وائٹ ہاؤس میں زلنسکی کی تحقیر؛ امریکہ نے یوکرین کو کیسے جنگ کے دلدل میں دھکیلا؟  

 وائٹ ہاؤس میں زلنسکی کی تحقیر؛ امریکہ نے یوکرین کو کیسے جنگ کے دلدل میں دھکیلا؟  

?️

سچ خبریں:امریکہ نے یوکرینی صدر ولودیمیر زلنسکی کی نہ صرف شدید تحقیر کی، بلکہ ان پر دباؤ بڑھا کر انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ وہ اپنے جنگ زدہ ملک کے تمام قدرتی وسائل اور معدنیات واشنگٹن کے دیرینہ اتحادیوں کے حوالے کر دیں۔  

 وائٹ ہاؤس میں زلنسکی کی تذلیل؛ ٹرمپ کا جارحانہ رویہ  
10 مارچ کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ان کے نائب جی ڈی ونس اور یوکرینی صدر زلنسکی کے درمیان ہونے والی ملاقات ایک تلخ جھڑپ میں تبدیل ہو گئی، جس میں ٹرمپ اور ان کے نائب نے زلنسکی کی سرعام تذلیل کی۔
اس ملاقات کے دوران، ٹرمپ نے زلنسکی پر کئی بار چیخا، ان کی رائے کو بے ادبی قرار دیا، اور انہیں کھلے عام دھمکاتے ہوئے کہا:
اگر ہماری فوجی مدد نہ ہوتی تو یہ جنگ بہت پہلے ختم ہو چکی ہوتی، یا تو معاہدہ کرو یا ہم مزید مداخلت نہیں کریں گے، تمہارے پاس اتنی طاقت نہیں کہ تم ہمیں بتا سکو کہ جنگ بندی چاہیے یا نہیں!
اس تند و تیز مکالمے کے بعد، جس میں زلنسکی کے لباس کو بھی صحافیوں نے مذاق کا نشانہ بنایا، ٹرمپ نے یوکرینی صدر اور ان کے وفد کو وائٹ ہاؤس سے باہر نکال دیا۔
 امریکہ کا گیم پلان: یوکرین کو جنگ میں جھونکنے کی حکمت عملی  
2014 میں روس کی جانب سے کریمیہ کے الحاق کے بعد، امریکہ، یورپی یونین اور نیٹو نے یوکرین کے لیے حمایت کے نام پر ایک منظم پالیسی اپنائی، جس کے تحت:
1. مالی امداد:  
   – 2015 میں 2 ارب ڈالر کے قرضے دیے گئے۔
   – 2017-2022 میں یہ امداد 1 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔
   – یورپی یونین نے 17 ارب یورو کے ترقیاتی فنڈز فراہم کیے۔
2. فوجی امداد:  
   – امریکہ نے 2015 سے اینٹی ٹینک میزائل، بکتر بند گاڑیاں، کمیونیکیشن سسٹمز اور اسلحہ فراہم کیا۔
   – 2019 میں ٹرمپ نے 250 ملین ڈالر کے اضافی ہتھیار دیے۔
   – نیٹو نے یوکرینی فوج کی تربیت شروع کی۔
3. روس کے خلاف اقتصادی پابندیاں:  
   – 2014 سے روسی کمپنیوں پر تجارتی پابندیاں لگائی گئیں۔
   – روس کے مغربی بینکوں میں موجود اثاثے منجمد کیے گئے۔
4. سیاسی وعدے:  
   – یوکرین کو نیٹو اور یورپی یونین کی رکنیت کی امید دلائی گئی، جو کبھی پوری نہ ہو سکی۔
 یوکرین کے وسائل پر امریکہ کی نظریں  
یوکرین قدرتی وسائل سے مالامال ملک ہے، اور امریکی کمپنیاں یہاں 500 ارب ڈالر کے معدنی ذخائر پر قبضے کی خواہاں ہیں۔
– لیتھیم، یورینیم، ٹائٹینیم، گرافائٹ، کوئلہ اور نادر زمین کے عناصر جیسے قیمتی وسائل موجود ہیں۔
– رویٹرز کے مطابق، یوکرین 22 میں سے 34 اہم معدنیات کے ذخائر رکھتا ہے، جنہیں یورپی یونین نے ضروری وسائل قرار دیا ہے۔
 زلنسکی کی بے بسی اور امریکہ کی بے وفائی  
امریکہ نے پہلے یوکرین کو جنگ میں دھکیلا، اور اب جب جنگ طویل ہو گئی ہے، تو واشنگٹن نے اسے تنہا چھوڑ دیا ہے۔
– واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان خفیہ مذاکرات ہو رہے ہیں، جبکہ یوکرین کو ان میں شامل ہی نہیں کیا جا رہا۔
– امریکہ یوکرین کی معدنی دولت پر قبضہ کرنے کے بعد اسے مزید کمزور کر دے گا، جبکہ جنگ کا اصل نقصان یوکرینی عوام کو ہوگا۔
نتیجہ
یوکرین ایک ایسے دلدل میں پھنسا ہوا ہے جسے امریکہ اور مغرب نے خود تخلیق کیا۔ زلنسکی کی وائٹ ہاؤس میں تحقیر ایک واضح پیغام ہے کہ امریکہ کے اتحادی ہونے کا انجام کیا ہوتا ہے۔

مشہور خبریں۔

قنیطرہ میں صیہونی پرچم کا لہرایا جانا؛ شامی عوام کے جذبات مجروح

?️ 2 اکتوبر 2025سچ خبریں:شام کے جنوبی شہر قنیطرہ کے ایک میدان میں صیہونی حکومت

غیر قانونی سگریٹ سے حکومت کو سالانہ 300 ارب روپے کا نقصان

?️ 22 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ (آئی پی

امریکہ کا اصلی چہرہ دنیا کے سامنے آیا

?️ 9 اپریل 2024سچ خبریں: فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سینیئر رکن اسامہ حمدان

عظیم خان کی صارفین سے اپیل،میری نجی زندگی کے بارے میں سوالات کرنا بند کرو

?️ 3 اپریل 2021کراچی (سچ خبریں)بلا گر عظیم خان نے صارفین سے اپیل کی ہے

وزیر اعلیٰ کو 24گھنٹے ایوان کی اکثریت کا اعتماد حاصل ہونا چاہیے، لاہور ہائی کورٹ

?️ 11 جنوری 2023 لاہور:(سچ خبریں) لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ وزیر

کسی بھی صورت مستعفی نہیں ہوں گا اور آخری گیند تک اپوزیشن کا ڈٹ کر مقابلہ کروں گا:عمران خان

?️ 23 مارچ 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ کسی بھی

اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس میں 368 پوائنٹس کا اضافہ

?️ 24 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں)پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان جاری رہا،

کابل دھماکے میں شہید اور زخمی ہونے والوں کی تعداد 50

?️ 7 اگست 2022سچ خبریں:افغانستان کے دار الحکومت کابل کے مغرب میں واقع علاقے سرکاریز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے