?️
اسرائیل اب بھی پورے فلسطین پر قبضے کی کوشش میں :فلسطینی تجزیہ کار
ایک ممتاز فلسطینی تجزیہ کار نے کہا ہے کہ اسرائیل کی حالیہ سرگرمیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ وہ اب بھی پورے فلسطینی علاقے پر قبضہ برقرار رکھنے اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے کے اپنے دیرینہ ہدف پر قائم ہے۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی شہاب کے مطابق، سیاسی تجزیہ کار سلیمان بشارت نے کہا کہ اسرائیلی قابض حکام غزہ کی پٹی اور مجموعی طور پر فلسطینی کاز کے مستقبل کے حوالے سے ایک واضح اور منظم اسٹریٹجک سوچ رکھتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ حکمتِ عملی چند بنیادی ستونوں پر مبنی ہے، جن میں سب سے اہم 1967 کی سرحدوں کے اندر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنا اور پورے فلسطینی علاقے پر قبضے کو جاری رکھنا ہے۔ ان کے مطابق یہ پالیسی عالمی برادری کے ان مسلسل مطالبات کے بالکل برعکس ہے جن میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا جاتا رہا ہے۔
بشارت نے کہا کہ وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیل اب فلسطین۔اسرائیل تنازع سے متعلق بین الاقوامی مؤقف کو زیادہ اہمیت نہیں دے رہا۔ ان کے بقول، غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر اسرائیلی عدم اطمینان محض وقتی نہیں بلکہ اس کے پیچھے غزہ پر مکمل کنٹرول، مستقل موجودگی اور یہودی بستیوں کے قیام کا طویل المدتی منصوبہ کارفرما ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے اندر دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتیں کھلے عام غزہ پر دوبارہ مکمل قبضے کا مطالبہ کر رہی ہیں، اور بعض اوقات ان مطالبات کو واشنگٹن پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ فلسطینی علاقوں میں مزید آبادکاری کی راہ ہموار کی جا سکے۔ اس صورتحال نے فلسطینی عوام میں ایک بار پھر جبری بے دخلی اور زمینوں پر قبضے کے خدشات کو بڑھا دیا ہے، جن کی عالمی سطح پر بارہا مذمت کی جا چکی ہے۔
سلیمان بشارت نے زور دیا کہ اسرائیلی پالیسیاں اب بھی ’’جبری بے دخلی کی ذہنیت‘‘ پر مبنی ہیں، جو بعض سرکاری بیانات میں بھی جھلکتی ہے۔ ان کے مطابق ان پالیسیوں کے تسلسل سے فلسطینی قومی منصوبہ شدید خطرات سے دوچار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ موجودہ حالات میں اسرائیل کو بعض علاقوں میں برتری حاصل دکھائی دیتی ہے، تاہم یہ برتری اس کے طویل المدتی اسٹریٹجک اہداف کی ضمانت نہیں۔ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر تبدیلیاں طاقت کے توازن کو بدل سکتی ہیں اور اسرائیل کی اپنی مرضی مسلط کرنے کی صلاحیت کو محدود کر سکتی ہیں۔
فلسطینی تجزیہ کار کے مطابق، چاہے اسرائیلی حکمتِ عملی فی الحال غالب نظر آئے، فلسطین۔اسرائیل تنازع ختم نہیں ہوگا بلکہ آنے والے وقت میں یہ مختلف شکلوں میں مزید پھیل بھی سکتا ہے، جبکہ سیاسی، فوجی یا علاقائی حالات میں کوئی بھی بڑی تبدیلی فلسطینی کاز کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
اسرائیل کو جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کرانے کے لیے کوششیں جاری ہیں:لبنانی صدر
?️ 17 فروری 2025 سچ خبریں:لبنان کے صدر نے کہا کہ وہ صہیونی حکومت کو
فروری
اسرائیل کے جنگی جرائم کے جواب میں دا سلوا کی جرات اور عرب سراب کی خاموشی
?️ 23 فروری 2024سچ خبریں:ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں افریقی یونین کے 37ویں سربراہی
فروری
سوات دھماکوں میں دہشت گردی کے کوئی ثبوت نہیں ملے، رپورٹ
?️ 1 مئی 2023سوات: (سچ خبریں) فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی جانب سے پیش کی گئی
مئی
خالد مشعل: اسرائیل ایک حقیقی خطرہ ہے/گزیٹا کی خودمختاری فلسطینیوں کی ہونی چاہیے
?️ 10 دسمبر 2025سچ خبریں: حماس تحریک کے بیرون ملک سربراہ خالد مشعل نے اس
دسمبر
کوئٹہ اور تربت میں ایف سی اہلکاروں پر دہشت گردانہ حملے، 4 اہلکار شہید
?️ 1 جون 2021کوئٹہ (سچ خبریں)کوئٹہ اور تربت میں ایف سی اہلکاروں پر دو مختلف
جون
سپریم کورٹ نے 9 مئی کے مزید کئی مقدمات سماعت کیلئے مقرر کردیئے
?️ 10 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ آف پاکستان نے 9 مئی کے
اپریل
یمن میں متحدہ عرب امارات کی نقل و حرکت ، ریاض اور ابوظہبی تنازع کو فروغ دیتی
?️ 10 اکتوبر 2021سچ خبریں: یمن میں متحدہ عرب امارات کی حالیہ چالوں نے ابوظہبی اور
اکتوبر
وہابیت کے خلاف مصری مذہبی ادارے کا متنازع سیٹ
?️ 7 مارچ 2023سچ خبریں:مصر میں فتویٰ جاری کرنے کی ذمہ دار تنظیم نے فیس
مارچ