جنگ بندی اسرائیل کے لیے حماس کی سرنگوں کی تباہی کا سنہری موقع

حماس

?️

جنگ بندی اسرائیل کے لیے حماس کی سرنگوں کی تباہی کا سنہری موقع

غزہ میں نافذ جنگ بندی کو اسرائیل نے حماس کے زیرِ زمین سرنگی نظام کو تباہ کرنے کے لیے ایک اہم موقع کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے خاص طور پر جنوبی غزہ، بالخصوص رفح کے علاقے میں، حماس کے جنگجوؤں کا محاصرہ مزید سخت کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، جنگ بندی کے باوجود سینکڑوں حماس کے جنگجو کئی مہینوں سے جنوبی غزہ کی سرنگوں میں محصور ہیں۔ انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ خوراک اور خاص طور پر پانی کی شدید قلت نے ان کی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ قیدیوں اور ہلاک شدہ یرغمالیوں کی لاشوں کی واپسی کے بعد اسرائیل کو سرنگوں کو نشانہ بنانے میں پہلے سے کہیں زیادہ آزادی حاصل ہو گئی ہے۔

امریکی ثالثی میں اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد، رفح کے مشرقی علاقے میں حماس کا ایک مقامی بریگیڈ اسرائیلی کنٹرول لائن کے غلط جانب پھنس گیا۔ اسرائیلی فوج جدید ڈرل مشینوں، دھماکہ خیز مواد اور بعض علاقوں میں پانی بھر کر سرنگوں کو ناکارہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسرائیل کا اندازہ ہے کہ جنگ بندی کے آغاز پر 100 سے 200 جنگجو سرنگوں میں موجود تھے، جبکہ حماس کے مطابق اب ان کی تعداد 60 سے 80 کے درمیان رہ گئی ہے۔

اس دباؤ کے نتیجے میں حماس کے جنگجو یا تو سرنگوں میں مارے جانے یا انتہائی خطرناک طریقے سے حماس کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں فرار ہونے پر مجبور ہیں۔ اگرچہ غزہ کے دیگر علاقوں میں لڑائی نسبتاً کم ہو گئی ہے، مگر رفح میں یہ جھڑپیں مسلسل جاری ہیں۔

یہ مسئلہ جنگ بندی میں توسیع سے متعلق مذاکرات کا بھی حصہ بن چکا ہے۔ حماس مذاکرات کاروں پر زور دے رہی ہے کہ محصور جنگجوؤں کے لیے محفوظ راستہ فراہم کیا جائے، تاہم اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ صرف ہتھیار ڈالنے کی صورت میں ان کی جان بخشنے پر آمادہ ہے، جسے حماس نے مسترد کر دیا ہے۔

جنگ بندی کے باوجود تقریباً روزانہ فائرنگ کے تبادلے ہو رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں اس نے 40 سے زائد حماس جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے، جبکہ چند ایک کو گرفتار کیا گیا۔ دوسری جانب، حماس کے حملوں میں اسرائیلی فوج کو بھی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور متعدد فوجی زخمی یا ہلاک ہو چکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، رفح میں محصور جنگجو مستقبل میں حماس کو غیر مسلح کرنے کے کسی بھی ممکنہ منصوبے کے لیے ایک اہم آزمائش بن چکے ہیں۔ اگر یہ معاملہ مذاکرات کے بجائے مکمل فوجی تصادم پر ختم ہوتا ہے تو اس سے ظاہر ہوگا کہ نہ اسرائیل اور نہ ہی حماس کسی سمجھوتے پر آمادہ ہیں۔

عرب اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تاحال حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے کوئی واضح اور قابلِ عمل منصوبہ سامنے نہیں آیا۔ مختلف تجاویز میں حماس کے جنگجوؤں کو نئی فلسطینی پولیس فورس میں ضم کرنا، انہیں جلا وطن کرنا یا بھاری ہتھیار چھوڑ کر ہلکے ہتھیار رکھنے کی اجازت دینا شامل ہے، تاہم ان میں سے کسی پر بھی اتفاق نہیں ہو سکا۔

ادھر فلسطینی حلقوں میں رفح میں محصور جنگجو مزاحمت اور قربانی کی علامت بن چکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں حماس کے دو اہم کمانڈرز فرار کی کوشش کے دوران شہید ہوئے، جس کی تصدیق اسرائیلی فوج اور عرب ذرائع نے بھی کی۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ رفح میں جاری یہ صورتحال جنگ کے دوبارہ بھڑک اٹھنے کا خطرہ بڑھا رہی ہے اور غزہ میں کسی پائیدار امن کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بنتی جا رہی ہے۔

مشہور خبریں۔

اسرائیل نسل پرستی کی وجہ سے تباہی کی طرف گامزن: سویڈش سفارت کار

?️ 27 مئی 2023سچ خبریں:سابق سویڈش سیاست دان اور سفارت کار کارل بیلٹ نے حالیہ

قتل اور گولیاں؛ صہیونیوں کے جرائم کی عکاسی کا کفارہ

?️ 12 مئی 2022سچ خبریں: صیہونی حکومت کی جارحیت کی تاریخ قتل و غارت گری،

ایران کے خلاف نئی جنگ میں سرخ بالوں والے صدر کی تین بڑی ناکامیاں: صہیونی تجزیہ کار

?️ 23 مئی 2026سچ خبریں:صہیونی اخبار میں شائع ہونے والے تجزیہ میں دعویٰ کیا گیا

واشنگٹن اور تہران کی دوحہ مذاکرات میں پہلے حصے پر اتفاق رائے

?️ 2 جولائی 2026سچ خبریں:  امریکی نیوز پورٹل ایکسیوس نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے

مسجد اقصیٰ پر آبادکاروں کی یلغار اسے یہودی رنگ دینے کی خطرناک کوشش ہے: حماس

?️ 23 جولائی 2026سچ خبریں:حماس نے مسجد اقصیٰ پر ہزاروں صہیونی آبادکاروں کے دھاوے کی

اسرائیل ڈروز کارڈ کے ذریعے شام کو تقسیم کرنے کی کوشش میں

?️ 5 مارچ 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت نے کھلے عام شام کو تقسیم کرنے کا منصوبہ

ایران سے چھٹے روزمزید 265 پاکسانی وطن واپس پہنچ گئے

?️ 6 مارچ 2026کوئٹہ (سچ خبریں) ایران میں مقیم پاکستانیوں کی وطن واپسی کاسلسلہ چھٹے

آرمی چیف سے ایرانی وزیرخارجہ کی ملاقات، مختلف امورپر تبادلہ خیال

?️ 20 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ  سے ایرانی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے