اقتدار میں برقرار رہنے کے لیے نتن یاہو کی انتہا پسند وزیر سے فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش

نیتن یاہو

?️

اقتدار میں برقرار رہنے کے لیے نتن یاہو کی انتہا پسند وزیر سے فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش

صہیونی اخبار ہاآرتص کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو دائیں بازو کی اتحادی سیاست میں بنیادی تبدیلیوں پر غور کر رہے ہیں، جن میں خاص طور پر انتہا پسند وزیر خزانہ بزالل اسموتریچ کو کنارے لگانا شامل ہے۔ اس اقدام کا مقصد آنے والے انتخابات میں اپنی سیاسی بقا اور اقتدار کو یقینی بنانا بتایا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نتن یاہو اسموتریچ کی جگہ اوفر فینتر کو سامنے لانے کے امکان پر غور کر رہے ہیں، جو ماضی میں گفعاتی بریگیڈ کے کمانڈر رہ چکے ہیں۔ ہاآرتص لکھتا ہے کہ نتن یاہو کو خدشہ ہے کہ اسموتریچ کی جماعت آئندہ انتخابات میں کم از کم انتخابی حد عبور کرنے میں ناکام ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ کنیسٹ یعنی اسرائیلی پارلیمان میں نشست حاصل نہ کر پائے۔

اخبار کے مطابق فلسطینیوں کے خلاف اسموتریچ کے اشتعال انگیز بیانات اور سخت عسکری لہجے نے نہ صرف اندرونی سطح پر تنازع کو بڑھایا ہے بلکہ بیرونی دباؤ میں بھی اضافہ کیا ہے۔ اسی تناظر میں نتن یاہو ایک ایسے فوجی پس منظر رکھنے والے فرد کی تلاش میں ہیں جو مذہبی دائیں بازو کے حلقوں میں زیادہ مقبول ہو اور انتخابی طور پر کم خطرناک ثابت ہو سکے۔

ہاآرتص کے مطابق نتن یاہو کی ترجیح یہ ہے کہ اوفر فینتر کو انتخابی فہرست میں سرفہرست رکھا جائے جبکہ اسموتریچ کو دوسرے نمبر پر منتقل کیا جائے، تاکہ مذہبی صہیونی دھڑا پارلیمان میں اپنی موجودگی برقرار رکھ سکے اور دائیں بازو کا اتحاد مکمل طور پر ٹوٹنے سے بچ جائے۔

اسموتریچ، جو انتہائی دائیں بازو کے خیالات کے لیے جانے جاتے ہیں، اسرائیلی سیاست کی ایک متنازع شخصیت ہیں۔ ان کی جماعت مذہبی صہیونیت، ایتامار بن گویر کی قیادت میں قائم جماعت یہودی طاقت کے ساتھ مل کر نتن یاہو کی اتحادی حکومت کا حصہ ہے۔ اس اتحاد میں ان جماعتوں کی موجودگی حکومت کے استحکام کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے، اسی وجہ سے اسموتریچ کو غزہ کے خلاف جنگ سمیت کئی اہم فیصلوں میں نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہے۔

تاہم بین الاقوامی سطح پر اسموتریچ کی پالیسیوں اور بیانات پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک نے فلسطینیوں کے خلاف تشدد پر اکسانے کے الزام میں ان پر پابندیاں عائد کی ہیں، جبکہ نیدرلینڈز نے ان پر نسلی تطہیر کی تشہیر کا الزام لگایا ہے۔ ان حالات میں نتن یاہو کی جانب سے سیاسی صف بندی میں تبدیلی کی کوشش کو اقتدار میں رہنے کی ایک عملی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

کیا اسرائیل ایک برے معاہدے کی طرف بڑھ رہا ہے؟

?️ 15 جنوری 2025سچ خبریں: مشہور اسرائیلی مصنف اور محقق شلومی ایلدار نے آنے والے

امریکہ کی ایران کے ہاتھوں دوسرے آئل ٹینکر کو قبضے میں لینے کی تصدیق

?️ 4 مئی 2023سچ خبریں:ایرانی بحریہ نے خلیج فارس میں گزشتہ ہفتے دوسرے آئل ٹینکر

سلامتی کونسل میں اصلاحات کو تیز کیا جائے : اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر

?️ 30 اگست 2022سچ خبریں:    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر عبداللہ شہید

ماہرینِ صحت نے عیدالاضحیٰ پر کانگو وائرس کے خطرے سے خبردار کردیا

?️ 30 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) جانوروں کو سنبھالنے اور ذبح کرنے میں انتہائی احتیاط

آئندہ ماہ بجٹ پیش کیا جائے گا:نوید قمر

?️ 6 مئی 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر کا کہنا

فلسطینی قیدیوں کے ساتھ صیہونیوں کا نسل پرستانہ سلوک

?️ 23 مئی 2022سچ خبریں:فلسطینی قیدیوں کے امور کی نگراں کمیٹی کے ذرائع ابلاغ نے

ہم نے یوکرین کی 150 بلین یورو سے زیادہ کی مدد کی ہے: نیٹو

?️ 21 اپریل 2023سچ خبریں:نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے اندازہ لگایا کہ

امریکی ملک میں دو اہم جماعتوں کی کارکردگی سے غیر مطمئن ہیں

?️ 2 جون 2025سچ خبریں: امریکہ میں کئے گئے ایک سروے کے نتائج سے پتہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے