ضرورت پڑنے پر افغانستان کی سرزمین کے اندر کارروائی کریں گے:پاکستانی وزیر دفاع 

ضرورت پڑنے پر افغانستان کی سرزمین کے اندر کارروائی کریں گے:پاکستانی وزیر دفاع 

?️

ضرورت پڑنے پر افغانستان کی سرزمین کے اندر کارروائی کریں گے:پاکستانی وزیر دفاع
اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان کی سرحدوں کی خلاف ورزی کی گئی یا حملہ ہوا تو پاکستان بھرپور جواب دے گا، اور اگر ضرورت پیش آئی تو افغانستان کی سرزمین کے اندر تک کارروائی کی جائے گی۔
جمعرات کی صبح اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور سرحدی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوئی تو ہم خاموش نہیں رہیں گے، ہم جواب دیں گے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ترکی کے شہر استنبول میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق پاکستانی وفد واپسی کے لیے تیار تھا مگر ترک میزبانوں کی درخواست پر قیام میں توسیع کی گئی ہے، کیونکہ افغان وفد نے اپنے مؤقف پر نظرِ ثانی کی یقین دہانی کرائی ہے۔
خواجہ آصف نے الزام لگایا کہ مذاکرات کی ناکامی میں بھارت کا کردار ہے، اور کہا کہ طالبان کی ٹیم نے غیر سنجیدہ رویہ اختیار کیا۔ ان کے بقول، طالبان ہمارے بیشتر مطالبات مانتے ہیں مگر وہ کوئی تحریری ضمانت دینے پر آمادہ نہیں۔
دوسری جانب، پاکستان کے وزیرِ اطلاعات نے بدھ کو اعلان کیا تھا کہ مذاکرات کسی عملی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے، اور حکومت پاکستان اپنی عوام کے تحفظ کے لیے ہر قدم اٹھائے گی۔
ذرائع کے مطابق، پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کو پاک–افغان سرحد پر ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، اور صورتِ حال میں کسی ممکنہ بگاڑ کے خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے مذاکرات کی ناکامی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ دوبارہ شروع نہیں ہوگی۔
یاد رہے کہ استنبول مذاکرات، دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد دوسرا بڑا دور تھا، جس میں دونوں ممالک نے حالیہ سرحدی جھڑپوں کے بعد جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔
پاکستان نے افغانستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دہشت گرد گروہوں، خصوصاً تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرے، جبکہ کابل اس بات پر زور دے رہا ہے کہ اسلام آباد براہِ راست پاکستانی طالبان سے مذاکرات کرے  تاہم پاکستانی وفد نے واضح کیا کہ "پاکستان دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں کرتا” اور کابل کو دہشت گردی کے خاتمے کے اپنے وعدوں پر عملدرآمد کرنا چاہیے۔

مشہور خبریں۔

کشمیری عوام کو دہائیوں سے انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کا سامنا ہے: شمیم شال

?️ 9 مارچ 2023جنیوا: (سچ خبریں) کشمیری نمائندہ شمیم شال نے اقوام متحدہ کے ہائی

کچھ لوگ لبنان میں آگ بھڑکانے کے لیے لکڑیاں ڈھونڈھ رہے ہیں: سید حسن نصراللہ

?️ 19 مارچ 2021سچ خبریں: حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے لبنان

قطر نے سویڈن کو کیسے سبق سکھایا؟

?️ 29 جولائی 2023سچ خبریں: سویڈش مصنوعات کے بائیکاٹ میں ایک قطری اسٹور کی کاروائی

اسرائیلی فوج کی ریزرو فورس کا نیا بحران

?️ 17 اکتوبر 2024سچ خبریں: غزہ سے اسرائیلی قیدیوں کی واپسی سمیت اپنے اہداف حاصل کیے

امریکہ کے تباہ کن رویے شامیوں میں عدم تحفظ اور عدم استحکام کا باعث

?️ 26 جنوری 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ میں شام کے مستقل نمائندے بسام الصباح نے اس

آرمینیا اور امارات کے درمیان تجارت میں اضافے کا راز

?️ 7 جنوری 2025سچ خبریں: گزشتہ سال کے پہلے 9 مہینوں میں امارات کے ساتھ آرمینیا

تیسری عالمی جنگ شروع کرنے کے لیے نیٹو کی نقل وحرکت

?️ 5 مارچ 2022سچ خبریں:یوکرائن کے کچھ حصوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے روسی

حکومت کا زیرِ حراست 290 بلوچ مظاہرین کو رہا کرنے کا دعویٰ

?️ 25 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ جبری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے