اسرائیل کا مصر کو گیس معاہدے کی منسوخی کی دھمکی

گیس معاہدہ

?️

اسرائیل کا مصر کو گیس معاہدے کی منسوخی کی دھمکی
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے مصر کے ساتھ گیس معاہدہ معطل کرنے کی دھمکی نے ایک بار پھر ظاہر کر دیا ہے کہ توانائی کس طرح تعاون کے بجائے سیاسی دباؤ کا ہتھیار بن سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام قاہرہ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کرے گا بلکہ تل‌آویو کی اپنی کمزوریوں کو آشکار کرتا ہے۔
یہ معاہدہ، جو 2019 میں اسرائیلی کمپنی نیومِد انرجی اور مصر کے درمیان طے پایا تھا، 2040 تک 130 ارب مکعب میٹر گیس کی برآمد پر مشتمل ہے، جس کی مالیت تقریباً 35 ارب ڈالر ہے۔ گیس کا ایک حصہ مصر کی اندرونی ضروریات کے لیے اور باقی مائع گیس کی شکل میں یورپ و ایشیا کو برآمد کیا جانا تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے پاس اس مقدار کی برآمد کے لیے کوئی متبادل راستہ موجود نہیں۔
نیتن یاہو کی دھمکی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مصر نے فلسطینیوں کی جبری ہجرت کی سخت مخالفت کی ہے۔ قاہرہ نے اسے "سکیورٹی کا سرخ خط” قرار دیا ہے۔ اسی تناظر میں مصر کی صدارتی ادارے سے وابستہ ضیاء رشوان نے دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا اگر نتانیاہو صرف سیاسی نہیں بلکہ معاشی نتائج بھی برداشت کر سکتا ہے تو معاہدہ منسوخ کرے؛ کیونکہ یہ معاہدہ اسرائیل کے لیے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مصر کے پاس توانائی کے متبادل ذرائع موجود ہیں، جن میں قبرص سے ممکنہ معاہدے اور 2027–2028 تک قابلِ تجدید اور جوہری توانائی کی توسیع شامل ہے۔ اسی لیے قاہرہ اس دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
توانائی کی رسد میں رکاوٹ کا سب سے بڑا نقصان یورپی منڈیوں کو بھی پہنچ سکتا ہے، کیونکہ مصر حالیہ برسوں میں مائع گیس کو دوبارہ برآمد کرنے کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔ یورپ جو روسی توانائی پر انحصار کم کرنا چاہتا ہے، اس معاہدے کی پائیداری کو ناگزیر سمجھتا ہے۔ اس لیے اسرائیل کی دھمکی صرف مصر ہی نہیں بلکہ یورپ کے توانائی توازن کے لیے بھی خطرہ ہے۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ نتن یاہو توانائی کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے مصر کو غزہ کے مسئلے پر اپنی شرائط منوانا چاہتے ہیں، لیکن قاہرہ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی اقتصادی مراعات کے بدلے فلسطینیوں کی جبری ہجرت پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
اس صورتحال نے مصر و اسرائیل کے تعلقات کو ایک نئے تناؤ میں دھکیل دیا ہے، جہاں معاشی مفادات، علاقائی سیاست اور غزہ کے مستقبل پر پالیسی ایک دوسرے سے جُڑ گئی ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر نتانیاہو اپنے وعدے پر عمل کرتے ہیں تو یہ اقدام تل‌آویو کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی دباؤ میں مزید اضافہ کرے گا اور اسرائیل کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

اسیر خاندانوں کی نظربندی فلسطینیوں کی مرضی کو نہیں توڑے گی

?️ 27 دسمبر 2021سچ خبریں: فلسطینی اسلامی جہاد تحریک کے رکن شیخ خضر عدنان نے پیر

وال اسٹریٹ جرنل کا رپورٹر روس میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار

?️ 31 مارچ 2023سچ خبریں:امریکی شہری اور وال اسٹریٹ جرنل کے رپورٹر کو یکاترنبرگ میں

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر میں جاسوسی

?️ 4 نومبر 2024سچ خبریں: Yediot Aharanot اخبار نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر

جادوئی چراغ ؛ میدان جنگ میں اسرائیلی فوج کے کمانڈروں کے لیے ایک گائیڈ

?️ 18 اپریل 2025سچ خبریں: صہیونی میڈیا نے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی پر انحصار کرتے ہوئے

افغانستان کی صورتحال خطے اور دنیا کے مفاد میں نہیں: وزیر خارجہ

?️ 10 ستمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی کا افغانستان کی صورتحال

فوج مخالف مہمات پر ’نظر رکھنے کیلئے‘ ٹاسک فورس کے قیام کی تجویز

?️ 24 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) حکومت، فوج کے خلاف سوشل میڈیا مہمات پر نظر

حزب اللہ کیسے اسرائیل صفحۂ ہستی سے مٹا سکتی ہے؟

?️ 16 اگست 2023سچ خبریں: المیادین چینل نے حزب اللہ کے سکریٹری جنرل کی حالیہ

ریڈٹ کے شریک بانی بھی ٹک ٹاک خریداری کی دوڑ میں شامل

?️ 8 مارچ 2025سچ خبریں: سوشل نیوز شیئرنگ ویب سائٹ ریڈٹ کے شریک بانی الیکسس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے