دمشق اور تل ابیب کے درمیان سیکیورٹی معاہدے کے امکانات میں اضافہ

دمشق

?️

دمشق اور تل ابیب کے درمیان سیکیورٹی معاہدے کے امکانات میں اضافہ
اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ شام اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ سیکیورٹی معاہدے سے متعلق مذاکرات میں حالیہ ہفتوں کے دوران نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جس کے باعث قریبی مستقبل میں کسی معاہدے کے طے پانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
اسرائیلی چینل 15 نے شامی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ شام کی عبوری حکومت اور اسرائیل کے درمیان سیکیورٹی معاہدے پر ہونے والی بات چیت میں قابلِ ذکر پیش رفت ہوئی ہے۔ ان ذرائع نے، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھی، بتایا کہ معاہدے پر دستخط کا امکان پہلے سے کہیں زیادہ ہو چکا ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی چینل 12 نے رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی خصوصی ایلچی ٹام باراک سے ملاقات میں عندیہ دیا ہے کہ وہ شام کے ساتھ سیکیورٹی مذاکرات کی قیادت کے لیے جلد ایک نئے نمائندے کا تقرر کریں گے۔ یہ نمائندہ اسٹریٹجک امور کے سابق وزیر ران درمر کی جگہ لے گا، جو نومبر میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں۔
ران درمر نے استعفیٰ دینے سے قبل دمشق کے ساتھ چار دور کے سیکیورٹی مذاکرات کیے تھے، تاہم ان کے استعفے کے بعد یہ بات چیت تعطل کا شکار ہو گئی تھی۔ امریکی حکام کے مطابق، ٹام باراک نے نیتن یاہو پر زور دیا کہ مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں اور یہ بھی پوچھا کہ اسرائیل کی جانب سے اب اس عمل کی قیادت کون کرے گا۔
ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے بتایا کہ نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ درمر اب اس فائل کے ذمہ دار نہیں ہوں گے، اسی لیے وہ کسی ایسے شخص کو مقرر کرنا چاہتے ہیں جس کا سیکیورٹی پس منظر مضبوط ہو۔
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب حالیہ ہفتوں کے دوران جنوبی شام میں اسرائیلی حملے معمول بن چکے ہیں، جن میں زمینی یلغار، چیک پوسٹوں کا قیام، وسیع پیمانے پر تباہی اور شامی شہریوں کی ہلاکتیں شامل ہیں۔
امریکی حکام نے بھی اعتراف کیا ہے کہ نیتن یاہو کی حالیہ کارروائیوں نے شام میں عدم استحکام کو مزید بڑھایا ہے اور واشنگٹن کی جانب سے دمشق اور تل ابیب کے درمیان نئے سیکیورٹی معاہدے کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل شام کی عبوری حکومت کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے کہا تھا کہ جب تک اسرائیل شامی سرزمین کے نئے حصوں پر قبضہ جاری رکھے گا، دمشق کے لیے سیکیورٹی مذاکرات کا جاری رکھنا ممکن نہیں۔

مشہور خبریں۔

دہشت گردی کا خدشہ، سیکیورٹی ایجنسیوں کی فی الوقت عام انتخابات نہ کروانے کی تجویز

?️ 11 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات پر بدستور بے یقینی

یمن پر اقوام متحدہ کی رپورٹ

?️ 5 اکتوبر 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ کے انسانی امور کے دفتر نے ایک رپورٹ میں

دنیا میں متحدہ عرب امارات اورفرانس کی شراکت داری کے راز

?️ 1 نومبر 2021سچ خبریں: متحدہ عرب امارات اور فرانس کے درمیان ایک مشکوک کثیر سطحی

غیر ملکی میڈیا نے افغانستان کو سیاہ کر دیا: طالبان

?️ 13 دسمبر 2021سچ خبریں:  طالبان کے نائب ترجمان انعام اللہ سمنگانی نے کہا کہ

ملک بھر میں کرونا سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ

?️ 30 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) کورونا سے متعلق سرکاری ویب سائٹ کے مطابق پچھلے

عمران خان استعفیٰ نہیں دیں گے:شیخ رشید

?️ 30 مارچ 2022اسلام آباد (سچ خبریں)وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد خان  نے اسلام

صحت کارڈ کے حامل مریضوں کو علاج کی رقم واپس نہیں کرنی ہوگی: فیصل سلطان

?️ 4 جنوری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر

جی-7 ممالک نے یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان

?️ 17 نومبر 2024سچ خبریں:جی-7 ممالک کے رہنماؤں نے یوکرین میں جنگ کے 1000 دن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے