲۴ میں وزارتِ خارجہ کا قلمدان سنبھالنے کے بعد پہلا دورۂ امریکہ ہے، تاہم رواں سال فروری میں وہ مقبوضہ فلسطین میں امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات کر چکے ہیں۔
مزید اطلاعات کے مطابق، وہ امریکی وزیرِ داخلی سلامتی کریسٹی نوم سے بھی ملاقات کریں گے۔ علاوہ ازیں وہ کانفرنس آف پریزیڈنٹس آف میجر امریکن جیوش آرگنائزیشنز” میں شرکت کریں گے جہاں pro-Israel لابی AIPAC کے رہنما اور مسیحی صہیونی تنظیموں کے نمائندے بھی موجود ہوں گے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسرائیل کو عالمی سطح پر سخت تنقید اور بڑھتی ہوئی تنہائی کا سامنا ہے۔ یورپی ممالک کے متعدد رہنماؤں بشمول جرمن چانسلر اور فرانسیسی صدر نے اسرائیلی حملوں کو ناقابلِ قبول اور المناک قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ برطانیہ، فرانس، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت ۱۲ سے زائد ممالک نے اعلان کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے آئندہ اجلاسوں میں فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کی حمایت کریں گے۔
اقتصادی میدان میں بھی اسرائیل کو مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی یورپی سرمایہ کاروں نے غزہ میں انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے پر اسرائیلی اداروں کے ساتھ مالی تعلقات منقطع کر دیے ہیں۔ ناروے کے دو کھرب ڈالر سے زائد اثاثوں کے حامل خودمختار فنڈ نے اسرائیل سے اپنی سرمایہ کاری نکال لی ہے۔ ناروے کے وزیرِاعظم کے بقول اسرائیل کی عالمی ساکھ حتیٰ کہ اپنے اتحادیوں کے درمیان بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔
اس صورتحال نے تل ابیب کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ اگر عالمی دباؤ اسی طرح بڑھتا رہا تو ملک کو ہتھیاروں کی برآمد پر پابندی، سفری مراعات کی منسوخی اور بین الاقوامی فورمز سے محرومی جیسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق، یہ بحران اسرائیل کے قیام کے بعد سے سب سے سنگین سفارتی و سیاسی تنہائی ہے، اور اسی سے نکلنے کے لیے اسرائیلی حکام ایک بار پھر امریکہ اور اس کے حامی لابیوں کے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
لیبیا کے انتخابات میں خلیفہ حفتر اور قذافی صیہونی حکومت کے دو اہم آپشن
?️ 19 نومبر 2021سچ خبریں:خلیفہ حفتر اور قذافی نے تل ابیب کے حکام کو صیہونی
نومبر
صیہونیوں میں غزہ جنگ کے جھٹکے
?️ 23 مئی 2021سچ خبریں:عبرانی زبان کے میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فوجی
مئی
مارچ میں مہنگائی میں 35.37فیصد اضافہ، 1965 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
?️ 1 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان کے ادارہ شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق ملک
اپریل
مقبوضہ کشمیر میں گروپ20 اجلاس کا انعقاد ایک گہری سازش ہے، غلام احمد گلزار
?️ 28 اپریل 2023سری نگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و
اپریل
ہم احتجاج جاری رکھیں گے: نیتن یاہو کے مخالفین
?️ 30 مارچ 2023سچ خبریں:مخالف صہیونیوں نے اس بات پر زور دیا کہ انہوں نے
مارچ
مزاحمت کا واضح انتباہ
?️ 20 فروری 2025سچ خبریں: آج فلسطینی مزاحمت کاروں نے غزہ کے خلاف جنگ کے دوران
فروری
ایران پر امریکی حملے نے دنیا کو سنگین جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا، پی ٹی آئی
?️ 22 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ ایران
جون
14مئی کو الیکشن نہ ہونے کا یقین، مسلم لیگ (ن) نے امیدواروں کوپارٹی ٹکٹ ہی نہیں دیا
?️ 21 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) طاقتور حلقوں کی ’یقین دہانیوں‘ کی بنیاد پر کہ
اپریل