?️
دو سال میں اسرائیل کی سیاست کیسے خطرناک بحران میں بدل گئی؟
ایک معروف صہیونی تجزیہ کار نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل نے گزشتہ دو برسوں میں ایسی غلط پالیسی اختیار کی جس کے نتیجے میں وہ تمام "مواقع” جو 7 اکتوبر 2023 کے بعد تل ابیب کے لیے ممکن دکھائی دے رہے تھے، اب سنگین سیکورٹی اور سیاسی خطرات میں تبدیل ہو گئے ہیں۔
ہاآرتص کے سینئر تجزیہ کار تسفی بارئیل نے اپنے مضمون میں لکھا کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو مسلسل دعویٰ کرتے ہیں کہ غزہ کی جنگ نے مشرق وسطیٰ کا نقشہ بدل دیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کو مختلف محاذوں پر جو کچھ حاصل ہوا، وہ صرف تاکتیکی نوعیت کا تھا، جبکہ علاقائی تبدیلیاں نیتن یاہو کے وعدوں کے برعکس منفی سمت میں گئیں۔
تجزیہ کے مطابق، نیتن یاہو نے جنگ کے آغاز میں نئے خاورمیانہ کی نوید سنائی تھی اور کہا تھا کہ اسرائیل سعودی عرب کے ساتھ ایک تاریخی امن معاہدے کے دہانے پر ہے، لیکن ایک ماہ بعد ہی طوفان الاقصیٰ آپریشن نے تمام حسابات الٹ دیے۔
بارئیل لکھتے ہیں کہ دو سال بعد بھی نہ تو امن کی کوئی صورت نظر آ رہی ہے اور نہ ہی خطے میں استحکام کے آثار۔ اس کے برعکس، اسرائیل کے اقدامات نے اسے مزید تنہائی اور کمزوری کی طرف دھکیل دیا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خلاف اسرائیل کی حکمتِ عملی ناکام رہی۔ اگرچہ اسد کے مخالف دھڑے سرگرم تھے، لیکن روس کی حمایت سے دمشق حکومت اب بھی اقتدار پر قائم ہے اور اسرائیل کی کارروائیوں کی آزادی محدود ہو چکی ہے۔
لبنان میں بھی صورتحال اسرائیل کے حق میں نہیں گئی۔ اگرچہ حزباللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ کی شہادت کے بعد تنظیم کو دھچکا لگا، لیکن وہ سیاسی طور پر بدستور مضبوط ہے۔ نئی لبنانی حکومت نے اسلحہ کے حوالے سے کچھ اقدامات کیے ہیں، مگر حزباللہ کا اثر ختم نہیں ہوا، اور اگر طاقت کے استعمال کی کوشش کی گئی تو نئے خانہ جنگی کا خطرہ موجود ہے۔
تجزیہ کار کے مطابق، ایران کے حوالے سے بھی اسرائیل کو کوئی واضح کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ ایران نے اپنی جوہری پالیسی پر کسی قسم کی پسپائی قبول نہیں کی، اور اگر مغربی ممالک نے دوبارہ عالمی پابندیاں نافذ کرنے کی کوشش کی تو اس کے نتیجے میں علاقائی ایٹمی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔
تسفی بارئیل نے لکھا کہ غزہ، لبنان، شام، ایران اور یمن کے محاذوں پر اسرائیل کے تمام اقدامات صرف عارضی یا محدود کامیابیاں تھیں، جنہیں کسی بڑی اسٹریٹجک پالیسی میں تبدیل نہیں کیا جا سکا۔
ان کے بقول، نیتن یاہو کا خواب ایک مشترکہ اسرائیلی، عرب اور امریکی دفاعی اتحاد حقیقت کا روپ نہ دھار سکا۔ اس کے بجائے اب ایک نیا عرب اتحاد وجود میں آیا ہے جو اسرائیل کو خطے کے استحکام کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔
رپورٹ کے اختتام پر بارئیل نے کہا کہ اسرائیل آج اس مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں مصر، اردن اور امارات کے ساتھ اس کے امن معاہدے اپنی آخری حدوں تک جا چکے ہیں، جبکہ عرب دنیا فلسطین کو تسلیم کرنے کے لیے متحد ہو رہی ہے۔ نتیجتاً، اسرائیل اب ایک ایسے منقسم معاشرے میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں اس کے شہری، ماہرین اور دانشور خود اپنے ملک میں ناپسندیدہ عناصر بن گئے ہیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
خلیج فارس کے عرب ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے خواہاں:سی این این
?️ 24 اگست 2022سچ خبریں:امریکی نیوز چینل نے خلیج فارس کی جنوبی سرحد کے عربوں
اگست
لبنانی سرزمین پر قبضہ جاری رکھنے کے لیے اسرائیل کے ۴ بہانے
?️ 5 جنوری 2025سچ خبریں: عبرانی میڈیا کے فوجی نمائندے، رائے کیٹس نے ہفتے کی
جنوری
پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے ٹیلی وژن نیٹ ورک اے بی سی کا لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ کر دیا
?️ 19 نومبر 2025 پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے ٹیلی وژن نیٹ ورک اے
نومبر
وزیراعظم نےسپریم کورٹ میں پیش ہونے کا فیصلہ کر لیا
?️ 10 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ کے احترام
نومبر
فواد چوہدری کو ایک اور اہم وزارت مل گئی
?️ 15 اپریل 2021اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر
اپریل
برکس کثیر قطبی دنیا کے عناصر میں سے ایک
?️ 17 ستمبر 2024سچ خبریں: اٹلی کے شہر میلان میں کیتھولک یونیورسٹی آف سیکرڈ ہارٹ
ستمبر
اسمگلنگ کی روک تھام سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت درآمدات میں 79 فیصد کمی
?️ 14 جنوری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان کی جانب سے ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ
جنوری
بیروت اور تل ابیب کے درمیان سمندری تنازع میں واشنگٹن کے اسرائیلی ثالث کے انتخاب میں پس پردہ حقائق
?️ 5 اکتوبر 2021سچ خبریں:لبنان اور مقبوضہ فلسطین کے درمیان سمندری سرحد کی حد بندی
اکتوبر