?️
اکثریت فلسطینی عوام کی مزاحمتی گروہوں کے غیر مسلح کیے جانے کی مخالفت
ایک تازہ عوامی سروے کے مطابق، زیادہ تر فلسطینی شہریوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے اس حصے کو مسترد کر دیا ہے جس میں مزاحمتی گروہوں کے غیر مسلح ہونے کی بات کی گئی ہے۔ سروے سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ اکثریت فلسطینی ٹرمپ کے منصوبے کو ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے غیر مؤثر اور ناقابلِ عمل سمجھتی ہے۔
یہ سروے مرکز برائے پالیسی و عوامی تحقیقِ فلسطین (PCPSR) نے کرایا، جس میں 69 فیصد شرکاء نے حماس کے غیر مسلح ہونے کی مخالفت کی، چاہے یہ اقدام جنگ کے خاتمے کی شرط ہی کیوں نہ ہو۔ اسی طرح 70 فیصد فلسطینیوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ٹرمپ کا منصوبہ اگلے پانچ سالوں میں کسی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا باعث بنے گا۔
سروے میں 1,270 افراد نے حصہ لیا جن میں 830 کا تعلق مغربی کنارے اور 440 کا تعلق غزہ سے تھا۔ تحقیق 22 تا 25 اکتوبر 2025 کے دوران بالمشافہ، آن لائن یا ٹیلیفون کے ذریعے کی گئی، جبکہ اس کی غلطی کی گنجائش 3.5 فیصد بتائی گئی۔
نتائج کے مطابق، غزہ کے رہائشی مغربی کنارے کے مقابلے میں ٹرمپ کے منصوبے کی نسبتاً زیادہ حمایت کر رہے ہیں۔ غزہ میں 59 فیصد افراد نے حمایت کی، جبکہ مغربی کنارے میں صرف 39 فیصد نے۔
تاہم، دونوں علاقوں کے عوام خلعِ سلاح کے معاملے میں متحد ہیں 78 فیصد مغربی کنارے کے رہائشیوں نے واضح طور پر کہا کہ حماس اور دیگر مزاحمتی گروہوں کو اپنا اسلحہ ہرگز نہیں چھوڑنا چاہیے۔
سروے میں شامل 49 فیصد فلسطینیوں نے کہا کہ وہ ٹرمپ کے منصوبے کے مخالف ہیں، جبکہ 47 فیصد نے جزوی حمایت ظاہر کی۔ تاہم، جن افراد نے منصوبے کی تفصیلات سنی تھیں، ان میں حمایت کی شرح کچھ زیادہ تھی (50 فیصد)۔بیشتر فلسطینیوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس منصوبے سے نہ تو جنگ ختم ہوگی اور نہ ہی اسرائیلی قبضے کا خاتمہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق، فلسطینی سیاسی میدان میں قیادت کا بحران بدستور جاری ہے۔ صدر محمود عباس اور ان کی انتظامیہ سے عوام کی نارضایتی بڑھ رہی ہے، جبکہ مروان برغوثی ایک مقبول متبادل رہنما کے طور پر ابھر رہے ہیں۔
دوسری جانب، حماس کو فتح پر سبقت حاصل ہوتی جا رہی ہے۔ اگرچہ 7 اکتوبر کے بعد عوامی توقعات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن غزہ کے شہری اب بھی مذاکرات کے حامی ہیں، جبکہ مغربی کنارے کے باشندے مسلح جدوجہد کو ترجیح دیتے ہیں۔
سروے کے مطابق، 59 فیصد فلسطینیوں کا خیال ہے کہ غزہ پر دوبارہ جنگ چھڑ سکتی ہے۔ غزہ میں آراء تقریباً مساوی رہیں 49 فیصد پرامید اور 48 فیصد مایوس۔ لیکن مغربی کنارے میں صرف 33 فیصد کا ماننا ہے کہ جنگ دوبارہ نہیں ہوگی۔
تقریباً 70 فیصد فلسطینیوں کو یقین نہیں کہ آئندہ پانچ برسوں میں ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم ہو پائے گی۔ صرف 21 فیصد مغربی کنارے اور 34 فیصد غزہ کے رہائشی اس امکان کو ممکن سمجھتے ہیں۔
جب پوچھا گیا کہ آیا ٹرمپ کا منصوبہ ایک یا دو سال کے اندر عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی (Normalization) کا باعث بنے گا، تو 49 فیصد نے کہا "ہاں، ممکن ہے”، جبکہ 48 فیصد نے کہا کہ ایسا ہونا مشکل ہے۔
یہ سروے اس بات کا آئینہ دار ہے کہ فلسطینی عوام نہ صرف اپنے ہتھیار چھوڑنے کے لیے تیار نہیں بلکہ وہ ٹرمپ کے امن منصوبے پر گہری بداعتمادی کا اظہار کرتے ہیں ان کے نزدیک یہ منصوبہ فلسطینی خودمختاری کے بجائے اسرائیلی تسلط کو مزید مستحکم کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
سعودی عرب کی صیہونیوں کے ساتھ سمجھوتے کی کوشش، اس بار کھیل کے دروازے سے
?️ 13 فروری 2022سچ خبریں:سعودی ٹینس کھلاڑی کے صیہونی کھلاڑی کے مقابلہ میں آنے کے
فروری
وزیراعظم کا ایرانی صدر سے ٹیلی فونک رابطہ، اسرائیلی، امریکی حملے قابل مذمت قرار
?️ 22 جون 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر کے
جون
صیہونی معیشت حالیہ دہائیوں کے بدترین بحران سے دوچار
?️ 5 اپریل 2026سچ خبریں:یمنی میڈیا المسیرہ کے مطابق ایران کے خلاف جنگی کشیدگی کے
اپریل
شارخ خان کے ہمشکل کا ایک اور کارنامہ،سب حیران
?️ 12 جولائی 2023سچ خبریں: بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان کے ہمشکل سے سب
جولائی
پاکستان کو انگیج افریقہ پالیسی کے سلسلے میں اہم کامیابی
?️ 26 نومبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان نے انگیج افریقہ پالیسی کے سلسلے میں ایک
نومبر
چیف جسٹس نے ججز کے تبادلوں پر رضامندی ظاہر کی تھی، رجسٹرار سپریم کورٹ
?️ 19 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ ججز ٹرانسفر اور سنیارٹی کیس
اپریل
امید ہے افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی:آرمی چیف
?️ 21 اگست 2021 راولپنڈی (سچ خبریں) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے
اگست
سپریم کورٹ نے ہراسانی کیس کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست منظور کرلی
?️ 7 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سپریم کورٹ نے ایک خاتون کی ہراساں کیے جانے
جون