?️
اسرائیل کی مذمت میں 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ اعلامیہ
آٹھ عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ اعلامیے میں صہیونی رژیم کے غیرقانونی اور نامشروع اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کو فلسطین کے مقبوضہ علاقوں پر کسی قسم کی حاکمیت حاصل نہیں ہے۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے غیرقانونی حاکمیت مسلط کرنے، یہودی بستیوں کو مستحکم کرنے، مغربی کنارے میں نئے انتظامی و قانونی حقائق قائم کرنے اور فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کی کوششوں کو سخت ترین الفاظ میں مسترد کیا ہے۔
اعلامیے میں ایک بار پھر اس بات پر زور دیا گیا کہ صہیونی رژیم کو مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر کوئی قانونی یا اخلاقی اختیار حاصل نہیں اور اس کے تمام یکطرفہ اقدامات بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں۔ وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیاں اور مغربی کنارے میں جاری غیرقانونی سرگرمیاں نہ صرف تشدد اور کشیدگی کو ہوا دے رہی ہیں بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔
بیان میں ان اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ پالیسیاں دو ریاستی حل کو کمزور کرتی ہیں اور فلسطینی عوام کے اس مسلمہ حق پر حملہ ہیں، جس کے تحت وہ 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق القدس الشریف کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد اور خودمختار ریاست قائم کرنے کے حقدار ہیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں خطے میں جاری امن کوششیں بھی شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے تمام غیرقانونی اقدامات باطل اور ناقابلِ قبول ہیں اور یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ اس قرارداد کے تحت 1967 کے بعد فلسطینی علاقوں، بشمول مشرقی القدس، کی آبادیاتی ساخت اور حیثیت تبدیل کرنے کی تمام کوششوں کو غیرقانونی قرار دیا گیا ہے۔ اعلامیے میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی 2024 کی مشاورتی رائے کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں فلسطینی مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کی پالیسیوں اور مسلسل موجودگی کو غیرقانونی قرار دیا گیا ہے۔
وزرائے خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو پورا کرے اور اسرائیل کو مغربی کنارے میں خطرناک حد تک بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اشتعال انگیز بیانات سے باز رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
اعلامیے کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ریاست کے قیام کی مکمل بحالی، دو ریاستی حل، بین الاقوامی قراردادوں اور عرب امن اقدام کی بنیاد پر ہی ممکن ہے، اور یہی واحد راستہ ہے جو خطے میں منصفانہ، جامع امن کے ساتھ پائیدار سلامتی اور استحکام کی ضمانت دے سکتا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل درست قرار، آرمی ایکٹ کی کالعدم قرار دی گئی شقیں بحال
?️ 7 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کی جانب سے فوجی عدالتوں میں
مئی
محمد علی سدپارہ کے متعلق حکومت اہم بیان جاری کر دیا
?️ 18 فروری 2021سکردو (سچ خبریں) گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت ناصر علی خان نے
فروری
بائیڈن نے ایران کے خلاف کھڑے ہونے کی ہمت نہیں کی: امریکی سینیٹر
?️ 19 جولائی 2022سچ خبریں: فاکس نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے سخت گیر
جولائی
یمن میں کون امن قائم نہیں ہونے دے رہا؟
?️ 28 جون 2023سچ خبریں:یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ مہدی المشاط نے منگل
جون
غزہ میں جنگ بندی کے لیے وٹیکاف کی ای اور تجویز
?️ 14 مئی 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے علاقائی دورے کے درمیان، جب
مئی
سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسٰی سے 3 اہم سوال
?️ 20 اپریل 2021اسلام آباد (سچ خبریں) سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی
اپریل
سلام ہو فلسطینی نوجوانوں پر
?️ 29 اپریل 2021سچ خبریں:لبنانی حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے اپنی ایک تقریر کی
اپریل
ہانیہ عامر کی ساتھی اداکاروں سے گلنے ملنے کی ویڈیو وائرل، صارفین کی تنقید
?️ 14 دسمبر 2025لاہور: (سچ خبریں) خوبرو اداکارہ ہانیہ عامر کی لکس سٹائل ایوارڈ کے
دسمبر