?️
سچ خبریں:صہیونی حکومت کا مقبوضہ علاقوں میں المیادین چینل کی نشریات کو بند کرنے کا فیصلہ اس راستے کا تسلسل ہے جو وہ کئی برسوں سے بیانیے پر کنٹرول اور رائے عامہ کی انجینئرنگ کے میدان میں اختیار کیے ہوئے ہے۔
صہیونی حکومت کا یہ اقدام، جسے سکیورٹی جوازات اور قانونی منظوریوں کے تحت انجام دیا گیا، طاقت کی علامت سے زیادہ حقیقت کے پھیلاؤ کے خوف کی نشاندہی کرتا ہے۔ جو حکومت اپنے بیانیے پر پختہ یقین رکھتی ہو، اسے دیگر آوازوں کو حذف کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ وہ بیانیوں کو عوامی میدان میں مقابلہ کرنے دیتی ہے۔ میڈیا کی پابندی تب معنی خیز ہوتی ہے جب سرکاری بیانیہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے اور اس کا منطقی دفاع ممکن نہ رہے۔
یہ بھی پڑھیں:صحافیوں کا خون، جرائم کی گواہی؛عالمی خاموشی پر الجزائری میڈیا کا سخت انتباہ
گزشتہ مہینوں میں صہیونی حکومت نے نئی قانون سازی کے ذریعے وزراء اور سکیورٹی اداروں کے ہاتھ مضبوط کیے ہیں تاکہ وہ غیر ملکی میڈیا کو بند کر سکیں اور سکیورٹی کے مفہوم کو اس قدر وسیع کر دیا جائے کہ ہر تنقیدی آواز اس کے دائرے میں آ جائے۔ اس تناظر میں المیادین جیسا میڈیا، جو پیشہ ورانہ اور مستقل انداز میں فلسطین اور غزہ کی زمینی حقیقت کو کوریج کرتا ہے، ناقابلِ برداشت خطرہ بن چکا ہے۔
حقیقت بطور سیکیورٹی خطرہ
صہیونی سیاسی و سیکیورٹی ڈھانچے کی منطق میں خود حقیقت ایک سکیورٹی خطرہ بن چکی ہے۔ جو چیز اس حکومت کی سلامتی کو خطرے میں ڈالتی ہے وہ صرف زمینی مزاحمت نہیں بلکہ دعووں اور عملی حقائق کے درمیان مسلسل تضاد کا افشا ہونا ہے۔ برسوں تک مغربی رائے عامہ کے سامنے خود کو تاریخی ظلم و تشدد کا شکار دکھانے کی تصویر کارگر رہی، مگر غزہ کی حالیہ جنگ نے اس بیانیے کو شدید طور پر کمزور کر دیا ہے۔
المیادین جیسے میڈیا نے فلسطینیوں کی انسانی تکالیف پر توجہ مرکوز کر کے اور روزمرہ واقعات کو تاریخی و قانونی پس منظر سے جوڑ کر اس تضاد کو دنیا کے سامنے ٹھوس انداز میں پیش کیا۔ ملبے تلے دبے بچوں کی تصاویر، تباہ شدہ اسپتال اور محصور شہری آبادی اب مجرد رپورٹس میں چھپائی نہیں جا سکتی تھیں۔ ایسی صورتحال میں صہیونی حکومت کے لیے آسان راستہ جواب دینا نہیں بلکہ کیمرے بند کرنا اور آوازیں خاموش کرنا تھا۔
بیانیے کی انجینئرنگ
اسرائیل کی حکمت عملی صرف پابندی اور سنسرشپ تک محدود نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی میڈیا اسپیس میں اثر و رسوخ کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری، تعلقات عامہ کی کمپنیوں کے ساتھ تعاون، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں نفوذ، انفلوئنسرز اور ہم خیال تحقیقی مراکز کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔
مقصد یہ ہے کہ معلوماتی فضا کو نرم اور کنٹرول شدہ پیغامات سے بھر دیا جائے تاکہ متبادل بیانیے ہجوم میں گم ہو جائیں۔ تاہم حالیہ جنگ نے ثابت کیا کہ یہ طریقہ پیشہ ور اور معتبر میڈیا کے مقابلے میں محدود اثر رکھتا ہے۔ جب کوئی میڈیا عوام کا اعتماد جیت چکا ہو تو اسے مسابقت کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا؛ پھر صرف جسمانی یا قانونی حذف کا راستہ باقی رہ جاتا ہے۔
جواب دینے کے بجائے شیطان سازی
تنقیدی میڈیا کے خلاف جواز پیدا کرنے کے لیے صہیونی حکومت کا اہم ہتھیار شیطان سازی ہے۔ اس فریم میں المیادین کو خبر رساں ادارہ نہیں بلکہ سکیورٹی خطرہ اور حتیٰ کہ دہشت گردی کا آلہ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ حکمت عملی دوہرا فائدہ دیتی ہے: اندرونی رائے عامہ کو سنسرشپ کے لیے تیار کرتی ہے اور سخت اقدامات کے لیے قانونی و اخلاقی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
