حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے میں ناکامی پر تل ابیب سیخ پا ہوگیا

حزب اللہ

?️

حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے میں ناکامی پر تل ابیب سیخ پا ہوگیا

رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے حالیہ دنوں میں اس بات پر شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے کہ لبنانی فوج حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے پر مؤثر انداز میں عمل نہیں کر سکی۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ تل ابیب نے اس سلسلے میں امریکہ سے باضابطہ شکایت کی ہے اور بیروت کو یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر پیش رفت نہ ہوئی تو فضائی حملوں کا دائرہ مزید وسیع کر دیا جائے گا۔

روسیہ الیوم نے اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی حکام نے نہ صرف اعتراضات واشنگٹن تک پہنچائے بلکہ بیروت کو ایک سخت پیغام بھی ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیروی ہوائی اسرائیل مستقبل میں اپنے حملوں میں اضافہ کر سکتی ہے۔

بین الاقوامی دباؤ کے باعث لبنانی حکومت نے پہلی بار وہ تفصیلات جاری کی ہیں جن میں دکھایا گیا ہے کہ فوج جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف خلع سلاح کے منصوبے پر کس حد تک عمل کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں فوج نے چند صحافیوں کو ان زیر زمین سرنگوں تک رسائی بھی دی جو حال ہی میں دریافت کی گئی ہیں اور جنہیں حزب اللہ کے اہم ٹھکانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایک مغربی سفارتی ذریعے نے روزنامہ ہاآرتص کو بتایا کہ یہ سرنگ ماہ ہاے اخیر میں دریافت ہوئی اور اسے ستمبر میں منظور ہونے والے خلع سلاح منصوبے کے تحت سامنے لایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے اس منصوبے کی تکمیل کے لیے ایک حتمی مدت مقرر کر رکھی ہے جس میں چند ہفتے باقی ہیں۔

ادھر اطلاعات ہیں کہ سابق امریکی انتظامیہ کے نمائندہ خصوصی مورگان اورٹاگوس اس ہفتے تل ابیب اور بیروت کا دورہ کریں گے۔ دوسری جانب اسرائیل کی اعلیٰ ترین سکیورٹی قیادت میں بھی لبنان کی صورت حال پر مسلسل اجلاس ہو رہے ہیں اور مقامی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ آئندہ دنوں میں پاپ لیون چهاردهم کے متوقع دورہ لبنان کے تناظر میں عسکری حکمت عملی میں تبدیلیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ تل ابیب نے پاپ کے دورے کے دوران عالمی توجہ کے پیش نظر حملوں میں وقتی کمی کی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے یکم اکتوبر دو ہزار چوبیس کو لبنان کے خلاف نئی جارحیت کا آغاز کیا تھا اور دو ماہ بعد امریکی میانجیگری سے سات دسمبر کو جنگ بندی ہوئی لیکن اسرائیل نے وقفے وقفے سے اس کی خلاف ورزی جاری رکھی۔ معاہدے کے مطابق اسرائیل کو ساٹھ دن میں جنوبی لبنان سے اپنی تمام عسکری پوزیشنیں خالی کرنا تھیں مگر اس نے پانچ اہم مقامات پر قبضہ برقرار رکھا۔

لبنان کے صدر جوزف عون نے حال ہی میں یورپی یونین کی نمائندہ برائے حقوق بشر کاجسا اولنگرن سے ملاقات میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل پر دباؤ بڑھایا جائے تاکہ وہ حملوں اور معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کو روکے۔ صدر عون کا کہنا تھا کہ آتش بس کو ایک سال مکمل ہونے کو ہے مگر لبنان کی مکمل پابندی کے باوجود اسرائیل اپنی جارحیت جنوب سے آگے دیگر علاقوں تک پھیلا چکا ہے۔

مشہور خبریں۔

لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر پی ٹی آئی کا رد عمل

?️ 30 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)پی ٹی آئی  کے رہنماؤں نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب

حکومت نے آٹے کی قمیت میں کمی کرنے کے لئے کوشش شروع کر دی

?️ 12 ستمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں)  معاون خصوصی فوڈ سکیورٹی جمشید اقبال چیمہ نے

ایران کا معاملہ برسلز اجلاس کے ایجنڈے میں شامل

?️ 15 جولائی 2025سچ خبریں: یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے

ایران کا آئی اے ای اے سے تعاون معطل؛ یورپی یونین کا ردعمل

?️ 29 جون 2025 سچ خبریں:یورپی یونین نے ایران کی جانب سے آئی اے ای

امریکہ کی یوکرین کے لیے فوجی امداد کی معطلی بے رحمانہ ہے!:فرانسیسی سیاستدان 

?️ 6 مارچ 2025 سچ خبریں:فرانس کی دائیں بازو کی سابقہ رہنما مارین لوپن نے

چین اور امریکہ کے درمیان 90 روزہ تجارتی وقفہ نئی کشمکش کا آغاز      

?️ 14 اگست 2025چین اور امریکہ کے درمیان 90 روزہ تجارتی وقفہ نئی کشمکش کا

یوکرین کی جنگ کو موسم سرما تک ختم ہونا چاہیے: زیلنسکی

?️ 27 جون 2022سچ خبریں:   یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے آج پیر جی 7

ٹرمپ: کل رات کے الیکشن نے مجھے مایوس کیا

?️ 6 نومبر 2025سچ خبریں: گزشتہ شب ہونے والے انتخابات کے نتائج سے انتہائی ناخوش

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے