?️
اسرائیل کا قطر پر حملہ ایران کے حق میں گیا
عالمی جریدے بلومبرگ کے مطابق حالیہ دنوں اسرائیل کی جانب سے قطر میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے والی کارروائی خطے میں طاقت کے توازن کو ایران کے حق میں موڑ سکتی ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس حملے نے خلیجی ممالک کے لیے امریکہ کی سلامتی کی ضمانتوں پر اعتماد کو کمزور کر دیا ہے۔ اس صورتحال سے یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ خلیجی ریاستیں مغربی طاقتوں سے فاصلہ اختیار کر کے ایران سمیت دیگر عالمی قوتوں کے ساتھ نئے سیاسی، اقتصادی اور عسکری تعلقات قائم کر سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ پیشرفت دراصل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس پالیسی کو نقصان پہنچاتی ہے جس کا مقصد ایران کو کمزور کرنا اور اسرائیل کو عرب دنیا کے ساتھ قریب لانا تھا۔ لیکن اب خلیجی ممالک اسرائیل کو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ سمجھنے لگے ہیں اور اس کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔
مصری تجزیہ کار مصطفیٰ فحص کے مطابق پہلے عرب ریاستیں ایران کے خوف سے اسرائیل کے قریب جا رہی تھیں، لیکن اب اسرائیل کے اقدامات نے انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے، حتیٰ کہ وہ ایران کے ساتھ تعلقات مزید بہتر بھی کر سکتے ہیں۔
امارات کے ایک عہدیدار نے بلومبرگ کو بتایا کہ ابوظہبی اس حملے کے لیے تیار نہیں تھا اور اسرائیل خطے کے لیے براہِ راست خطرہ بنتا جا رہا ہے، جو بالآخر ایران کے مفاد میں ہے۔ اسی تناظر میں اطلاعات ہیں کہ اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنیوں کو دبئی میں نومبر میں ہونے والے بڑے ایئر شو میں شرکت سے روک دیا گیا ہے۔
کویتی محقق عبدالعزیز الانجاری کے مطابق اسرائیل نے وہی حملہ کیا جس کے بارے میں وہ خلیجی ممالک کو خبردار کرتا رہا تھا کہ ایران کرے گا۔ گویا اس نے ایران کی ممکنہ کارروائی کو اپنے ہاتھوں سے عملی جامہ پہنایا۔
دوسری جانب امریکی تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کے ڈائریکٹر رابرٹ ستلاف نے کہا کہ خلیجی ریاستوں کی صرف زبانی مذمت ظاہر کرتی ہے کہ شاید وہ اس واقعے کو ایک وقتی کارروائی کے طور پر دیکھ رہی ہیں، نہ کہ پالیسی میں بنیادی تبدیلی کے طور پر۔
خلیج میں تعینات ایک یورپی سفارتکار کے مطابق اب خلیجی ممالک یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ اسرائیل کا اگلا ہدف کہاں ہو سکتا ہے – ریاض یا ابوظہبی؟ ان کے بقول، امریکہ کی غیر واضح قیادت نے خطے کو غیر یقینی صورتحال میں ڈال دیا ہے۔
بحرین میں قائم بین الاقوامی ادارے IISS کے محقق حسن الحسن کے مطابق اسرائیل نے واضح کر دیا ہے کہ وہ خلیجی ریاستوں کے لیے براہِ راست خطرہ ہے اور ان کے پاس اس کا توڑ موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ ممالک اپنی سلامتی کے لیے روس یا چین کی جانب جھک سکتے ہیں، یا ترکی، پاکستان، بھارت اور انڈونیشیا جیسے ملکوں کے ساتھ تعاون بڑھا سکتے ہیں، یہاں تک کہ اپنی دفاعی پیداوار کو بھی تیز کر سکتے ہیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
قیصریہ رہائش کے بعد یروشلم میں بھی نیتن یاہو کا گھر خالی
?️ 20 نومبر 2024سچ خبریں: Ynet نیوز سائٹ کے مطابق ڈرون کے ذریعہ قیصریہ کو
نومبر
عمران خان ملکی سیاست کی شطرنج کے بادشاہ ہیں، فواد چوہدری
?️ 27 مئی 2024لاہور: (سچ خبریں) سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ عمران
مئی
اسرائیل میں اسلحہ لائسنس کی درخواستوں میں تین گنا اضافہ
?️ 18 ستمبر 2022سچ خبریں:ایک صہیونی میگزین نے اعتراف کیا ہے کہ فلسطینی نوجوانوں کی
ستمبر
تل ابیب کے کرائے کے فوجی
?️ 4 جنوری 2025سچ خبریں: لبنان میں صیہونیوں کی ناکامی کے بعد صیہونی آپریشن روم
جنوری
ہم ایران کے ساتھ کسی بھی طرح کی بات چیت کا خیرمقدم کرتے ہیں: سعودی وزیر خارجہ
?️ 16 دسمبر 2021سچ خبریں:سعودی وزیر خارجہ نے میڈیا کے ان دعوؤں کی تردید کی
دسمبر
پی آئی اے کا لاہور سے پشاور کے لئے پروازیں شروع کرنے کا فیصلہ
?️ 16 ستمبر 2021کراچی (سچ خبریں) پی آئی اے اندرون ملک سفر کرنے والوں کے
ستمبر
تحریک انصاف نے اسمبلی میں مخصوص نشستوں کے لیے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا
?️ 19 فروری 2024پشاور: (سچ خبریں) خیبرپختونخوا اسمبلی کی مخصوص نشستیں حاصل کرنے کیلئے پی ٹی آئی نے پشاور
فروری
نیتن یاہو کی بارہ سالہ حکمرانی کا خاتمہ
?️ 14 جون 2021سچ خبریں:صہیونی حکومت کی پارلیمنٹ نے بہت ساری بحث و مباحثے کے
جون