?️
اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے 5 اہداف، سعودی عرب اور مصر کو بڑے خطرے کا سامنا
عرب دنیا کے ممتاز تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو باضابطہ طور پر تسلیم کیے جانے کے اقدام کو عرب ممالک کو تقسیم کرنے کے منصوبے کی پہلی عملی کڑی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام کے پانچ اسٹریٹجک اہداف ہیں اور اس کے نتیجے میں سعودی عرب اور مصر کو ایک بڑے اور خطرناک چیلنج کا سامنا ہو سکتا ہے۔
میڈیا نے طاخبار رأی الیوم کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ عطوان نے اپنے تجزیے میں سوال اٹھایا کہ کیا اسرائیل کا سومالی لینڈ کو تسلیم کرنا عرب ممالک کے انہدام اور تقسیم کے منصوبے کا عملی آغاز ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے اصل نقصانات مصر اور سعودی عرب کو ہوں گے۔
عطوان کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا اور اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنا اس پالیسی کی واضح علامت ہے جس کے تحت خطے میں ریاستوں کو کمزور اور تقسیم کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام بحیرۂ احمر اور افریقہ کے ہارن سے متصل ممالک—سعودی عرب، سوڈان، مصر، یمن اور حتیٰ کہ اردن—کی قومی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کسی صورت اتفاقی نہیں، کیونکہ اسرائیل ہمیشہ جغرافیائی و سیاسی مفادات کے حصول کے لیے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے اور کم سے کم رعایت دینے کی پالیسی پر عمل کرتا ہے۔
غزہ کے سیکڑوں ہزار باشندوں کو سومالی لینڈ منتقل کرنے کا منصوبہ۔ عطوان کے مطابق، بنیامین نیتن یاہو کی حکومت نے صومالی لینڈ کے علیحدگی پسند رہنما سے خفیہ رابطے قائم کیے ہیں اور غزہ کے باشندوں کو فضائی اور بحری راستے سے منتقل کرنے کے منصوبے عملی شکل اختیار کرنے کے قریب ہیں۔
آبنائے باب المندب اور خلیج عدن میں اسرائیلی فوجی موجودگی قائم کرنا اور بحیرۂ احمر و بحیرۂ عرب پر کنٹرول حاصل کرنا، تاکہ یمن کی اس مزاحمتی قوت کا مقابلہ کیا جا سکے جو اسرائیل کے خلاف محاذ بن چکی ہے۔ عطوان کے مطابق، یمنی افواج کے ہائپرسونک میزائل حملوں نے اسرائیلی ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا اور اسرائیل انہیں روکنے میں ناکام رہا۔
ایشیا اور مشرقی افریقہ تک اسرائیل کی بحری تجارتی راہداریوں کو محفوظ بنانا، جو اس کی 85 فیصد برآمدات پر مشتمل ہیں۔ یمن کی جانب سے بحیرۂ احمر کو اسرائیلی جہازوں کے لیے بند کیے جانے کے بعد یہ راستے مکمل طور پر معطل ہو چکے ہیں۔
نہری سوئز پر بالواسطہ دباؤ ڈالنا، مصری حکام سے سیاسی فائدہ حاصل کرنا اور افریقہ کے ہارن میں فوجی موجودگی کے ذریعے ایتھوپیا کے النهضہ ڈیم کو تحفظ فراہم کرنا۔
عرب ممالک کی تیل برآمدات کو خطرے میں ڈالنا، چاہے وہ آبنائے ہرمز سے گزریں یا امارات، سعودی عرب، عمان اور یمن کی بندرگاہوں سے روانہ ہوں۔
عطوان نے خبردار کیا کہ اسرائیل کے اس اقدام سے سب سے زیادہ خطرہ سعودی عرب اور مصر کو لاحق ہے، کیونکہ ان دونوں کی اسٹریٹجک قومی سلامتی براہِ راست نشانے پر آ گئی ہے۔ تاہم افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان ممالک نے اب تک صرف مذمت اور بیانات تک خود کو محدود رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ توقع تھی کہ مصر اور سعودی عرب فوری طور پر عرب اور افریقی سربراہی اجلاس بلانے کی درخواست دیتے تاکہ اس اسرائیلی دراندازی کے خلاف مشترکہ مؤقف اور عملی حکمتِ عملی تیار کی جا سکے اور صومالیہ کی علاقائی سالمیت کا دفاع کیا جا سکے۔
رأی الیوم کے مدیرِ اعلیٰ نے مزید کہا کہ سوڈان کی تقسیم، شام کے جاری انہدام اور اب سومالیہ کی ممکنہ تقسیم، سب ایک منظم اسرائیلی-امریکی منصوبے کا حصہ ہیں۔ سومالی لینڈ کو تسلیم کرنا اس منصوبے کا پہلا باضابطہ عملی قدم ہے، جو مستقبل میں خود سعودی عرب، یمن اور حتیٰ کہ مصر کی تقسیم کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے یمن کے جنوب میں عدن کو دارالحکومت بنانے والی ممکنہ نئی ریاست، حضرموت، المہرہ اور سقطری جیسے علاقوں کے ابھرنے اور شمال مشرقی شام میں کرد انتظامیہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ خطہ ایک نہایت خطرناک دور میں داخل ہو چکا ہے۔
آخر میں عطوان نے خبردار کیا کہ آنے والا منظرنامہ نہایت تاریک اور خوفناک ہے، خاص طور پر اس وقت جب عرب دنیا کی سرکاری سطح پر بے عملی عروج پر ہے اور اسرائیلی توسیع پسندی کو امریکا کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے جمعے کے روز سومالی لینڈ کو باضابطہ طور پر ایک خودمختار اور آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔


مشہور خبریں۔
اسلامی جہاد: فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دینے کی منظوری منظم قتل کے دائرے میں ہے
?️ 11 نومبر 2025سچ خبریں: اسلامی جہاد نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا
نومبر
حالیہ قسام آپریشن منفرد تھا: عسکری ماہر
?️ 31 اگست 2025سچ خبریں: عسکری امور کے ماہر واصف عریقات نے زور دے کر
اگست
یمن میں سعودی عرب کی غیرقانونی جنگ کے نتیجے میں یمن کی نصف آبادی پینے کے پانی سے محروم: اقوام متحدہ
?️ 30 اگست 2021جنیوا (سچ خبریں) اقوام متحدہ نے یمن میں سعودی اتحاد کی جانب
اگست
غزہ کے تلخ واقعات نے صاف ظاہر کیا کہ بین الاقوامی قانون دم توڑ چکا ہے
?️ 15 نومبر 2025سچ خبریں: فرانسیسی نژاد امریکی مصور اور اقوام متحدہ کے مصنفین کی
نومبر
آپریشن غضب للحق: 796 دہشتگرد ہلاک، 286 چوکیاں تباہ، 44 پر قبضہ
?️ 5 اپریل 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے آپریشن غضب للحق
اپریل
یوکرین میں پیش رفت کے بارے میں صیہونی حکومت کو ماسکو کا جواب
?️ 11 اکتوبر 2022سچ خبریں: تل ابیب میں ماسکو کے سفارت خانے نے یوکرین
اکتوبر
ٹرمپ نے پوپ پر کیتھولک عوام کو خطرے میں ڈالنے کا الزام عائد کر دیا
?️ 6 مئی 2026سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے حال ہی میں دنیا
مئی
عرب نوجوان کن ممالک کو مضبوط اتحادی سمجھتے ہیں؟
?️ 14 اگست 2023سچ خبریں: متحدہ عرب امارات میں مقیم ایک کمپنی کی جانب سے
اگست