?️
شام میں بڑھتے ہوئے بحران سے ترکیہ کی مشکلات میں اضافہ
ترکیہ شام کے بحران میں مسلسل بڑھتی ہوئی مشکلات کا شکار ہے۔ امریکا کی متضاد پالیسیوں اور اسرائیل کے جارحانہ اقدامات نے انقرہ کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اسے اپنی خارجہ حکمتِ عملی کو واشنگٹن کے فیصلوں سے ہم آہنگ کرنا پڑ رہا ہے۔
ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے حالیہ بیان میں کہا کہ شام میں ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے، لیکن ترکیہ کو درپیش مسائل میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ان کے یہ خدشات اس وقت سامنے آئے جب امریکا کے خصوصی ایلچی ٹام باراک نے دمشق میں غیرمرکزی حکومت کی حمایت کی، جو براہِ راست شامی کرد گروہوں کے مطالبات سے مطابقت رکھتی ہے۔ یہ مؤقف انقرہ کے لیے خطرناک سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ ترکیہ اسے ایک "چھوٹی دہشتگرد ریاست” کے قیام کی کوشش قرار دیتا ہے۔
شام میں کرد ملیشیا قسد اور دیگر گروہ غیرمرکزی نظام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ صالح مسلم نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر دمشق ان کے مطالبات نہ مانا تو وہ دوبارہ آزادی کی تحریک شروع کریں گے۔ ترکیہ کے حکومتی رہنما عمر چلیک نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ دراصل صہیونی اور سامراجی منصوبے ہیں، اور انقرہ کسی بھی قیمت پر ایسی ریاست قائم نہیں ہونے دے گا۔
ترک تجزیہ نگاروں کے مطابق، اسرائیل نہ صرف کرد گروہوں بلکہ دروزیوں اور دیگر اقلیتوں کی بھی حمایت کر رہا ہے۔ اسرائیلی حکام نے کئی بار کھلے عام کہا ہے کہ وہ شام کے جنوبی حصوں میں شامی فوج کو برداشت نہیں کریں گے۔ ان حالات نے انقرہ کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے کہ شام کی تقسیم کی کوششیں تیز ہو چکی ہیں۔
صدر رجب طیب اردوغان نے اپنے حالیہ بیانات میں واضح کیا کہ ترکیہ شام کی ارضی سالمیت کے خلاف کسی سازش کو برداشت نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تلواریں نکل آئیں تو بات چیت اور قلم کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیغام براہِ راست اسرائیل اور کرد ملیشیا دونوں کے لیے تھا۔
انقرہ اس وقت صبرِ اسٹریٹیجک اور سفارتی دباؤ کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے تاکہ شام میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کو قابو میں رکھا جا سکے۔ لیکن قسد کی بڑھتی ہوئی قربت اسرائیل کے ساتھ اس امکان کو مزید بڑھا رہی ہے کہ ترکیہ کسی وقت براہِ راست فوجی کارروائی کرے۔
ترکیہ کی حزبِ مخالف سے تعلق رکھنے والے کرد رہنما تونجای باقرخان نے کہا کہ غیرمرکزی نظام جمہوری حل کا حصہ ہے اور اس سے شام میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ترکیہ کو بھی تشدد کے بجائے سیاسی عمل پر توجہ دینی چاہیے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
پاکستان: اسرائیل کا غزہ سے مکمل انخلاء دیرپا امن کے لیے شرط ہے
?️ 18 نومبر 2025سچ خبریں: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے نے اس بات
نومبر
11 ملین برطانوی اپنے روز مرہ کے اخراجات ادا کرنے سے قاصر
?️ 20 مئی 2023سچ خبریں:انگلینڈ کے سب سے بڑے مالیاتی ادارے نے اعلان کیا کہ
مئی
انقرہ-ابوظہبی تعلقات میں وسعت؛ یمن جنگ میں ترک ہتھیاروں کا استعمال
?️ 20 فروری 2022سچ خبریں:متحدہ عرب امارات ترکی سے ہتھیار خریدنے اور انہیں یمن کے
فروری
کھنڈرات کی تعمیر نو پر اسرائیل کے لیے 4 بلین شیکل لاگت
?️ 18 دسمبر 2024سچ خبریں: عبرانی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ مقبوضہ اراضی کے
دسمبر
بلاول بھٹو سے پی پی رہنماؤں کی ملاقات، کامیاب سفارتی دورے پر مبارکباد دی
?️ 24 جون 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے
جون
جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن؛ بھارت کی فوجی برتری یا پاکستان کی جوہری ڈیٹرنس؟
?️ 28 اپریل 2025 سچ خبریں:بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور
اپریل
غزہ کی تعمیر نو کے لیے 50 سے 80 ارب ڈالر درکار، مدت 16 سے 80 سال تک متوقع
?️ 11 اکتوبر 2025غزہ کی تعمیر نو کے لیے 50 سے 80 ارب ڈالر درکار،
اکتوبر
الیکشن کا اعلان یا معاشی بحران پر قابو پانے کا عزم،آج اتحادیوں سے مشورت ہو گی
?️ 16 مئی 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وزیراعظم شہباز شریف حکومتی اتحادیوں کے ساتھ جلد ہی مشاورتی
مئی