سڈنی میں فائرنگ کے بعد اسرائیل کا آسٹریلیا پر سخت تنقید

سڈنی

?️

سڈنی میں فائرنگ کے بعد اسرائیل کا آسٹریلیا پر سخت تنقید

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں یہودیوں کی مذہبی تقریب ہنوکا کے دوران ہونے والی مہلک فائرنگ کے بعد اسرائیلی حکام نے آسٹریلوی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مبصرین کے مطابق، اسرائیل کا یہ سخت ردعمل صرف سڈنی کے واقعے تک محدود نہیں بلکہ غزہ میں جاری جنگ کے دوران اسرائیل پر لگنے والے نسل کشی کے الزامات اور عالمی تنہائی کا بھی عکاس ہے۔

اتوار کو سڈنی کے ساحلی علاقے بونڈائی میں منعقد ہونے والی ہنوکا تقریب میں فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم دس افراد ہلاک ہو گئے، جن میں یہودی مذہبی تحریک خباد کا ایک مقامی نمائندہ بھی شامل تھا۔ تقریب میں تقریباً دو ہزار افراد شریک تھے اور یہ واقعہ آسٹریلیا میں یہودیوں کے خلاف ہونے والے سنگین ترین حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

اس واقعے کے بعد اسرائیلی حکام نے غیر معمولی سخت زبان استعمال کرتے ہوئے آسٹریلوی حکومت کو موردِ الزام ٹھہرایا۔ اسرائیل کے وزیر برائے امورِ ڈایاسپورا، عامیخائی شیکلی نے الزام عائد کیا کہ آسٹریلیا میں اسرائیل مخالف مظاہروں کی اجازت دے کر یہود دشمنی کو “معمول” بنا دیا گیا، جس کے نتیجے میں یہ خونی حملہ ہوا۔ انہوں نے اس واقعے کی براہِ راست ذمہ داری آسٹریلوی حکومت پر ڈال دی۔

اسی طرح اسرائیلی وزیرِ مواصلات شلومو کرعی نے کہا کہ مغربی ممالک کی بے عملی اور فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں نے دنیا بھر میں یہود دشمنی کو بڑھاوا دیا ہے۔ وزیرِ تعلیم یوآو کیش نے آسٹریلیا کے فلسطین کو تسلیم کرنے کے فیصلے کو “خطرناک پیغام” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتائج اب سامنے آ رہے ہیں۔

اسرائیلی وزیرِ خزانہ بتسلئیل اسموتریچ اور دیگر سخت گیر رہنماؤں نے اس واقعے کو سات اکتوبر کے حملوں سے جوڑتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں یہودیوں کے خلاف نفرت میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ اور سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ نے بھی آسٹریلیا کو اس حملے کا ذمہ دار قرار دیا۔

دوسری جانب عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ردعمل کی شدت دراصل غزہ جنگ کے بعد پیدا ہونے والی عالمی فضا کا نتیجہ ہے۔ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو متعدد ممالک، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عوامی حلقوں کی جانب سے “جنگی جرائم” اور “نسل کشی” قرار دیا جا چکا ہے، جس کے خلاف دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہو رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اسرائیل اب دنیا میں یہودیوں کے خلاف ہونے والے ہر واقعے کو عالمی نفرت سے جوڑ کر اپنی عالمی ساکھ بہتر بنانے اور غزہ جنگ سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے، حالانکہ سڈنی واقعے کی اصل وجوہات اور حملہ آور کے محرکات تاحال واضح نہیں ہو سکے۔

مشہور خبریں۔

ادلب اور حماہ کے نواحی علاقوں میں درجنوں دہشت گرد ہلاک

?️ 3 دسمبر 2024سچ خبریں:شام کی وزارت دفاع نے ادلب اور حماہ کے نواحی علاقوں

حالیہ میزائل حملے میں ایران کی برتری کیا تھی؟الجزیرہ کی زبانی

?️ 3 اکتوبر 2024سچ خبریں: الجزیره نیوز ایجنسی نے سپاہ پاسداران کی طرف سے میزائل

سعد رضوی ٹی ایل پی کے مرکز مسجد رحمت اللعالمین میں خطاب بھی کریں گے

?️ 18 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ترجمان

نیتن یاہو نے جنگ کا ڈھول بجا دیا

?️ 7 ستمبر 2025سچ خبریں: اسرائیلی وزیراعظم نے غزہ شہر پر حملوں کے تسلسل اور

مودی،اردوغان اور بن سلمان سمیت37 سربراہان صحافت کی آزادی کے دشمن افراد کی فہرست میں شامل

?️ 7 جولائی 2021سچ خبریں:نریندر مودی، طیب اردوغان اور محمد بن سلمان سمیت 37 سربراہان

داعش وسطی ایشیا اور روس میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں میں ہے:روس

?️ 15 اکتوبر 2021سچ خبریں:روسی صدر کا کہنا ہے کہ شمالی افغانستان میں داعش کے

پاکستان کا ایک بار پھر امریکی جمہوریت کے اجلاس میں شرکت سے انکار

?️ 28 مارچ 2023سچ خبریں:حکومت پاکستان نے دوسری بار امریکی صدر کی میزبانی میں ورچوئل

روس نے شام پر اسرائیلی حملہ غیر مشروط طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا

?️ 30 جون 2022سچ خبریں:   اقوام متحدہ میں روس کے نائب نمائندے دمتری پولیانسکی نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے