سعودی عرب میں ناکام پیٹریاٹ سسٹم کی جگہ آئرن ڈوم لگانے کی تیاریاں

سعودی عرب

?️

سچ خبریں:یمنی مجاہدین کے میزائلوں اور ڈرونوں کے مقابلہ میں امریکی "پیٹریاٹ” ہوائی دفاعی نظام کی ناکامی کی وجہ سے صہیونی حکومت کی نئی کابینہ نے اپنے نام نہاد آئرن ڈوم کو سعودی عرب کو بیچ کر اس ملک میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
پچھلے کچھ سالوں میں جب سے یمنی مجاہدین نے مختلف سطح سے سطح تک مار کرنے والےبیلسٹک میزائل اور ڈرون بنانے اور استعمال کرنے کی ٹکنالوجی حاصل کی ہے ، اس خطے میں سعودی جارحیت پسندوں اور ان کے اتحادیوں کے ستارے گردش میں نظر آرہے ہیں ۔

واضح رہے کہ سعودیوں کا ایک مسئلہ مہنگے پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کی ناکامی ہے جو ابھی تک یمنی مجاہدین کے حملوں کے خلاف بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکا ہے لہذا سعودی یمنیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک اور فضائی دفاعی نظام کو استعمال کرنے کے درپے ہیں۔

یہ بات صیہونیوں نے بہت اچھی طرح بھانپ لی ہے تبھی انھوں نے سعودیوں کو نام نہاد آئرن ڈوم لگانے کی پیش کش کی، البتہ اس تجویز کو پیش کرنے میں صہیونی عہدیداروں کا بنیادی ہدف آل سعود کے ساتھ کسی سمجھوتہ تک پہنچنا ہے ، اسی طرح کا اقدام صیہونیوں نے پچھلے سال15ستمبرکو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات قائم اور سمجھوتہ کرنے میں کیا تھاجس کے بعد بحرین نے بھی انھیں کے قدموں پر قدم رکھا۔

صیہونی اخبار یدیؤت آہرونٹ نے دو دن قبل اعلان کیا تھا کہ اسرائیل جلد ہی سعودی عرب کو ایک بہت ہی دلچسپ پیش کش کرے گا، عبرانی زبان کے اخبار کے مطابق امریکہ کا خطے سے اپنے دفاعی نظام واپس لینے پر اصرار اسرائیل کو ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ امریکی نظاموں کی جگہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں اپنے آئرن ڈوم کو لگائے اگرچہ سعودی عرب نے غیر فعال اور مہنگے امریکی پیٹریاٹ دفاعی نظاموں کے انخلا کے اعلان کے بعد 10 کے قریب یمنی ڈرونوں کو مار گرانے کا دعوی کیا ہے لیکن یقینی طور پر اس میں یمنی مجاہدین کے میزائلوں اور ڈرونوں کا مقابلہ کرنے کی اتنی صلاحیت نہیں ہےاور 14 ستمبر ، 2019 کو سعودی تیل کی تنصیبات پر حملے کی کہانی کو دہرا یا جاسکتا ہے۔

یادرہے کہ اسرائیلی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ یئرلاپڈ کے متحدہ عرب امارات کے دورہ کے موقع پر شائع ہونے والے اس کالم میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اسرائیل اور خلیج فارس کے جنوبی خطے کے ممالک کے مابین تعاون حاصل کیا جاسکتا ہے جس میں متحدہ عرب امارات اور بحرین کو مشترکہ مفادات کی بنیاد پر دیکھا جاسکتا ہے اور اب جب اس خطے سے امریکی میزائل دفاعی نظام واپس لیا جارہا ہے تو اسرائیل کو ان کی جگہ آئرن ڈوم سسٹم پیش کرنے کی پیش کش کرنی چاہئے۔

قابل ذکر ہے کہ صہیونی حکام کی جانب سے سعودی عرب میں صیہونی حکومت کے فضائی دفاعی نظام کو پیٹریاٹ سسٹم کی جگہ تبدیل کرنے کی تجویز ایسے وقت میں دی جارہی ہے جبکہ21 مئی کو ختم ہونے والی 12 روزہ جنگ میں فلسطینی اسلامی مزاحمت کے 4000 میزائلوں کے خلاف صیہونی حکومت کی فوج بہت غیر موثر رہی جس کا اس ریاست کے حکام نے بھی اعتراف کیا۔

 

مشہور خبریں۔

شام کے بارے میں سعودی عرب کا کیا موقف ہے؟

?️ 19 ستمبر 2023سچ خبریں: سعودی حکومت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی

عمران خان نے نئے وزیراعظم آزاد کشمیر کا انتخاب کر لیا

?️ 14 اپریل 2023لاہور: (سچ خبریں) چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان  نے آزاد کشمیر کے نئے

یورپ کو ایک بڑے بحران کا سامنا: فرانس

?️ 10 اکتوبر 2022سچ خبریں:     ایسے میں جب یورپی ممالک میں توانائی کی قیمتوں

مسئلہ کشمیرکے حل کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا:وزیر خارجہ

?️ 6 اگست 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ

چینی آئی پی پیز پاکستان میں بڑے بیرونی سرمایہ کار ہیں، وفاقی وزیر خزانہ

?️ 13 اکتوبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا

اسرائیل خطے میں امریکہ کا نہ ڈوبنے والا طیارہ 

?️ 30 جولائی 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت کے وزیر برائے اسٹریٹجک امور درمر نے امریکہ

یوکرین میں موت کے خوفناک اسرار

?️ 19 اگست 2023سچ خبریں:دنیا بھر میں امریکی حیاتیاتی تجربہ گاہوں کی سرگرمیاں ایک ایسا

سعودی سفارت کار افغانستان سے نکلنے کے بعد پاکستان میں آباد

?️ 7 فروری 2023سچ خبریں:دو خبری ذرائع نے بتایا کہ کابل میں حملوں کے بڑھتے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے