?️
امریکا کا وینزویلا کے خلاف فوجی کارروائی کے بجائے معاشی دباؤ میں اضافہ
امریکی حکام کے مطابق آئندہ دو ماہ کے دوران امریکا وینزویلا کے خلاف اپنی پالیسی میں معاشی دباؤ کو مزید سخت کرنے پر توجہ دے گا، جبکہ تیل سے متعلق پابندیاں بدستور جاری رہیں گی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے حوالے سے الجزیرہ نے رپورٹ کیا ہے کہ ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ واشنگٹن اس وقت فوجی دباؤ کے مقابلے میں اقتصادی پابندیوں کو زیادہ مؤثر ذریعہ سمجھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ فوجی آپشن بدستور موجود ہے، تاہم وائٹ ہاؤس کی فوری ترجیح پابندیوں کے ذریعے مطلوبہ سیاسی اہداف حاصل کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس نے امریکی فوج کو ہدایت دی ہے کہ خطے میں موجودگی برقرار رکھتے ہوئے بنیادی طور پر وینزویلا کے تیل پر عائد پابندیوں کے نفاذ اور سمندری نگرانی پر توجہ مرکوز کی جائے۔ اسی پالیسی کے تحت امریکی فورسز اب تک دو تیل بردار جہاز ضبط کر چکی ہیں جبکہ تیسرے کا تعاقب جاری ہے۔
گزشتہ ماہ کیریبین خطے میں کشیدگی اس وقت بڑھی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر تقریباً 15 ہزار فوجی، ایک طیارہ بردار بحری جہاز، میزائل بردار جنگی جہاز اور آبی و بری حملہ آور جہاز تعینات کیے گئے۔ یہ کئی دہائیوں میں خطے میں امریکی فوج کی سب سے بڑی تعیناتی سمجھی جا رہی ہے، جس نے وینزویلا کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات کو جنم دیا۔
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات منشیات اسمگلنگ اور بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف ہیں، تاہم ناقدین کے مطابق وینزویلا کے تیل کی ناکہ بندی عملی طور پر ایک جنگی اقدام کے مترادف ہو سکتی ہے۔ اگرچہ ان کارروائیوں میں زیادہ تر امریکی کوسٹ گارڈ شامل ہے، جو امن کے زمانے میں ایک سول ادارہ تصور کیا جاتا ہے، لیکن سمندری محاصرہ بین الاقوامی قوانین کے تحت تنازع کا باعث بن سکتا ہے۔
وینزویلا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجے گئے بیان میں تیل بردار جہازوں کی ضبطی کو بحری قزاقی سے بھی بدتر قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ وینزویلا کی معیشت کا بڑا انحصار تیل پر ہے اور 2005 سے جاری امریکی پابندیاں، خصوصاً 2019 میں توانائی کے شعبے پر عائد کی گئی پابندیاں، ملک کی معیشت کو شدید متاثر کر چکی ہیں۔
ادھر وائٹ ہاؤس کا دعویٰ ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو منشیات اسمگلنگ میں ملوث گروہوں کی حمایت کرتے ہیں، جنہیں امریکا دہشت گرد تنظیمیں قرار دیتا ہے۔ اسی تناظر میں ستمبر سے اب تک امریکی فضائی حملوں میں درجنوں کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا، جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ منشیات لے جا رہی تھیں۔ ان حملوں میں کم از کم 105 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں، جبکہ یہ کارروائیاں کانگریس کی منظوری کے بغیر کی گئیں۔
مجموعی طور پر امریکا اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے، اور موجودہ اشارے بتاتے ہیں کہ آنے والے عرصے میں اقتصادی پابندیاں اس تنازع کا مرکزی ہتھیار رہیں گی۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
یمن میں قیدیوں کے تبادلے پر عمل درآمد کے لیے اقوام متحدہ کی کوشش
?️ 8 مارچ 2023سچ خبریں:یمن کے ایک سیاسی ذریعے نے اعلان کیا ہے کہ اقوام
مارچ
پی آئی اے نے 17 ارب کی قرض وصولی کے بعد فلائٹ آپریشنز بحال کردیا
?️ 18 ستمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) مالی مسائل سے دوچار پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی
ستمبر
دہشتگردی، موسمیاتی تبدیلی، عدم مساوات کا مقابلہ ملکر کرنا ہوگا۔ بلاول بھٹو
?️ 9 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا
جولائی
یمن جنگ بندی کے لیے نیا منصوبہ پیش
?️ 22 اپریل 2021سچ خبریں:عرب امن گروپ نے یمن میں جنگ کے خاتمے کا منصوبہ
اپریل
بن سلمان کا اسرائیل کے ساتھ تجارتی چینل بے نقاب
?️ 17 جنوری 2023سچ خبریں:صہیونی میڈیا نے ایسے چینل کا انکشاف کیا جسے سعودی کمپنیاں
جنوری
جنرل فیض کے دورے کے بارے میں فواد چوہدری کا بیان سامنے آگیا
?️ 5 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں)وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ جنرل
ستمبر
ٹرمپ کے جنگی اختیارات پر ووٹنگ ملتوی
?️ 22 مئی 2026 سچ خبریں: فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ایوان زیریں
مئی
ایران کے صدارتی انتخابات اور اسلام دشمن طاقتوں کی ناکام سازشیں
?️ 29 جون 2021(سچ خبریں) ایران کے تیرہویں صدارتی انتخابات میں آیت اللہ ابراہیم رئیسی
جون