غزہ میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلہ کے نفاذ میں صیہونیوں کی رکاوٹیں

غزہ

?️

سچ خبریں:عبرانی ذرائع کے مطابق اسرائیل نے رفح کراسنگ کھلنے کے باوجود غزہ کی انتظامی ٹکنوکریٹ کمیٹی کے اراکین کے داخلے کو روک دیا ہے، جس سے جنگ بندی کے دوسرے مرحلے اور غزہ کے انتظامی ڈھانچے پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔

غاصب صہیونی حکومت کی جانب سے غزہ میں دوسرے مرحلے کے جنگ بندی کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں عبرانی ذرائع نے غزہ کی انتظامیہ کے لیے بنائی گئی تکنوکریٹ کمیٹی کے کام شروع کرنے میں اسرائیلی ممانعت کی خبر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:حماس کو غیر مسلح کرنے کی بات غیر منطقی ہے، غزہ کے مستقبل کا فیصلہ فلسطینی کریں گے

صیہونی اخبار ہارٹیز نے اتوار کے روز باخبر ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ اگرچہ اسرائیل نے گزشتہ ہفتے رفح کراسنگ کھول دی تھی، لیکن اس کے باوجود اس نے غزہ کی انتظامیہ کے لیے تشکیل دی گئی تکنوکریٹ کمیٹی کو کام شروع کرنے سے روک دیا ہے اور مصر کے راستے اس کمیٹی کے اراکین کے غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں دے رہا۔

ان ذرائع کے مطابق، کمیٹی کے کام میں تاخیر کی بنیادی وجہ اسرائیل کی جانب سے اس کے اراکین کو غزہ میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار ہے۔

باخبر ذرائع نے مزید بتایا کہ کمیٹی کے تمام اراکین اس وقت مصر میں مقیم ہیں اور ابھی تک یہ واضح نہیں کہ انہیں کب داخلے کی اجازت دی جائے گی اور آیا تل‌ابیب تمام اراکین کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دے گا یا نہیں۔

اسی دوران بعض دیگر عبرانی میڈیا اداروں نے صہیونی حکام میں اس خدشے کے بڑھنے کی خبر دی ہے کہ نئی انتظامیہ کے قیام کے باوجود حماس غزہ میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھ سکتی ہے۔

اس حوالے سے اسرائیلی ٹیلی ویژن چینل 14 کے صحافی اینون یاتاتش نے کہا کہ صہیونی حلقوں میں مجوزہ 20 نکاتی منصوبے، جسے ٹرمپ پلان کہا جا رہا ہے، کے بارے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

اس منصوبے کے مطابق غزہ کے امور چلانے کے لیے ایک تکنوکریٹ کمیٹی تشکیل دی جانی تھی، تاہم اسرائیلی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ ڈھانچہ حماس کے دوبارہ مضبوط ہونے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔

صہیونی حکام کے نزدیک سب سے خطرناک منظرنامہ یہ ہے کہ حماس بظاہر غیر رسمی طور پر اور اس کمیٹی کے پردے کے پیچھے سرگرم رہ کر اپنا اثر و رسوخ بڑھائے۔ درحقیقت یہ خدشہ موجود ہے کہ تکنوکریٹ کمیٹی صرف حماس کی سرگرمیوں کے لیے ایک پردہ بن جائے۔

مزید پڑھیں:حماس کو غیر مسلح کرنے پر اسرائیل کا اصرار ؛ وجہ ؟

اسی تناظر میں ایک اعلیٰ اسرائیلی اہلکار نے اسرائیل 24 چینل سے گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ہم اس نئی تکنوکریٹ کمیٹی کے تحت حماس کی موجودگی اور سرگرمیوں کو قبول کرتے ہیں تو بہت جلد ہم غزہ میں حزب اللہ جیسے ماڈل کو دوبارہ دہرائے جانے کے گواہ ہوں گے۔

مشہور خبریں۔

حزب اللہ کا شمالی مقبوضہ علاقوں پر میزائلی حملہ

?️ 14 جون 2026سچ خبریں: صہیونی حکومت نے حزب اللہ کے راکٹ حملے کی تصدیق کرتے

شہریوں کے ملٹری ٹرائل کا کیس: فوج کو غیر آئینی اقدامات کی اجازت نہیں دی جائے گی، چیف جسٹس

?️ 3 اگست 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کے

نہ ختم ہونے والا صیہونیوں کا خوف و ہراس

?️ 4 اپریل 2024سچ خبریں: عبرانی ذرائع نے دمشق میں ایرانی قونصل خانے کے خلاف

امریکیوں کو اقتصادی مسائل کو نظر انداز کرنے پر راضی کرنے کی ٹرمپ کی کوشش

?️ 7 دسمبر 2025سچ خبریں: واشنگٹن پوسٹ اخبار نے ایک نوٹ میں کہا ہے کہ

فلسطینی تجزیہ کار کی نظر میں شہید سلیمانی

?️ 2 جنوری 2023سچ خبریں:فلسطینی تجزیہ کا کہنا ہے کہ اگر میری جنرل قاسم سلیمانی

کیا جو بائیڈن صدارتی انتخاب سے دستبردار ہوں گے؟

?️ 4 جولائی 2024سچ خبریں: امریکہ میں زیادہ تر پولز امریکہ کے موجودہ صدر جو

حزب اللہ اب بھی انتہائی طاقتور ہے: عبرانی میڈیا

?️ 18 نومبر 2024سچ خبریں: ہاریٹز اخبار کے سینئر تجزیہ کار آموس ہیریل نے ایک

آج ہم نے ایران کے ساتھ جنگ ختم کر دی؛ ٹرمپ کا دعویٰ

?️ 12 جون 2026سچ خبریں:امریکی صدر جو ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے