اسرائیل جنگ ختم کیے بغیر اپنے قیدیوں کی رہائی کا خواہاں

اسرائیل

?️

سچ خبریں: غزہ کے معاملے پر امریکہ اور صہیونی ریاست کی مسلسل فریب کاری کے بعد، امریکی سفیر اسٹیو وائٹ کوف کے جانب سے پیش کیے گئے جنگ بندی کے نئے تجاویز پر حماس کے رہنما باسم نعیم نے واضح موقف کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے وائٹ کوف کے تجاویز کو مسترد نہیں کیا، بلکہ گزشتہ ہفتے ان کے ساتھ ایک تجویز پر اتفاق کیا تھا جسے ہم نے مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قابل قبول سمجھا۔
باسم نعیم نے کہا کہ لیکن بعد میں صہیونی فریق کی طرف سے جو جواب ملا، وہ ہمارے اور وائٹ کوف کے درمیان طے شدہ امور سے میل نہیں کھاتا اور نہ ہی فلسطینی عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے باوجود، ہم نے فلسطینی عوام کی شدید مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس تجویز پر غور کیا اور اپنا جواب اس طرح دیا کہ ہمارے عوام کی کم از کم ضروریات پوری ہو سکیں۔
حماس کے رہنما نے زور دے کر کہا کہ ہم نے دشمن سے مطالبہ کیا کہ وہ 60 روزہ عارضی جنگ بندی کا احترام کرے اور غزہ میں کافی مقدار میں انسان دوست امداد کی رسائی کو یقینی بنائے۔ ہمیں ایسی ضمانتوں کی ضرورت ہے جن کے تحت 60 روزہ جنگ بندی کے دوران مذاکرات جنگ کے خاتمے اور غزہ سے صہیونی افواج کے انخلا کا باعث بنیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ صہیونی فریق کا جواب ہی مذاکرات کا واحد معیار کیوں ہونا چاہیے؟ یہ رویہ ثالثی میں غیرجانبداری اور انصاف کے اصولوں کے منافی ہے اور دشمن (اسرائیل) کی مکمل حمایت کو ظاہر کرتا ہے۔ صہیونی ریاست چاہتی ہے کہ بغیر کسی ضمانت کے، پہلے ہفتے میں ہی اپنے قیدیوں کو رہا کر لے، حالانکہ گزشتہ ہفتے ہم نے وائٹ کوف کے ساتھ جو تجاویز طے کی تھیں، ان پر عملدرآمد کی کوئی یقین دہانی نہیں ہے۔
باسم نعیم نے واضح کیا کہ اسرائیل چاہتا ہے کہ انسان دوست امداد اس کے اپنے پروگرام کے تحت غزہ میں داخل ہو، نہ کہ یکم مارچ سے قبل یا 19 جنوری کے معاہدے کے مطابق۔ درحقیقت، اسرائیل کے منصوبے کے تحت ہمیں غزہ میں امداد کی فوجی سازی کو جائز قرار دینا ہوگا اور صہیونیوں کو اس منصوبے کو نافذ کرنے میں مدد فراہم کرنی ہوگی!
انہوں نے مزید کہا کہ صہیونی افواج غزہ میں اپنی نئی فوجی موجودگی کو برقرار رکھتے ہوئے اور اس علاقے پر اپنا کنٹرول مضبوط کرتے ہوئے انخلا کے منصوبوں پر مذاکرات کرنا چاہتی ہیں۔
انہوں نے اختتام پر کہا کہ صہیونی فریق کے جواب کے مطابق، مذاکرات کے اختتام پر جنگ بندی اور دشمن فوجوں کے انخلا کی کوئی واضح ضمانت موجود نہیں ہے، بلکہ بات صہیونی فوج کی غزہ میں دوبارہ تعیناتی اور سلامتی انتظامات کے بارے میں ہے۔
دوسری جانب، اسٹیو وائٹ کوف نے حماس کے جواب کو غیرقابل قبول قرار دیا ہے، جس میں جنگ کے خاتمے اور غزہ سے صہیونی افواج کے انخلا کی ضمانتوں کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ حماس کا جواب ان کے پیش کردہ مسودے کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے تھا۔ لیکن فلسطینیوں کا اصرار ہے کہ وائٹ کوف کی تجاویز صہیونی ریاست کے مفادات کے عین مطابق ہیں، جن میں واضح ضمانتوں کا فقدان ہے اور جنگ کے خاتمے کے حوالے سے کئی سوالات موجود ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ، پچھلے تمام معاملات کی طرح، صہیونی ریاست کے ساتھ ملی بھگت کرکے مزاحمت کے ہاتھ سے قیدیوں کے کارڈ کو نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جیسا کہ ماضی میں ثابت ہو چکا ہے، نہ امریکہ اور نہ ہی اسرائیل اپنے وعدوں پر قائم رہتے ہیں، اور کسی بھی وقت معاہدے کو توڑ کر غزہ پر دوبارہ حملے کا خطرہ موجود ہے۔

مشہور خبریں۔

امریکی صدر کی افغان رہنماؤں کے ساتھ اہم ملاقات، افغانستان کی مکمل حمایت جاری رکھنے کا کھوکھلا وعدہ

?️ 27 جون 2021واشنگٹن (سچ خبریں) امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان کے صدر اشرف

صہیونی وزیر کا متحدہ عرب امارات کا خفیہ دورہ

?️ 24 جنوری 2023سچ خبریں:عبرانی ویب سائٹ واللا نے دو باخبر ذرائع کے حوالے سے

گودار بندرگاہ کو شمسی توانائی سے چلایا جائے گا، وزیر بحری امور

?️ 27 اگست 2025گوادر: (سچ خبریں) وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری

شمالی کوریا کے رہنما کا بڑے پیمانے پر خودکش ڈرونز کی تیاری کا حکم

?️ 16 نومبر 2024سچ خبریں:شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے خودکش اور حملہ

شہید سلیمانی ہماری مدد کو آنے والے پہلے شخص تھے:کُرد سیاستدان

?️ 7 جنوری 2023سچ خبریں:عراق کی کردستان سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے سکریٹری جنرل نے کہا

عدم اعتماد کی تحریک ایک بین الاقوامی سازش تھی:فواد چوہدری

?️ 7 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان

چینی غبارے کا مشن؛ موسمیات یا جاسوسی؟

?️ 6 فروری 2023سچ خبریں:فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے سی آئی اے کے ایک

روس کا مغرب پر شدید حملہ؛ نیٹو نے عالمی استحکام کو خطرے میں ڈالا 

?️ 2 مئی 2026 سچ خبریں:روس کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے