?️
صیہونیت کے لیے لابنگ کا آغاز؛ وہ حکمتِ عملیاں جنہوں نے امریکہ میں انتخابی اثر و رسوخ کی راہ ہموار کی
چوتھا صیہونی کانگریس جو لندن میں منعقد ہوا، نہ صرف تھیوڈور ہرزل کے نظریات کی پرزرق و برق نمائش تھی بلکہ وہ نقطۂ آغاز بھی ثابت ہوا جس نے منظم لابنگ کے ذریعے برطانیہ اور بعد ازاں امریکہ میں صیہونی اثر و رسوخ کی راہ ہموار کی۔ یہی لابنگ بعد میں اعلان بالفور کے اجراء اور اسرائیل کے قیام کے حق میں سازگار ماحول پیدا کرنے کا ذریعہ بنی۔
انیسویں صدی کے اختتام پر جب فلسطین ایک نئے دور میں داخل ہو رہا تھا، صیہونیت ایک بیرونی تحریک کے طور پر ابھری جس کی جڑیں یورپ میں انجیلی مسیحی تحریکوں سے جا ملتی تھیں۔ یہ تحریک یهودیوں کی فلسطین واپسی کو مسیح کی دوبارہ آمد کے لیے ضروری سمجھتی تھی۔ برطانیہ اور امریکہ میں اس سوچ کے حامی سیاسی و سماجی میدان میں سرگرم تھے۔
اسرائیلی مورخ ایلان پاپے اپنی کتاب لابنگ برائے صیہونیت اٹلانٹک کے دونوں کناروں پر میں لکھتے ہیں کہ ایک صدی سے زیادہ کی صیہونی لابنگ نے کس طرح امریکی اور برطانوی سیاستدانوں کو اس بات پر قائل کیا کہ اسرائیل کے لیے غیر مشروط حمایت ضروری ہے، چاہے اس کے نتیجے میں فلسطینیوں کے بنیادی حقوق نظرانداز ہی کیوں نہ ہوں۔
1900 میں منعقدہ چوتھا صیہونی کانگریس پہلی بار برطانیہ میں ہوا۔ ہرزل اگرچہ بیمار تھے مگر وہ لندن پہنچے تاکہ صیہونیت کو محض فکری حلقوں سے نکال کر برطانوی سیاست اور میڈیا میں مرکزی نکتہ بنایا جائے۔
کانگریس کا انعقاد اگرچہ مشرقی لندن کے غریب علاقے میں ہوا، لیکن اسے ایک شاہانہ ضیافت میں بدل دیا گیا جہاں یورپی یہودی اشرافیہ اور میڈیا نمائندگان مدعو تھے۔ کھانے پینے سے لے کر کارڈ دعوت تک ہر چیز صیہونی پروپیگنڈے کا حصہ تھی۔ شراب تک فلسطین کی یہودی بستی "ریشون لتسیون” سے منگوائی گئی تھی۔
ہرزل نے اپنی تقریروں میں واضح کیا کہ یہودیوں کے خلاف یورپ میں بڑھتی ہوئی نفرت اور پوگرومز کا واحد حل فلسطین میں ایک یہودی ریاست ہے۔ انہوں نے برطانیہ کو یقین دلایا کہ ایسی ریاست نہ صرف مشرق وسطیٰ میں برطانیہ کے مفادات کو محفوظ کرے گی بلکہ مغربی تہذیب کے لیے ایشیا میں ایک ثقافتی اڈہ بھی ثابت ہوگی۔
اخبار مانچسٹر کورئیر نے لکھا کہ یہودی ریاست کا قیام ایشیائی سیاست میں "استحکام” لائے گا۔ اس طرح صیہونی تحریک نے برطانوی استعمار کے تعصبات اور مفادات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی بنیادیں مضبوط کیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس کانگریس میں فلسطینی عوام کا کوئی ذکر نہ کیا گیا حالانکہ اس وقت وہ آبادی کا 90 فیصد تھے۔ ہرزل اور دیگر رہنماؤں نے ان کی موجودگی کو یا تو غیر اہم سمجھا یا پھر یہ گمان کیا کہ انہیں زبردستی تسلیم کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
