?️
اَیپک اجلاس کے سائے میں امریکہ اور چین کے صدور کی ملاقات، کیا تجارتی جنگ ختم ہونے والی ہے؟
امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی جنگ کے خاتمے کے امکانات ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں، کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ اس ہفتے اَیپک (APEC) سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات کرنے جا رہے ہیں۔
کاخ سفید کے مطابق، صدر ٹرمپ 30 اکتوبر (8 آبان) کو جنوبی کوریا میں ہونے والے آسیائی و بحرالکاہلی اقتصادی تعاون اجلاس (APEC) کے موقع پر صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔
کاخ سفید کی ترجمان کارولائن لویت نے تصدیق کی کہ ٹرمپ اپنے ایشیائی دورے کے دوران ملائیشیا، جاپان اور جنوبی کوریا کا بھی دورہ کریں گے اور جمعرات کے روز صدر شی کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کریں گے۔
ٹرمپ نے اس ملاقات سے قبل چین پر الزام لگایا کہ وہ فینٹانائل (Fentanyl) نامی خطرناک منشیات کو وینزویلا کے راستے امریکہ منتقل کر رہا ہے تاکہ بندرگاہی نگرانی سے بچ سکے۔
انہوں نے کہا میری پہلی گفتگو صدر شی سے فینٹانائل کے بارے میں ہوگی۔ وہ اس سے لاکھوں ڈالر کماتے ہیں، لیکن ہمارے عائد کردہ 20 فیصد ٹیرف سے 100 ارب ڈالر کھو دیتے ہیں۔ یہ اُن کے لیے نقصان دہ سودا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں پر تجارتی کشیدگی کم کرنے کا شدید دباؤ ہوگا۔
ٹرمپ اس کوشش میں ہیں کہ چین پر عائد ٹیرف کم کرنے کے بدلے بیجنگ سے کچھ اقتصادی رعایتیں حاصل کی جائیں، جن میں شامل ہیں:یہ معدنیات جدید ٹیکنالوجی مثلاً اسمارٹ فونز اور الیکٹرانک آلات کی تیاری میں استعمال ہوتی ہیں، اس لیے ان کی تجارت عالمی منڈی کے لیے نہایت اہم ہے۔
برطانوی روزنامہ گارڈین کے مطابق، نایاب معدنیات سے وابستہ کمپنیوں کے حصص میں اتار چڑھاؤ جاری ہے، کیونکہ سرمایہ کار اس ملاقات کے نتائج کے منتظر ہیں۔
اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں، تو امریکی صنعتوں جو پہلے ہی ٹیرف کے بوجھ تلے دبی ہیں کو مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کے مطابق، ملاقات میں تائیوان کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا۔ بیجنگ نے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ تائیوان کی آزادی کی مخالفت میں واضح موقف اختیار کرے۔ چین تائیوان کو اپنے ملک کا جدا شدہ صوبہ سمجھتا ہے اور اس کے دوبارہ اتحاد پر زور دیتا ہے۔
امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی تناؤ اُس وقت بڑھا جب ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ چینی مصنوعات پر 100 فیصد ٹیرف عائد کریں گے۔ یہ فیصلہ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے دو دن بعد نافذ ہونا ہے۔
اس کے جواب میں بیجنگ نے نئی برآمدی پابندیاں لگانے کا عندیہ دیا ہے، خاص طور پر ان ٹیکنالوجیز پر جو فوجی اور صنعتی استعمال کے لیے اہم ہیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
ٹویٹر کے ہفتے بھر کے عدم استحکام کا خاتمہ
?️ 5 نومبر 2022سچ خبریںٹویٹر سوشل نیٹ ورک نئے مالک ایلون مسک کے انتظامی دور
نومبر
صہیونی فوجی جنک کی تیاریوں میں مصروف
?️ 13 جون 2023سچ خبریں:صہیونی اخبار اسرائیل ہیوم نے آج منگل کی صبح خبر دی
جون
کون سے ممالک نے ایران پر امریکی حملے کی مذمت نہیں کی؟
?️ 23 جون 2025 سچ خبریں:امریکہ کے ایران پر ایٹمی تنصیبات پر حملے کی مذمت
جون
امریکہ اور روس کے درمیان کیا چل رہا ہے؟
?️ 7 اکتوبر 2023سچ خبریں: امریکی محکمہ خارجہ نے اس ملک کے دو سفارت کاروں
اکتوبر
اخوان المسلمین کے حوالے سے ٹرمپ کے فیصلے کے بارے میں صیہونی دعویٰ
?️ 24 نومبر 2025سچ خبریں: صیہونی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ
نومبر
ایرانی صدر کا دورۂ لاطینی امریکہ اور عالمی میڈیا
?️ 22 جون 2023سچ خبریں:ایرانی صدر کے لاطینی امریکہ کے دورے سے متعلق کیے جانے
جون
لاطینی امریکہ میں امریکی برتری کی بحالی کی کوشش
?️ 30 اکتوبر 2025سچ خبریں:ڈونالد ٹرمپ اپنی دوسری مدتِ صدارت میں امریکی اثر و رسوخ
اکتوبر
اتحادی حکومت کے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے دعوے
?️ 6 جولائی 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی وزیر برائے ریلوے سعد رفیق نے وزیراعظم کے
جولائی