امریکہ کے بہت سے مسائل JCPOA کی خلاف ورزی کا نتیجہ ہیں: لبنانی وزیر ثقافت

لبنانی

?️

سچ خبریں:لبنان کے وزیر ثقافت غسان سلامہ نے ایران کے جوہری معاہدے میں امریکی بدعہدی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن جن بیشتر مسائل سے دوچار ہے، وہ اسی بدعہدی کا نتیجہ ہیں، جب امریکہ نے 2015 میں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے (برجام) کو پامال کیا۔

 المیادین نیٹ ورک سے گفتگو کرتے ہوئے سلامہ نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ امریکہ کی بدعہدی نے نہ صرف خطے بلکہ خود امریکہ کے لیے بھی پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں۔
اپنے بیان کے ایک اور حصے میں، لبنان کے وزیر ثقافت نے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے حوالے سے لبنان کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان مذاکرات کا مقصد عارضی جنگ بندی سے مستقل جنگ بندی اور بالآخر حالات جنگ کے خاتمے تک منتقلی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال لبنان میں کسی قسم کے سیکیورٹی معاہدے یا امن معاہدے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
سلامہ نے بین الاقوامی انسانی حقوق میں اسکولوں اور ہسپتالوں کو نشانہ بنانے کو غیر متوازن ردعمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ لبنان جنگ بندی پر عمل پیرا ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیلی جانب بھی اتنا ہی عزم پایا جاتا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ شام اور اسرائیل کے درمیان سیکیورٹی معاہدے کا ایک منصوبہ موجود تھا، تاہم شامی حکومت نے اسرائیل کی حد سے زیادہ مطالبات کو بے نقاب کر دیا۔ سلامہ نے خبردار کیا کہ لبنانی مذاکرات بھی شام اور اسرائیل کے مذاکرات کی طرح ابتدائی مراحل میں تل ابیب کے حد سے زیادہ مطالبات کا سامنا کر سکتے ہیں۔
لبنان کے وزیر ثقافت نے زور دے کر کہا کہ ان کی حکومت کبھی بھی ایک ظاہری (صورت حالی) جنگ بندی کو قبول نہیں کرے گی اور وہ دونوں جانب سے جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لبنانی مذاکرات کار کے ذہن میں سرخ لکیریں واضح ہونی چاہئیں، اور وہ کسی ایک فریق کو یہ حق نہیں دینا چاہتے کہ وہ اپنی مرضی سے خطرات کا خاتمہ کرے جبکہ دوسرا فریق اس حق سے محروم رہے۔
سلامہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ لبنان 2022 کے سمندری سرحدی معاہدے میں کسی قسم کے نظرثانی کو قبول نہیں کرے گا اور نہ ہی اپنی فضائی حدود اور علاقائی پانیوں میں کسی قسم کی خلاف ورزی کی اجازت دے گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں اسرائیلیوں کے ساتھ براہ راست مذاکرات ہوئے تھے، جو کسی تیسرے فریق کی موجودگی کے بغیر ہوئے، لیکن ان مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔
لبنان کے وزیر ثقافت نے مذاکرات میں تصور اور سرخ لکیروں کی نشاندہی کو سب سے اہم قرار دیا، جن سے کسی بھی قیمت پر تجاوز نہ کیا جائے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ لبنان کا نام ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی جنگ بندی کے معاہدے میں شامل تھا، جس کی تصدیق پاکستان کے وزیر اعظم نے اپنے لبنانی ہم منصب سے گفتگو میں کی تھی۔
سلامہ نے کہا کہ ہم خلیج [فارس] خطے میں ایک بڑے عمل کا حصہ ہیں، جبکہ چھوٹا عمل لبنان میں ہے، لیکن ان دونوں میں فرق کرنا ممکن نہیں۔ لبنان کے وزیر ثقافت کے مطابق، خطے کے مستقبل کے توازن کا تعین اسی بڑے عمل میں ہو گا، اور یہ دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کا جوہری مسئلہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی سے جوڑنا چاہتا ہے، جبکہ ایران اس نقطہ نظر سے متفق نہیں ہے۔ سلامہ کے خیال میں، خطہ یا تو جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے یا پھر نہ جنگ نہ امن کی سست روی کی حالت میں رہے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ایران اور سعودی عرب کے درمیان پچھلی گفتگو کے علاوہ مزید مذاکرات جاری ہیں۔
لبنان کے وزیر ثقافت نے مزید کہا کہ ایران اس بات پر زور دیتا ہے کہ خلیج فارس میں بیرونی مداخلت کے بغیر ایک سیکیورٹی نظام قائم کیا جائے، جبکہ خطے کے بعض ممالک کا امریکہ پر انحصار بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین نے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملوں کے معاملے میں پاکستان کی ثالثی کا سب سے بڑا محرک کردار ادا کیا۔ سلامہ نے یقین ظاہر کیا کہ چین اور امریکہ کے درمیان اتنی ہم آہنگی نہیں ہے کہ وہ کرداروں اور علاقوں کو آپس میں تقسیم کر لیں۔ ان کے مطابق، آبنائے ہرمز کا کھلنا امریکہ کے لیے سیاسی فائدہ اور چین کے لیے تجارتی اور اقتصادی فائدہ رکھتا ہے۔
اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں، سلامہ نے لبنانی مذاکرات کاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کامیاب مذاکراتی چالوں میں سے ایک یہ ہے کہ دوسرے فریق کو بتایا جائے کہ لبنان میں ایک ایسی تحریک موجود ہے جو آپ کی درخواست کردہ چیز کو قبول نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ لبنانی مذاکراتی ٹیم کو اپنے تمام تر دباؤ کے ہتھیار استعمال کرنے چاہئیں۔ لبنان میں تنقیدی اور انتہا پسند تحریکوں کا وجود ایک مذاکراتی امتیاز ہے تاکہ مخالف فریق کو یہ بتایا جا سکے کہ مراعات اور نرمی کی حد محدود ہے۔
آخر میں، سلامہ نے کہا کہ لبنان کے صدر جوزف عون کو مذاکراتی اجلاسوں میں صرف آخری مراحل میں اور ٹھوس پیشرفت کے بعد شامل کیا جانا چاہیے تاکہ ان کا مقام استقامت کی علامت کے طور پر برقرار رہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ صدر کا مذاکراتی اجلاسوں میں شرکت کو مستقبل کے مراحل تک مؤخر کرنا ہی حقیقی عقلمندی ہے، اور صدر کو اس معاملے میں انتہائی موقف اختیار کرنا چاہیے۔

مشہور خبریں۔

یورپی سپریم کورٹ کا امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف بڑا جرمانہ

?️ 11 ستمبر 2024سچ خبریں: یورپی سپریم کورٹ ای سی جے کے فیصلے کے مطابق امریکی

عمران خان کا ’مینڈیٹ چوروں‘ کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلانے کا مطالبہ

?️ 17 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) 8 فروری کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے

اسرائیل کا ایک اور خواب ناکام

?️ 27 جنوری 2025سچ خبریں:فلسطینی مجاہدین موومنٹ نے شمالی غزہ کی پٹی میں پناہ گزینوں

پاکستان اور روس کے باہمی تعلقات عالمی استحکام کیلئے اہم ہیں، صادق سنجرانی

?️ 7 جون 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ

چین، روس اور ایرانی ہیکرز اے آئی ٹولز استعمال کررہے ہیں، مائیکروسافٹ کا انکشاف

?️ 15 فروری 2024سچ خبریں: مائکروسافٹ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ روس،

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی جاری، مزید 2 نوجوان شہید

?️ 23 مارچ 2023سری نگر: (سچ خبریں) نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران قابض بھارتی

غزہ کے میدان جنگ میں کون ہارا؟

?️ 25 نومبر 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کا تیار کردہ مرکاوا ٹینک جسے مغربی ممالک کی

شام کے سلسلہ میں اردن کی پالیسی بدلنے کی وجوہات

?️ 23 اگست 2021سچ خبریں:ایک عرب تجزیہ کار نے لکھا ہے کہ حقیقت پسندی کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے