?️
سچ خبریں: امریکہ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کر دی ہے، جس نے سفارتی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
سینٹرل کمان (سینٹ کام) کے تروریست دھڑے نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ایران کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے شروع کر دیے گئے ہیں۔
گزشتہ شب بھی امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب اپاچی ہیلی کاپٹر کے گرنے کا بہانہ بنا کر ایران کے جنوبی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ تاہم، ان حملوں کو ایرانی مسلح افواج کی فوری، پُرعزم اور سخت جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں اردن، بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں اور مفادات کو بھاری نقصان پہنچا۔
یہ نیا حملہ اس وقت کیا گیا ہے جب کل ہی ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اچھی طرح آگے بڑھ رہے ہیں اور معاہدہ بہت قریب ہے۔ اگرچہ امریکی صدر کا یہ رویہ بظاہر متضاد نظر آتا ہے، لیکن ان کے طرزِ عمل، بیانات اور حکمتِ عملی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مذاکرات کی ایک خاص قسم چاہتے ہیں۔ ان کی توقع ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ان کے تمام افراط پسندانہ مطالبات مان لے، جبکہ واشنگٹن کو کوئی مراعات نہ دینی پڑیں۔ اس حکمتِ عملی کو غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
تاہم، حقیقت امریکی صدر کے تصورات اور خیالی پلوں سے بہت دور ہے۔ جنگِ رمضان اور ایران کی عسکری طاقت، سماجی یکجہتی اور عوامی استحکام نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ کو قبول کرنا ہوگا کہ ایرانی قوم ناقابلِ شکست ہے۔ وہ اپنی آزادی اور وقار کے لیے پوری طاقت سے دفاع کرے گی۔ اگرچہ ایران نے کبھی مساوی مذاکرات اور منصفانہ معاہدے سے گریز نہیں کیا اور نہ ہی جنگ کو ترجیح دی ہے، لیکن اس کی تاریخ بتاتی ہے کہ ایرانی عوام زیادتی کے سامنے سر نہیں جھکاتے اور جارحین کو ایسا سبق سکھائیں گے جسے وہ کبھی نہیں بھولیں گے۔
ٹرمپ، امریکی حکومت اور صہیونی حکومت نے جنگِ رمضان اس خیال سے شروع کی تھی کہ وسیع حملوں اور ایرانی قائدین، کمانڈروں اور اعلیٰ حکام کی شہادت کے بعد اسلامی جمہوریہ اپنے دفاعی ہتھیار چھوڑ دے گا، ہتھیار ڈال دے گا اور واشنگٹن کی مرضی کے مطابق چلے گا۔ لیکن جنگِ رمضان میں مسلح افواج کے استحکام اور عوامی مزاحمت نے امریکہ کو مجبوراً جنگ بندی پر آمادہ کر لیا، اس غلط فہمی کے ساتھ کہ وہ میدانِ جنگ میں جو کچھ حاصل نہ کر سکا، اسے سفارتی میز پر حاصل کر لے گا۔ لیکن مذاکرات کی میز پر بھی اسے ایرانی سفارت کاروں کی باوقار مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
ایران کے اعلیٰ سیاسی حکام اور مسلح افواج نے بارہا زور دیا ہے کہ وہ جنگ کی توسیع کے خواہاں نہیں ہیں، لیکن وہ جنگِ تحمیلی اور سفارتِ اجباری کو قبول نہیں کریں گے۔ وہ میدانِ جنگ اور سفارتی میز دونوں جگہوں پر جارحین کی زیادتیوں کے خلاف بھرپور مزاحمت کریں گے اور ایرانی عوام کے مفادات کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔
چند لمحے قبل جہاں ایران کے جنوبی علاقوں پر امریکی حملے شروع ہوئے، وہیں امریکی ویب سائٹ ایکسوس نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ان حملوں کا مقصد تہران پر معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے، تاہم یہ اقدامات فوجی کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، وال اسٹریٹ جرنل نے پینٹاگون کے حکام کے حوالے سے لکھا کہ یہ حملے سفارتِ اجباری کے فریم ورک کے تحت کیے گئے ہیں، جس کا مقصد ایران کو مذاکرات کی میز پر مراعات دینے پر مجبور کرنا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
کیا امریکہ تیسری عالمی جنگ چھیڑ سکتا ہے؟ٹرمپ کی زبانی
?️ 19 جون 2024سچ خبریں: سابق امریکی صدر نے ایک بار پھر موجودہ واشنگٹن کی
جون
بندوقیں اور اسقاط حمل؛ امریکی صدارتی انتخابات میں شدید بم دھماکے
?️ 17 اپریل 2023سچ خبریں:نیش وِل اور لوئس ول میں حالیہ بڑے پیمانے پر فائرنگ
اپریل
ہالینڈ میں ایران کے حق میں مظاہرے، سینکڑوں شہریوں کا جنگ کے خلاف احتجاج اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ
?️ 29 مارچ 2026سچ خبریں:ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں سینکڑوں افراد نے ایران کے
مارچ
ڈالر کی اڑان جاری
?️ 20 جون 2022لاہور(سچ خبریں) امریکی ڈالر نے روپیہ کے کس بل نکال دیئے، اوپن
جون
امیرلی ترکمانستان میں حاج قاسم نے کیمرے کے لینز سے کیا دیکھا؟
?️ 30 دسمبر 2021سچ خبریں: حشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر نے مزاحمت کے دو عظیم کمانڈروں،
دسمبر
ایران کے ساتھ نمایاں پیش رفت، کچھ اختلافات ابھی باقی ہیں: وینس
?️ 29 مئی 2026 سچ خبریں:امریکہ کے نائب صدر، جے ڈی وینس نے اعلان کیا
مئی
آرٹیکل 47 کے تحت صدر کے مواخذے پر غور کرنا چاہیے، رضا ربانی
?️ 21 فروری 2021اسلام آباد{سچ خبریں} سینیٹ میں اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے
فروری
ترک فوج بھاری ہتھیاروں کے ساتھ شام میں داخل
?️ 15 اگست 2022سچ خبریں: گزشتہ شب اتوارکو ترک فوج بھاری ہتھیاروں، توپ خانے اور
اگست