?️
جولانی حکومت کا شامی ساحلی عوام پر ظلم؛ خوف اور غربت میں زندگی گزار رہے ہیں لوگ
شام کے ساحلی علاقے میں مارچ کے مہینے میں ابو محمد جولانی کی زیر قیادت عبوری حکومت کے دہشت گرد عناصر کی جانب سے کیے گئے سفاکانہ قتلِ عام کے بعد حالات تاحال نہایت افسوسناک اور ناگفتہ بہ ہیں۔ ہزاروں بےگناہ افراد کی ہلاکت کے بعد وہاں کے لوگ شدید خوف، عدم تحفظ اور بدترین غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق جب تمام توجہ سویداء کے دروزی اکثریتی علاقے میں جولانی کے حالیہ جرائم کی جانب مرکوز ہے، اسی دوران ساحلی شام کے وہ دیہات جن میں مارچ کے دوران بدترین مظالم ڈھائے گئے، بدستور نظر انداز ہو رہے ہیں۔
جولانی حکومت نے حال ہی میں ایک نام نہاد تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ جاری کی ہے جس میں اس کے زیرِ کنٹرول مسلح گروہوں کو ان سفاکانہ مظالم سے بری الذمہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں علوی برادری کے خلاف کیے گئے قتلِ عام کو سابق حکومت کے باقیات کے خلاف کارروائی قرار دے کر فریب دینے کی کوشش کی گئی۔
بانیاس کے ایک گاؤں کے 30 سالہ رہائشی احمد نے بتایا کہ اُس کی بیٹی شدید بخار میں مبتلا ہے لیکن وہ مہنگی دوا خریدنے سے قاصر ہے۔ نوکری سے نکالے جانے کے بعد وہ اپنی فیملی کے لیے روزانہ کی روٹی بھی مشکل سے خرید پاتا ہے۔
احمد نے بتایا ہمارے دیہات میں کوئی کام نہیں اور ہم موت کے خوف سے باہر نکلنے کی ہمت نہیں کرتے۔ سبزیوں سے گزارا کرتے ہیں جو اپنے کھیتوں میں اگاتے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں تاکہ بھوک سے بچا جا سکے۔
زینہ جو ایک دوائیوں کے گودام میں ملازمت کرتی تھیں نے بتایا کہ اُن کا شوہر ایک حادثے کے باعث معذور ہو گیا ہے، اور جولانی حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کی برطرفیوں کے بعد انہیں بھی نکال دیا گیا۔ اب ان کے پاس کوئی آمدنی کا ذریعہ نہیں ہے۔ میرے اوپر قرضے چڑھ گئے ہیں اور مجھے کوئی نوکری نہیں مل رہی۔ ہم سب سے زیادہ جس چیز کے محتاج ہیں، وہ ہے امن و امان۔
پچاس سالہ علی، جو پانچ بیٹیوں کے والد ہیں کا کہنا ہے کہ اُن کی دو بیٹیاں بیمار ہیں، لیکن وہ ان کے علاج کا خرچ اٹھانے سے قاصر ہیں۔ ہم اپنی زندگی کے بدترین دور سے گزر رہے ہیں۔
حمام بانیاس کے نواح میں رہنے والی خاتون نے بتایا کہ اُن کے شوہر دمشق میں کام کرتے تھے، لیکن حالیہ قتل و غارت اور اغوا کی وارداتوں کے باعث وہ واپس نہیں جا سکے، اور اب ان کے پاس کوئی ذریعہ معاش نہیں بچا۔ ہم اپنی زمین پر بھی کام نہیں کر سکتے کیونکہ مسلح گروہ آس پاس موجود ہیں اور ہماری جان کو خطرہ ہے۔
غدیر، ایک اور مقامی شہری نے کہا کہ علاقے کی دگرگوں حالت کی بڑی وجوہات میں کمزور معیشت، نجی سرمایہ کاری کی عدم موجودگی، ریاستی حمایت کی کمی، زراعت کا زوال، حکومت کی جانب سے کسانوں کو نظر انداز کرنا، سیاحت کا خاتمہ اور ہنر مندوں کی ہجرت شامل ہیں، جس سے سماجی و پیشہ ورانہ خلا پیدا ہو گیا ہے۔


مشہور خبریں۔
فلسطین کے لیے پیش کیے گئے منصوبے
?️ 27 دسمبر 2023سچ خبریں:غزہ کی پٹی میں تنازعات کے تسلسل کے ساتھ مسئلہ فلسطین
دسمبر
صیہونی دفاعی نظام ایرانی میزائلوں کے سامنے ناکام؛صیہونی اخبار کا اعتراف
?️ 15 جون 2025 سچ خبریں:صیہونی اخبار ہارٹیز نے ایران کے جدید میزائلوں کے سامنے
جون
مادورو: وینزویلا 5000 دفاعی میزائلوں سے ناقابل تسخیر ہو گیا ہے
?️ 24 اکتوبر 2025سچ خبریں: وینزویلا کی مسلح افواج کی تیاری پر زور دیتے ہوئے،
اکتوبر
بشار اسد کی آسٹریلوی آرچ بشپ سے ملاقات
?️ 3 جولائی 2023سچ خبریں:اتوار کو شام کے صدر بشار اسد نے عیسائی گرجا گھروں
جولائی
میرواعظ کا حضرت شیخ العالم ؒ کو خراج عقیدت
?️ 17 اکتوبر 2025سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں
اکتوبر
صیہونی جیلیں اذیت اور ناانصافی کی تصویر؛رہا ہونے والی فلسطینی خواتین کی دل دہلا دینے والی کہانیاں
?️ 20 جنوری 2025سچ خبریں:اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے پہلے مرحلے کی تبادلہ
جنوری
امریکی وفاقی حکومت کا شٹ ڈاؤن برقرار کویی متبادل منصوبہ نہیں
?️ 22 اکتوبر 2025امریکی وفاقی حکومت کا شٹ ڈاؤن برقرار کویی متبادل منصوبہ نہیں امریکہ
اکتوبر
صیہونی حکومت نے الحدیدہ بندرگاہ پر حملہ کیوں کیا؟
?️ 22 جولائی 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت نے گذشتہ 9 ماہ کے دوران جنگ کے دائرہ
جولائی