?️
ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کا اصلی ماسٹر مائنڈ کون ہے؟
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت میں حال ہی میں تعینات ہونے والے نائب وزیر خزانہ جان ہرلی مشرقِ وسطیٰ کے دورے پر ہیں تاکہ علاقائی اتحادیوں کے ساتھ مشاورت کے ذریعے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا منصوبہ تیار کیا جا سکے۔ یہ اقدام دراصل ٹرمپ کی ناکام “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد آٹھ ماہ قبل انہوں نے علامتی طور پر اس پالیسی کو بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔ اب جان کے۔ ہرلی کو اس پالیسی کے عملی نفاذ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
ہرلی ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور ان کی قومی سلامتی کی مشاورتی ٹیم کے رکن رہے ہیں۔ امریکی سینیٹ نے گزشتہ سال انہیں وزارتِ خزانہ کے نائب وزیر برائے دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس کے طور پر منظور کیا۔ اب وہ ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی مہم کے اہم رہنما تصور کیے جا رہے ہیں۔
ہرلی ایک نسبتاً کم معروف لیکن انتہائی مؤثر شخصیت ہیں، جنہوں نے ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں بھی ایران مخالف پابندیوں کی پالیسی تیار کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ان کا پس منظر فوج، معیشت اور سکیورٹی تینوں شعبوں پر مشتمل ہے۔
انہوں نے 1986 میں پرنسٹن یونیورسٹی سے گریجویشن کیا اور پانچ سال امریکی فوج میں خدمات انجام دیں، جہاں وہ خلیج فارس کی پہلی جنگ میں توپ خانے کے افسر کے طور پر شریک ہوئے اور اعلیٰ عسکری اعزازات حاصل کیے۔
بعد ازاں، انہوں نے اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا اور سرمایہ کاری کے میدان میں داخل ہوئے۔ وہ فائیڈیلیٹی انویسٹمنٹس اور بوومن کیپیٹل میں کام کر چکے ہیں اور بعد میں اپنی سرمایہ کاری کمپنی کیویلری ایسٹ مینجمنٹ قائم کی، جو عالمی مالیاتی منڈیوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر مرکوز تھی۔
ہرلی 2018 سے 2021 تک امریکی صدر کے انٹیلی جنس ایڈوائزری بورڈ (PIAB) کے رکن بھی رہے، جس نے انہیں واشنگٹن کے فیصلہ سازی کے مرکزی حلقے میں نمایاں کردار دیا۔
2024 میں ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد، ہرلی کو پابندیوں اور مالیاتی حکمتِ عملی کی قیادت کے لیے منتخب کیا گیا۔ سینیٹ میں اپنی سماعت کے دوران انہوں نے کہا،غیر مستحکم عناصر کے خلاف کارروائیاں عالمی ہم آہنگی کے ساتھ اور پوری سنجیدگی سے کی جانی چاہییں۔
ہرلی نے حال ہی میں ایران سے متعلق کئی نئی پابندیاں نافذ کیں اور سلامتی کونسل کی پرانی قراردادوں کی بحالی کی حمایت کی۔ اب وہ امارات، ترکی، لبنان اور مقبوضہ فلسطین کے دورے پر ہیں، جہاں ان کا مقصد ایران پر مزید مالی دباؤ ڈالنے کے لیے علاقائی تعاون کو بڑھانا ہے۔
ماہرین کے مطابق، جان ہرلی اس وقت ٹرمپ حکومت کی ایران مخالف پالیسی کے مرکزی معمار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ تاہم واشنگٹن کی جانب سے ایک نئے جوہری معاہدے کی بات چیت کے دعووں کے ساتھ ہی اس قسم کے اقدامات نے امریکہ کے ارادوں پر شکوک پیدا کر دیے ہیں۔
دوسری جانب، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ فی الحال امریکہ کے ساتھ کسی "بامعنی بات چیت” کی فضا موجود نہیں۔ ان کے مطابق،
"ایران اپنے قانونی اور بین الاقوامی حقوق سے دستبردار نہیں ہو گا۔ اگر فریقِ مخالف حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرے اور ایران کے حقوق کا احترام کرے، تو مذاکرات کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں، لیکن اس وقت ایسی کوئی صورت نہیں ہے۔”
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
امریکہ کے تائیوان کو پیٹریاٹ کی فروخت پر چین کا ردعمل
?️ 8 اپریل 2022سچ خبریں:چین نے کہا ہے کہ وہ تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی
اپریل
’یہ اکیڈمی ایوارڈز نہیں‘، اداکاراؤں کے ایوارڈز شوز میں مغربی طرزِ لباس پر خاور ریاض کی تنقید
?️ 23 اکتوبر 2025کراچی: (سچ خبریں) معروف اسٹائلسٹ اور میک اپ آرٹسٹ خاور ریاض نے
اکتوبر
ملک میں ٹرانسپورٹ بحالی، کاروباری مراکز کھولنےسے متعلق اہم فیصلہ
?️ 15 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی)
مئی
190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کیلئے درخواستیں تیار
?️ 17 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور
مارچ
کربلا میں اربعین کیلئے زمینی راستے سے جانے پر پابندی برقرار رہی تو 50 ارب روپے کا نقصان ہوگا۔ راجا ناصر عباس
?️ 30 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) سینیٹر علامہ راجا ناصر عباس نے کہا ہے
جولائی
واشنگٹن ابھی بھی اسرائیل کو بم دے رہا ہے: امریکی سینیٹر
?️ 15 مارچ 2024سچ خبریں:امریکی سینیٹر الزبتھ وارن نے جمعرات کو کہا کہ فلسطینی بھوک
مارچ
یمن کے جنوب میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی بازی
?️ 7 جنوری 2026 سچ خبریں: متحدہ عرب امارات کی یمن میں مداخلت پسندانہ حکمت
جنوری
یوکرین میں جنگ برسوں تک جاری رہ سکتی ہے: نیٹو جنرل سیکریٹری
?️ 19 جون 2022سچ خبریں: یوکرین میں جنگ کو 2023 تک طول دینے کے امکان
جون