چوتھا کانگریس فدراسیون صیہونی برطانیہ کے زیرِ اہتمام ہوا جو 1899 میں قائم کی گئی تھی۔ اس تنظیم نے نہ صرف اس تقریب کو کامیاب بنایا بلکہ برطانوی پارلیمان میں باقاعدہ لابنگ کا آغاز بھی کیا۔
اراکینِ پارلیمان کو سوالنامے بھیجے گئے جن میں پوچھا گیا کہ وہ صیہونی تحریک کے بارے میں کیا مؤقف رکھتے ہیں۔ جن سیاستدانوں نے حمایت کی یقین دہانی کرائی، فدراسیون نے وعدہ کیا کہ ان کے حلقوں میں صیہونی برادری ان کی انتخابی مہم میں بھرپور مدد کرے گی۔
یہی حکمتِ عملی بعد میں امریکہ میں آئیپیک (AIPAC) کے انداز کی لابنگ کی بنیاد بنی، جہاں سیاستدانوں کی حمایت یا مخالفت کا دارومدار ان کے اسرائیل مخالف یا حامی مؤقف پر طے کیا جانے لگا۔
یہی منظم لابنگ بعد میں اعلان بالفور (1917) پر منتج ہوئی، جو فلسطین کی سرزمین پر صیہونی قبضے کی راہ ہموار کرنے والا سب سے اہم سیاسی بیان تھا۔ اگرچہ یہ صرف ایک خط تھا، مگر حقیقت میں وہ صیہونی لابنگ کی 12 سالہ محنت کا حاصل تھا۔
یوں لندن کانگریس محض ایک اجتماع نہیں تھا بلکہ ایک ایسے عمل کا نقطۂ آغاز تھا جس نے جدید صیہونی لابنگ کو جنم دیا اور بالآخر مشرق وسطیٰ کے نقشے کو ہمیشہ کے لیے بدل ڈالا
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
امریکی بحری جہازوں کی روانگی سے صیہونی حکومت کے بحران میں اضافہ
?️ 2 جنوری 2024سچ خبریں:عبرانی زبان کی والہ نیوز ویب سائٹ نے اعلان کیا کہ
جنوری
غزہ فلسطینی سرزمین ہے، اسرائیلی فوج کو وہاں سے نکلنا ہوگا:سابق صیہونی وزیر اعظم
?️ 31 مئی 2025سچ خبریں:صیہونی ریاست کے سابق وزیر اعظم ہہود اولمرٹ نے کہا ہے
مئی
صدر مملکت آصف علی زرداری 4 نومبر کو اہم ترین دورے پر چین روانہ ہوں گے
?️ 29 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) صدر مملکت آصف علی زرداری نومبر کے پہلے
اکتوبر
اسرائیل کی اندرونی مشکلات اتنی ہی اہم ہیں جتنا ایران کا خطرہ: گینٹز
?️ 6 جون 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے سابق وزیر جنگ بنی گانٹز نے پیر کے
جون
افغانستان میں مسلسل دو دھماکے، متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے
?️ 15 مارچ 2021کابل (سچ خبریں) ایک طرف جہاں امریکہ اور طالبان کے مابین امن
مارچ
سعودی عرب، یو اے ای، ٹرمپ اور نیتن یاہو کو یمن کی واضح وارننگ
?️ 27 فروری 2025سچ خبریں: یمن کے وزیر دفاع محمد ناصر العاطفی نے اس بات
فروری
امت اسلامیہ کی حفاظت کے لیے امام خمینی کا ایک بےنظیر کارنامہ
?️ 1 اکتوبر 2023سچ خبریں:اسلامی انقلاب کی فتح کے آغاز میں اسلامی جمہوریہ ایران اور
اکتوبر
وزیر داخلہ کا اہم بیان، عمران خان مدت پوری کریں گے
?️ 10 جولائی 2021راولپنڈی(سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ اپوزیشن
جولائی