?️
سال 2026 کا آغاز، امن، سکون اور عالمی بحرانوں کے حل کی نئی امید
دنیا کے مختلف حصوں میں نئے سال کی آمد کے ساتھ ہی 2026 کا آغاز ہو گیا ہے۔ یکم جنوری کی نصف شب دنیا بھر کے دارالحکومتوں اور بڑے شہروں میں سالِ نو کی تقریبات منعقد ہوئیں، جہاں جشن اور خوشی کے لمحات کے ساتھ ساتھ دیرینہ عالمی بحرانوں کے سائے بھی نمایاں رہے۔ اس کے باوجود عالمی رائے عامہ میں امن، استحکام، سکون اور سفارتی پیش رفت کی نئی امید ابھر کر سامنے آئی ہے۔
دنیا بھر میں لوگ اپنے اپنے مقامی رسم و رواج کے مطابق نئے سال کا استقبال کر رہے ہیں۔ برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں ہزاروں شہریوں اور غیر ملکی سیاحوں نے دریائے ٹیمز کے کنارے، ویسٹ منسٹر کے علاقے میں واقع ’’لندن آئی‘‘ کے قریب جمع ہو کر سال 2025 کو رخصت اور 2026 کا خیر مقدم کیا۔
جوں جوں نصف شب قریب آئی، ٹیمز کے جنوبی کنارے کی طرف جانے والے راستوں پر رش بڑھتا گیا۔ پولیس اور شہری خدمات کے اہلکاروں نے سکیورٹی، ہجوم کے نظم و نسق اور آمد و رفت کی نگرانی کے لیے مختلف مقامات پر انتظامات کیے۔ لندن آئی کے اطراف نئے سال کی تقریبات سن 2000 سے دارالحکومت کی ایک مستقل روایت بن چکی ہیں۔
یورپ کے دیگر دارالحکومتوں اور بڑے شہروں میں، جو ایک گھنٹہ پہلے نئے سال میں داخل ہو چکے تھے، عوامی مقامات اور تاریخی عمارتوں کے اطراف موسیقی، روشنیوں اور آتش بازی کے ساتھ سال نو منایا گیا۔ مشرقی ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے میں یہ تقریبات اس سے بھی پہلے مکمل ہو چکی تھیں اور یوں سال نو کی لہر مشرق سے مغرب کی جانب دنیا بھر میں پھیلتی گئی۔
سال 2026 کا آغاز ایسے وقت میں ہوا ہے جب عالمی سیاست میں جغرافیائی رقابتیں، جنگیں، انسانی بحران اور بین الاقوامی نظام کی ازسرِ نو تشکیل کی کوششیں بدستور جاری ہیں۔ گزشتہ سال کے متنازع واقعات میں ایران پر فوجی حملے اور اس کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا ایک سنگین مثال کے طور پر سامنے آیا، جس پر عالمی جوہری ادارے نے تحفظات کا اظہار کیا، تاہم سیاسی سطح پر ردعمل محدود رہا۔
اسی طرح یوکرین کی جنگ بدستور مشرق اور مغرب کے درمیان کشیدگی کا مرکزی محور بنی رہی، جبکہ غزہ میں جاری انسانی بحران نے مغربی دنیا کے انسانی حقوق کے دعوؤں کو کڑی آزمائش میں ڈالے رکھا۔ سال 2025 کے دوران یوکرین جنگ کسی حتمی حل تک نہ پہنچ سکی اور دونوں فریقین کو بھاری جانی و سیاسی نقصان اٹھانا پڑا۔
عالمی معیشت نے بھی گزشتہ سال کمزور اور غیر یقینی نمو کا سامنا کیا، جس کی شرح تقریباً 2.8 فیصد رہی۔ بلند قرضوں، کم سرمایہ کاری، جغرافیائی کشیدگی اور تجارتی تنازعات نے معاشی بحالی کو محدود رکھا۔
اس کے باوجود سال کے ابتدائی لمحات میں سوشل میڈیا پر مبارک باد کے پیغامات کا سلسلہ جاری رہا۔ کئی مغربی رہنماؤں نے اپنے مختصر پیغامات میں امید، یکجہتی، صحت اور بہتر مستقبل پر زور دیا۔ یورپی کمیشن کی صدر نے عزم اور امید برقرار رکھنے کی بات کی، جبکہ برطانوی وزیراعظم نے بھی گزشتہ برس کی طرح مثبت تبدیلی کے عزم کا اظہار کیا۔
ان حالات میں بیجنگ سے لندن، نیویارک اور دنیا کے دیگر شہروں تک نئے سال کا جشن منانے والے لاکھوں افراد اس امید کے ساتھ 2026 میں داخل ہوئے ہیں کہ یہ سال جنگوں اور انسانی بحرانوں میں کمی، معاشی دباؤ میں نرمی اور عالمی سیاست میں سفارتکاری کے مضبوط کردار کا سال ثابت ہو۔

مشہور خبریں۔
پاکستانی فلم ’جوائے لینڈ‘ نے ایک اور عالمی ایوارڈ اپنے نام کرلیا
?️ 5 مارچ 2023کراچی: (سچ خبریں) عالمی سطح پر خوب پذیرائی سمیٹنے والی ایوارڈ یافتہ
مارچ
غزہ کے ہسپتالوں کے بارے میں اسرائیل کا دعویٰ جھوٹا
?️ 4 نومبر 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت نے غزہ کی پٹی کے اسپتالوں میں حماس
نومبر
غزہ میں امریکی کمپنی کو امداد تقسیم کرنے کی اجازت؛صیہونی حکومت کا دعویٰ
?️ 18 مئی 2025 سچ خبریں:صیہونی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک
مئی
پاکستان کا بھارت کیلئے اپنی فضائی حدود مزید ایک ماہ بند رکھنے کا فیصلہ، نوٹم جاری
?️ 20 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان نے بھارت کے لیے اپنی فضائی حدود مزید
اگست
نیتن یاہو کی بربریت نے ٹرمپ کی آواز بھی نکال دی
?️ 22 جولائی 2025سچ خبریں: اسرائیلی وزیر اعظم کی گرمجوشی اور نسل کشی سفاکیت کی
جولائی
آئی ایم ایف سے اربوں ڈالر مالیت کے نئے 3سالہ قرض پروگرام پر بات کریں گے، وزیر خزانہ
?️ 16 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ
اپریل
سیول: ایران کے خلاف ٹرمپ کا دعویٰ ثابت نہیں ہوا
?️ 6 مئی 2026سچ خبریں: جنوبی کوریا کی حکومت، جو واشنگٹن کے دباؤ میں آبنائے
مئی
احسن اقبال نے پیپلز پارٹی پر لگائے الزام
?️ 27 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) اپوزیشن لیڈر کو لے کر پی ڈٰی ایم شدید
مارچ