جب کسی میڈیا کو دشمن بنا دیا جائے تو اس کے خلاف ہر اقدام جائز دکھائی دینے لگتا ہے۔ یہی خطرناک منطق پہلے فلسطینیوں کے خلاف استعمال ہوئی اور اب میڈیا تک پھیل گئی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ مکالمے کے تمام دروازے بند ہو جاتے ہیں اور تشدد و انکار کا چکر مزید مضبوط ہوتا ہے۔
پابندی کمزوری کی علامت
تاریخی تجربہ بتاتا ہے کہ پابندی اور سنسرشپ شاذ و نادر ہی کسی بیانیے کو خاموش کر پاتی ہے؛ اکثر اس کا الٹا اثر پڑتا ہے اور سوالات بڑھ جاتے ہیں۔ المیادین کی بندش بھی اسی نوعیت کی ہے۔ یہ اقدام سرکاری بیانیے کو مضبوط کرنے کے بجائے توجہ اس طرف مبذول کراتا ہے جو چھپایا جا رہا ہے۔ آج کا ناظر جانتا ہے کہ ہر سنسرشپ کے پیچھے کوئی حقیقت چھپی ہوتی ہے۔
صہیونی حکومت دراصل اس میڈیا کی تاثیر کا اعتراف کر رہی ہے جسے وہ حذف کر رہی ہے۔ یہ اعتراف ظاہر کرتا ہے کہ اصل جنگ اب صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ معنی اور تعبیر کے میدان میں لڑی جا رہی ہے—جہاں کیمرہ اور لفظ ہتھیار جتنے طاقتور ہو سکتے ہیں۔
نتیجہ
مقبوضہ علاقوں میں المیادین کی بندش کو اسرائیل کی بیانیہ کنٹرول کی وسیع حکمت عملی کا حصہ سمجھنا چاہیے۔ یہ اقدام طاقت نہیں بلکہ بے بسی کی پیداوار ہے۔ غزہ اور فلسطین میں جو حقیقت سامنے آ چکی ہے وہ اب آسانی سے دبائی نہیں جا سکتی۔ اگر ایک میڈیا بند بھی کر دیا جائے تو اس کا بیانیہ دوسرے راستے تلاش کر لیتا ہے۔
مزید پڑھیں:عالمی خاموشی کے سائے میں غزہ میں صحافیوں کا قتلِ عام، حقیقت کے خلاف جنگ
ایسی دنیا میں جہاں میڈیا کی سرحدیں روز بروز کمزور ہو رہی ہیں، آوازیں دبانے کی کوشش مزید ناکام دکھائی دیتی ہے۔ جو چیز باقی رہتی ہے وہ اجتماعی یادداشت اور وہ سوالات ہیں جو ہر سنسرشپ کے ساتھ مزید نمایاں ہو جاتے ہیں۔ اس معنی میں المیادین کی بندش کسی آواز کا خاتمہ نہیں بلکہ اس منصوبے کی ناکامی کی علامت ہے جو برسوں سے یکطرفہ بیانیے اور حقائق چھپانے پر قائم تھا۔


مشہور خبریں۔
امریکی نوجوان القاعدہ اور اسامہ بن لادن کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ڈیلی میل کا سروے
?️ 30 دسمبر 2023سچ خبریں: 20 فیصد امریکی نوجوان القاعدہ دہشت گرد گروپ کے سابق
دسمبر
الاقصیٰ طوفان کی برسی پر نیتن یاہو کا اعتراف: فیصلہ کن فتح کی ابھی تک کوئی خبر نہیں
?️ 8 اکتوبر 2025سچ خبریں: پوڈ کاسٹ کے طور پر شائع ہونے والی ایک یہودی
اکتوبر
پی ٹی آئی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروادی
?️ 3 مئی 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پی ٹی آئی نے ملک بھر میں ایک
مئی
کیا اسرائیل حماس اور حزب اللہ کو شکست دے پائے گا ؟
?️ 8 جولائی 2024سچ خبریں: صیہونی فوج کے ریٹائرڈ جنرل اسحاق برک نے کہا ہے
جولائی
سعودی وزیر خارجہ کا ایران کے بارے میں تازہ ترین موقف
?️ 18 مارچ 2023سچ خبریں:سعودی وزیر خارجہ نے اپنے تازہ ترین موقف میں ریاض اور
مارچ
تقریباً 70 فیصد ریپبلکن بائیڈن کے مواخذہ کے خواہاں
?️ 23 مئی 2022سچ خبریں: بائیڈن کی صدارت کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد، غیر ملکی،
مئی
عالمی یوم القدس یوم یکجہتی فلسطین
?️ 6 مئی 2021سچ خبریں:عالمی یوم القدس کے موقع پر اسلامی جمہوریہ کے وزیر خارجہ
مئی
صیہونیوں کا نیتن یاہو کو ہٹانے کے لیے سپریم کورٹ کو خط
?️ 2 فروری 2024سچ خبریں:عبرانی اخبارکے مطابق 10 صہیونی شخصیتوں نے سپریم کورٹ کو ایک
فروری