برطانیہ میں خاندانی بحران، والدین کے خلاف نوجوانوں کے تشدد میں خطرناک اضافہ

?️

برطانیہ میں خاندانی بحران، والدین کے خلاف نوجوانوں کے تشدد میں خطرناک اضافہ

برطانیہ میں خاندانی نظام کو درپیش بحران کی ایک تشویشناک تصویر سامنے آئی ہے، جہاں نوجوانوں کی جانب سے والدین کے خلاف تشدد کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ لندن پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے ابتدائی دس مہینوں میں ایسے تین ہزار سے زائد کیسز درج ہوئے، جو ماہرین کے نزدیک معاشی دباؤ اور مہنگائی کے بحران کا براہِ راست نتیجہ ہیں۔

میٹروپولیٹن پولیس کی رپورٹ کے مطابق 2015 میں والدین کے خلاف نوجوانوں کے تشدد کے کیسز کی تعداد تقریباً 1,886 تھی، جو ایک دہائی کے دوران بتدریج بڑھتی رہی اور 2025 میں صرف دس ماہ کے اندر 3,090 سے تجاوز کر گئی۔ ان مقدمات میں ملوث مشتبہ افراد کی عمریں 10 سے 17 سال کے درمیان تھیں، جبکہ متاثرین ان کے والدین یا سوتیلے والدین تھے۔

سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تشدد اکثر رپورٹ ہی نہیں ہوتا، کیونکہ والدین سماجی بدنامی اور شرمندگی کے خوف سے پولیس یا اداروں سے رجوع نہیں کرتے۔ اس لیے اندراج شدہ اعداد و شمار اصل مسئلے کا صرف ایک حصہ ظاہر کرتے ہیں۔

تحقیقی جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ دہائی کے دوسرے نصف میں اس رجحان میں بتدریج اضافہ ہوا، جبکہ کورونا وبا کے دوران اس میں نمایاں تیزی آئی۔ 2020 میں لاک ڈاؤن کے دوران کیسز کی تعداد 2,400 سے تجاوز کر گئی اور اس کے بعد بھی یہ رجحان برقرار رہا۔ 2023 اور 2024 میں کیسز تین ہزار سے اوپر رہے اور 2025 میں بھی یہی سطح برقرار ہے۔

سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگرچہ والدین میں آگاہی بڑھنے اور رپورٹنگ کا رجحان بھی اس اضافے کی ایک وجہ ہے، تاہم اصل عوامل میں بڑھتی غربت، روزمرہ اخراجات میں اضافہ، اور نوجوانوں کی توقعات اور خاندانوں کی مالی استطاعت کے درمیان بڑھتا ہوا فرق شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق کئی والدین اس وقت مدد حاصل کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جب تشدد جسمانی یا شدید نفسیاتی نقصان کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سماجی خدمات اور ذہنی صحت کے اداروں تک محدود رسائی، بالخصوص حکومتی کفایت شعاری کی پالیسیوں کے باعث، بروقت مداخلت کو مشکل بنا رہی ہے۔

کورونا وبا کے اثرات بھی اب تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اسکولوں کی بندش، گھریلو تعلیم، اور بچوں کا سماجی معاون نیٹ ورکس سے کٹ جانا بعض خاندانوں میں ذہنی دباؤ اور گھریلو تنازعات میں اضافے کا باعث بنا۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ برطانیہ میں والدین کے خلاف نوجوانوں کا تشدد محض ایک گھریلو مسئلہ نہیں بلکہ گہرے سماجی و معاشی مسائل کا عکس ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک مہنگائی، غربت اور کمزور سماجی تحفظ جیسے مسائل حل نہیں ہوتے، خاندانی عدم تحفظ اور تشدد کا یہ رجحان مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مزید 3 ہزار 747 کیسز سامنے آئے ہیں

?️ 5 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی)

جولان کی پہاڑیوں سے چار F16 طیاروں سے دمشق پر اسرائیلی حملہ

?️ 20 فروری 2023سچ خبریں:لاذقیہ میں روس کے مصالحتی مرکز کے نائب اولیگ گورینوف نے

ہر دن نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور میں اس کے لیے تیار ہوں:وزیر اعظم عمران خان

?️ 9 مارچ 2022(سچ خبریں)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جمعہ کو خیبر

سعودی ہٹ دھرمی کا پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا: انصار اللہ

?️ 15 جولائی 2026سچ خبریں:انصار اللہ یمن کے رہنما علی العماد نے کہا ہے کہ

تل ابیب کی پالیسیوں نے حماس کی طاقت میں اضافہ کیا: صہیونی میڈیا

?️ 18 فروری 2026سچ خبریں:صہیونی میڈیا کے مطابق تل ابیب کی پالیسیوں کی وجہ سے

سمرقند شنگھائی تنظیم کے ممالک کے صدور کے اجلاس کا میزبان

?️ 9 ستمبر 2022سچ خبریں:     شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے صدور کا

تل ابیب اور ویٹیکن کے درمیان تلخ تعلقات ؛ وجہ؟

?️ 23 جولائی 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی ویٹیکن کے پوپ

رائٹرز: بھارت پاکستان میں پانی کی آمد کو کم کرنا چاہتا ہے

?️ 16 مئی 2025سچ خبریں: رائٹرز نے ایک خصوصی رپورٹ میں لکھا ہے کہ کشمیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے