?️
سچ خبریں:ایک سعودی سماجی کارکن نے آل سعود کی طرف سے سعودی جیلوں کی مخدوش صورتحال پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی اطلاع دی۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور حلقوں کی جانب سے سعودی جیلوں کی مخدوش حالات اور قیدیوں پر تشدد کے حوالے سے بے شمار رپورٹیں شائع کیے جانے کے باوجود سعودی حکومت اپنے قریبی ذرائع ابلاغ کے ذریعے جیلوں کو 5 ستارہ ہوٹل کا روپ دینے کی کوشش کرتی ہے۔
اس حوالے سے سعودی کارکن فہد الغفیلی نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ آل سعود حکومت اس ملک کی جیلوں کی صورتحال کو اس قدر بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے کہ انہیں 5 اسٹار ہوٹل کی طرح دکھا رہی ہے جب کہ آزادی اظہار رائے کے بہت سے قیدیوں اور ان کے اہل خانہ نے کہا ہے کہ آل سعود کی جیلوں میں انسانی حقوق کے بنیادی معیارات کا بھی فقدان ہے۔
یاد رہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اقتدار میں آنے کے بعد سے مختلف طریقوں سے دنیا کے سامنے سعودی عرب کی ایک مختلف تصویر پیش کرنے اور خود کو اصلاحات، جدیدیت اور انسانی حقوق کے علمبردار کے طور پر متعارف کرانے کی کوشش کی ہے لیکن پس پردہ حقیقت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس ملک میں ایک جابرانہ حکومت ہے جو اپنے مذہبی اور سیاسی مخالف کارکنوں کو قید کرتی ہے، تشدد اور قتل عام کرتی ہے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں جزیرہ نما عرب میں انسانی حقوق کے دفاع کی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب میں قیدیوں بالخصوص آزادی اظہار رائے کے قیدیوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی وجہ سے اس ملک کی جیلیں دنیا کے خوفناک ترین مقامات میں شامل ہیں،انڈیپینڈنٹ اخبار نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ سعودی عرب میں سیاسی قیدیوں کو حکومت کی مخالفت کی وجہ سے بدترین تشدد کا سامنا ہے، جن میں جنسی طور پر ہراساں کرنا، شدید مار پیٹ، تشدد اور قتل شامل ہیں۔
واضح رہے کہ سعودی عرب میں سیاسی قیدیوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، وہ غذائی قلت کا شکار ہیں اور ان کے جسموں پر کٹنے، چوٹوں اور جلے ہوئے نشان دیکھے جاسکتے ہیں، اس کے علاوہ آل سعود کی جیلوں خصوصاً بدنام زمانہ ذہبان جیل میں آزادی اظہار رائے کے قیدیوں کو بار بار قید تنہائی میں منتقل کیا جاتا ہے یہاں تک کہ ان کی تمام عدالتی سماعتیں منسوخ کر دی گئیں اور انہیں حراست کے پہلے دن ہی قید تنہائی میں منتقل کر دی جاتی ہیں نیز کچھ کو قید کیے جانے کے فورا بعد بار قید تنہائی میں منتقل کیا جاتا ہے جو آل سعود کی جیلوں میں قیدیوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
سعودی حکومت کی جیلیں زندوں کا قبرستان بن چکی ہیں اور ان جیلوں میں تشدد، طبی غفلت اور ناروا سلوک آل سعود حکومت کی پالیسیوں میں شامل ہیں، سعودی عرب میں شدید خبری بائیکاٹ کے باجود سعودی حراستی مراکز میں سیاسی قیدیوں کی تعداد کے حوالے سے مختلف اعدادوشمار ہیں، تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق اس وقت سعودی عرب میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے 2613 سیاسی قیدی ہیں۔


مشہور خبریں۔
غزہ جنگ بندی مذاکرات کی تازہ ترین صورتحال
?️ 24 دسمبر 2024سچ خبریں: جنگ بندی کے مذاکرات میں مثبت ماحول کے بارے میں
دسمبر
شیزل شوکت کا جلد شادی کا عندیہ
?️ 11 اکتوبر 2024لاہور: (سچ خبریں) ابھرتی ہوئی اداکارہ و ماڈل شیزل شوکت نے اعتراف
اکتوبر
برطانیہ کے خلاف پاکستان کا شدید رد عمل سامنے آگیا
?️ 13 اپریل 2021اسلام آباد (سچ خبریں)اسلام آباد دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری
اپریل
روس کا ایران، امریکہ ایٹمی مذاکرات کے ممکنہ معاہدے میں تعاون کرنے پر آمادگی کا اظہار
?️ 19 اپریل 2025 سچ خبریں: روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ایران اور امریکہ کے
اپریل
بلگراد میں صربیا کے خلاف دسیوں ہزار مظاہرین کا احتجاج
?️ 28 مئی 2023سچ خبریں:صربیا کے دارالحکومت میں دسیوں ہزار افراد ایک بار پھر سڑکوں
مئی
عمران خان سمیت دیگر قیدیوں سے ملاقات کیلئے اڈیالہ جیل آنے والوں کی نگرانی کیلئے نیا سسٹم نصب
?️ 31 اکتوبر 2024 راولپنڈی: (سچ خبریں) اڈیالہ جیل راولپنڈی میں پاکستان تحریک انصاف (پی
اکتوبر
منظم شیطانی مافیا(13) شام سعودی دہشت گردی کا مرکز
?️ 25 فروری 2023سچ خبریں:شام میں ہونے والی خانہ جنگی جس کے نتیجے میں کم
فروری
نیتن یاہو اعصابی تناؤ کا شکار
?️ 10 نومبر 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے سابق وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے آج پولیٹیکو
نومبر