آزاد شدہ فلسطینی قیدی کا قتل صہیونیوں کے خوف کی علامت ہے: حماس

حماس

?️

سچ خبریں:حماس نے غزہ میں ایک آزاد شدہ فلسطینی قیدی کے قتل کو اسرائیل کی انتقام پسندانہ پالیسی کا تسلسل قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صہیونی حکومت پر دباؤ ڈالے اور اس کے جنگی جرائم کا احتساب کرے۔

حماس نے غزہ میں ایک آزاد شدہ قیدی کے قتل کو اسرائیل کی دیرینہ کینہ توز پالیسی کا تسلسل قرار دیتے ہوئے قیدیوں کی حمایت کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کی صورتحال کے بارے میں چونکا دینے والی رپورٹ

غزہ کی پٹی میں قابض صہیونی فوج کے ہاتھوں ایک آزاد شدہ فلسطینی قیدی کی شہادت کے بعد، حماس کے رہنما عبدالرحمن شدید نے آج اپنے بیان میں کہا کہ باسل الہیمونی، جو ایک آزاد شدہ فلسطینی قیدی تھے اور انہیں غزہ کی پٹی میں جلاوطن کیا گیا تھا، کا قتل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صہیونی حکومت اب بھی سابق اور آزاد شدہ فلسطینی قیدیوں کو کھلے اہداف کے طور پر دیکھتی ہے اور ان کے خلاف انتقامی پالیسی کو آزادی کے بعد بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

عبدالرحمن شدید نے اپنے بیان میں زور دیا کہ یہ اقدام اس خطرناک رویے کا حصہ ہے جو قابض قوتوں نے غزہ کے خلاف جاری نسل کشی کی جنگ کے دوران اختیار کر رکھا ہے اور جس کے تحت بڑی تعداد میں آزاد شدہ قیدیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ان کی جدوجہد اور قومی مقام سے انتقام لیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ پالیسیاں صہیونی حکومت کی مجرمانہ فطرت اور نظریے کو بے نقاب کرتی ہیں، وہ حکومت جو فلسطینی قیدیوں کو اپنے فاشسٹ منصوبے کے لیے خطرہ سمجھتی ہے اور انہیں آئندہ نسلوں کے لیے مزاحمت کی علامت تصور کرتی ہے۔

اس حماس رہنما نے مزید کہا کہ صہیونی جارحانہ اقدامات نہ صرف فلسطینی قوم کو دبانے میں ناکام رہیں گے بلکہ ان کی مزاحمت کے عزم کو مزید مضبوط کریں گے۔

عبدالرحمن شدید نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بین الاقوامی برادری کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے اور صہیونی حکومت پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنا چاہیے تاکہ وہ فلسطینی قوم کے خلاف اپنے جرائم بند کرے، آزاد شدہ قیدیوں کو نشانہ بنانے کو جنگی جرم تسلیم کیا جائے اور ان جرائم کے مرتکب افراد کو عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے۔

مزید پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کے خلاف صیہونی مظالم

یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب آج فلسطینی قیدیوں کے دفتر نے اعلان کیا کہ خلیل باسل الہیمونی، جو 2011 کے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت غزہ کی پٹی میں جلاوطن کیے گئے تھے، گزشتہ روز قابض صہیونی فوج کے مجرمانہ حملے میں شہید ہو گئے۔

مشہور خبریں۔

غزہ کے بارے میں اردن کے بادشاہ کا تازہ ترین موقف کیا ہے؟

?️ 27 مئی 2024سچ خبریں: اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے غزہ کے بارے میں ایک

امریکی ایوان نمائندگان بھی یوکرینی عام شہریوں کے قتل عام میں شریک

?️ 14 جولائی 2023سچ خبریں: امریکی ایوان نمائندگان نے یوکرین کو کلسٹر بم بھیجنے پر

امریکہ میں پاک بحریہ کے سربراہ کی اعلیٰ عسکری و دفاعی حکام سے ملاقاتیں، بحری سلامتی پر تبادلہ خیال

?️ 18 اکتوبر 2025امریکہ میں پاک بحریہ کے سربراہ کی اعلیٰ عسکری و دفاعی حکام

نیا امریکی صدر کون ہو گا؟ٹرمپ یا ایلون مسک

?️ 23 دسمبر 2024سچ خبریں:امریکہ کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشہور ارب پتی اور

حماس اور اسلامی جہاد نے صہیونی آبادکاروں کی طرف سے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی مذمت کی

?️ 22 اپریل 2026سچ خبریں: فلسطینی تحریکوں حماس اور اسلامی جہاد نے کہا کہ آبادکار

عرب ممالک کا شنگھائی تنظیم میں شمولیت کا رجحان

?️ 7 اپریل 2023سچ خبریں:بعض بین الاقوامی ماہرین نے اعلان کیا کہ کثیر قطبی نظام

امیر قطر کا دورہ ایران برجام کے احیاء میں کارگر ثابت ہو سکتا ہے: امریکہ

?️ 12 مئی 2022سچ خبریں: واشنگٹن کے امریکن انسٹی ٹیوٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں

یہ غزہ ہے جو اسرائیل کو دنیا کے نقشے سے مٹا رہا ہے:صہیونی تجزیہ کار کا اعتراف

?️ 30 جولائی 2025یہ غزہ ہے جو اسرائیل کو دنیا کے نقشے سے مٹا رہا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے