اسرائیلی کابینہ اور آرمی چیف کے درمیان نئے تنازع کا سبب

اسرائیلی کابینہ

?️

سچ خبریں: غزہ میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی اور قیدیوں کی رہائی کے دعووں کے ساتھ ساتھ، اسرائیلی میڈیا نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج نے اپنے فوجی بجٹ میں 2.6 ارب ڈالر کے اضافے کی درخواست کی ہے۔
اگرچہ اس بڑی کارروائی کے بارے میں واضح تفصیلات دستیاب نہیں ہیں، لیکن کچھ مبصرین اسے قاہرہ میں جنگ بندی مذاکرات کے تناظر میں ایک سیاسی بلوف قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسرے اسے اسرائیلی حکومت کے اندرونی دباؤ سے جوڑ رہے ہیں۔
اس سلسلے میں، اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت نے رپورٹ کیا ہے کہ فوج کی یہ درخواست اسرائیلی وزارت خزانہ کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا کر رہی ہے، کیونکہ کسی بھی اضافی اخراج سے بجٹ خسارہ بڑھ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں مقبوضہ علاقوں کے باشندوں اور اسرائیلی کابینہ پر معاشی دباؤ میں اضافہ ہوگا۔ تاہم، کابینہ کے کچھ حلقے اس کی حمایت کر رہے ہیں اور وہ ٹیکسوں میں اضافہ اور دیگر اخراجات میں کمی کر کے غزہ میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کے لیے فنڈز فراہم کرنا چاہتے ہیں۔
اسرائیلی ریاست نے 2024 میں غزہ اور لبنان کے خلاف جنگ پر 38 ارب ڈالر خرچ کیے، جس کے باعث اس کا قرضہ جی ڈی پی کے تناسب سے 8.6 فیصد تک بڑھ گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسرائیلی وزیر خزانہ بیزیلئل سموتریچ کا رویہ ان واقعات کے بارے میں دوغلا ہے۔ ایک طرف تو وزارت خزانہ فوجی بجٹ میں اضافے کی مخالفت کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف وہ غزہ میں زمینی کارروائیوں کے توسیع کا مطالبہ کر رہی ہے۔ سموتریچ نے پہلے بھی کہا تھا کہ فوج کو غزہ میں بڑے پیمانے پر کارروائی کرنے کا فیصلہ کرنا چاہیے، جو درحقیقت آرمی چیف کے لیے ایک طنز تھا، جس نے حالیہ رپورٹس میں فوجی بجٹ اور بھرتیوں میں اضافے کی درخواست کی تھی تاکہ غزہ کے مکمل قبضے پر مبنی سیاسی ایجنڈے کو عملی شکل دی جا سکے۔
اسموتریچ کے طنز آمیز بیانات نے ایال زامیر کے ساتھ لفظی جھگڑے کو جنم دیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، سموتریچ نے زامیر کو کہا کہ وہ بھی سابق آرمی چیف ہرتزی ہالوی کے راستے پر چل رہا ہے۔ اس تنازعے کے دوران، سموتریچ نے زامیر سے سخت لہجے میں کہا کہ جو شخص اپنے فرائض صحیح طریقے سے انجام نہیں دے سکتا، وہ گھر جا سکتا ہے اور کوئی دوسرا اس کی جگہ لے سکتا ہے۔
اس تنازع کی بنیادی بات یہ ہے کہ یہ اختلافات کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ جنگ کے دوران بھی اسرائیلی آرمی چیف اور کابینہ کے درمیان مسلسل اختلافات رہے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ اس وقت سابق وزیر دفاع یوآو گالانٹ ہالوی کی حمایت کر رہے تھے، جبکہ موجودہ وزیر دفاع یسرائل کاٹز اسرائیل کے انتہا پسند وزراء کے قریب ہیں۔
دریں اثنا، سموتریچ زامیر اور نیٹن یاہو پر دباؤ بڑھا رہے ہیں کہ وہ غزہ میں مکمل کنٹرول، یہودی بستیاں اور فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے ٹرمپ منصوبے کے تحت ایک وسیع فوجی کارروائی کا آغاز کریں۔

مشہور خبریں۔

واشنگٹن کی غلط اندازے بازی ناکام، ایران نے طاقت کا توازن کیسے بدل دیا؟

?️ 26 اپریل 2026سچ خبریں:امریکی پالیسی میں ایران کے حوالے سے اسٹریٹجک الجھن، گارڈین کی

سعودی عرب کے بادشاہ اور ولی عہد کا ایران کو انقلاب کی سالگرہ پر تہنیتی پیغام

?️ 11 فروری 2026سعودی عرب کے بادشاہ اور ولی عہد کا ایران کو انقلاب کی

ایف بی آر کی نئے ٹیکسز کے بغیر آئی ایم ایف کو اہداف حاصل کرنے کی یقین دہانی

?️ 20 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان کی عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے

کراچی پولیس چیف کا لاپتا بچوں کی بازیابی کیلئے مؤثر اقدامات کرنے کا حکم

?️ 24 جنوری 2025کراچی: (سچ خبریں) کراچی پولیس چیف نے افسران کو حکم دیا ہے

آئندہ 2 سے 4 روز میں ٹکٹوں کا فیصلہ ہوجائے گا، چیئرمین پی ٹی آئی

?️ 28 دسمبر 2023راولپنڈی: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا

اسرائیل کےخلاف آج آواز بلند نہ کی تو پھر بہت دیر ہو جائے گی، بلاول بھٹو زرداری

?️ 23 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا

تعمیراتی منصوبوں میں خورد برد کیس: فواد چوہدری کے جوڈیشل ریمانڈ میں 26 مارچ تک توسیع

?️ 11 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد کی احتساب عدالت نے جہلم میں

افغانستان میں سنگین صورتحال، سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

?️ 5 اگست 2021جنیوا (سچ خبریں)  افغانستان میں آئے دن صورتحال سنگین ہوتی جارہی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے