حزب الدعوہ اسلامی عراق نے نوری المالکی کو وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار نامزد کر دیا

نورالمالکی

?️

حزب الدعوہ اسلامی عراق نے نوری المالکی کو وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار نامزد کر دیا

 عراق میں سیاسی جوڑ توڑ کے اہم مرحلے میں حزب الدعوہ اسلامی عراق نے سابق وزیرِ اعظم نوری المالکی کو ایک بار پھر وزارتِ عظمیٰ کے لیے اپنا باضابطہ امیدوار نامزد کر دیا ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب المالکی اربیل میں کرد رہنماؤں سے ملاقات کے لیے موجود ہیں۔

حزب الدعوہ نے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا کہ ملک کے حساس مرحلے کو ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو سیاسی توازن اور مؤثر انتظامی صلاحیت رکھتی ہو، اور نوری المالکی وسیع تجربے کے باعث اس ذمہ داری کے اہل ہیں۔

المالکی، جو 2006 سے 2014 تک دو مرتبہ عراق کے وزیرِ اعظم رہ چکے ہیں، حالیہ انتخابی مہم کے دوران یہ کہہ چکے تھے کہ اگر ان سے وزارتِ عظمیٰ کی ذمہ داری سنبھالنے کا مطالبہ کیا گیا تو وہ انکار نہیں کریں گے۔ 2014 میں اکثریت حاصل کرنے کے باوجود انہوں نے سیاسی اختلافات اور مرجعیت کی ترجیحات کے باعث تیسری مدت کے لیے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔

حزب الدعوہ کی نامزدگی کا اعلان ایسے وقت میں ہوا ہے جب نوری المالکی اربیل میں کردستان ریجن کے رہنماؤں — مسعود بارزانی، نیچروان بارزانی اور مسرور بارزانی  سے ملاقات کر رہے ہیں۔ ان ملاقاتوں میں وزارتِ عظمیٰ، صدارت اور اسپیکر شپ سمیت ملک کی اعلیٰ ریاستی مناصب کے مستقبل پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

المالکی کے میڈیا دفتر کے سربراہ ہاشم الرکابی کے مطابق یہ دورہ مسعود بارزانی کی باضابطہ دعوت پر کیا گیا ہے۔

ادھر سیاسی ردعمل بھی سامنے آنا شروع ہوگیا ہے۔ عراق کے شیعہ سیاسی دھڑے ’جریانِ صدر‘ نے فوری طور پر نوری المالکی کی نامزدگی کی مخالفت کر دی ہے۔ شفق نیوز نے ایک نام ظاہر نہ کرنے والے صدری رہنما کے حوالے سے بتایا کہ جماعت کسی صورت المالکی کی واپسی کی حامی نہیں۔

دوسری جانب کرد اور سنی جماعتوں کے درمیان بھی پارلیمانی دور کے لیے عہدوں کی تقسیم پر اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں۔ اہلِ سنت کے سیاسی اتحاد ’تقدم‘ کے سربراہ محمد الحلبوسی جو اس بار سنی ووٹوں سے سب سے زیادہ نشستیں لے کر آئے ہیں نے صدارت کا مطالبہ کر دیا ہے، جب کہ کرد جماعتیں اسے اپنا روایتی حصہ قرار دے کر دستبردار ہونے سے انکار کر رہی ہیں۔

عراق میں نئی حکومت کی تشکیل کا عمل اگلے چند دنوں میں مزید پیچیدہ ہونے کا امکان ہے، اور نوری المالکی کی ممکنہ واپسی ملکی سیاست میں ایک نیا باب کھول سکتی ہے۔

مشہور خبریں۔

ٹرمپ غزہ کے عوام کو کہاں ہجرت کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں؟ 

?️ 16 مارچ 2025 سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں

ایم کیوایم پاکستان کا سپریم کورٹ سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ

?️ 9 ستمبر 2022کراچی: (سچ خبریں)کراچی میں اسٹریٹ کرائمز میں خطرناک حد تک اضافے اور

عباس ملیشیا کا فلسطینی سماجی کارکن نزار بنات کا قتل، ہزاروں فلسطینیوں نے مظاہرے شروع کردیئے

?️ 26 جون 2021غزہ (سچ خبریں) عباس ملیشیا کی جانب سے فلسطینی سماجی کارکن نزار

رواں سال میں صیہونیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والی فلسیطنیوں کے اعداد و شمار

?️ 10 اپریل 2021سچ خبریں:مقبوضہ علاقوں کی تازہ ترین اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ

مقتدرہ پر بہت زیادہ دباؤ ہے عمران خان مزید ڈیڑھ مہینہ جیل میں رہ سکتے ہیں

?️ 27 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ

گالانت اور نیتن یاہو دفتر کے سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپ

?️ 10 نومبر 2024سچ خبریں:ایک عبرانی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ وزیر دفاع یوآو

خیبر: سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں میں فائرنگ کا تبادلہ، 2 دہشت گرد ہلاک، 2 سپاہی شہید

?️ 26 اپریل 2023ضلع خیبر: (سچ خبریں) خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقے تیراہ میں

ترکی میں ادارہ جاتی زوال کے خدشات

?️ 2 نومبر 2025سچ خبریں: مرکزی بینک کے ڈپٹی گورنر کی قید، فٹبال ریفرینگ کمیونٹی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے