اسرائیل کے لیے ایران جنگ کے تباہ کن نتائج

ایران کے خلاف جنگ

?️

سچ خبریں:امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ نے خطے میں طاقت کے توازن اور قوت مدافعت کے تصورات کو تبدیل کر دیا۔

ایک لبنانی تجزیہ کار کے مطابق اس جنگ نے اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے پانچ بڑے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں اور ایران کو ناقابل حذف علاقائی طاقت کے طور پر منوا دیا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ نہ صرف فوجی طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے میں ناکام رہی بلکہ اس نے خطے میں قوت مدافعت اور اسٹریٹجک اثر و رسوخ کی نئی تعریف بھی متعین کر دی، جس کے نتیجے میں اسرائیل کو ایران کے بارے میں اپنی بنیادی اسٹریٹجک سوچ پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

لبنانی قلمکار اور صیہونی امور کے تجزیہ کار علی حیدر کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ درحقیقت ایک اسٹریٹجک امتحان تھا، جس کا مقصد فریقین کی حقیقی طاقت کی حدود کا تعین کرنا تھا، چاہے وہ اپنے بارے میں ہو، اپنے حریف کے بارے میں یا علاقائی و بین الاقوامی ماحول کے حوالے سے۔

انہوں نے روزنامہ الاخبار میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں لکھا کہ امریکہ اس تصور کے ساتھ جنگ میں داخل ہوا تھا کہ اس کی فوجی برتری اور ایران کے ساتھ طاقت کا وسیع فرق اسے بڑے سیاسی نتائج مسلط کرنے کا موقع فراہم کرے گا، لیکن گزشتہ ساڑھے تین ماہ کے تجربے نے واشنگٹن کو یہ باور کرا دیا کہ تباہی پھیلانے اور حملے کرنے کی صلاحیت لازماً سیاسی ماحول کو ازسر نو ترتیب دینے، مخالف کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے، نظام کی تبدیلی لانے یا علاقائی توازن کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔

ایران کی غیر متوازن حکمت عملی، میزائل اور جوہری پروگرام سے آگے

علی حیدر کے مطابق ایران کو امریکہ کی فوجی اور تکنیکی برتری جاننے کے لیے اس جنگ کی ضرورت نہیں تھی، اسی لیے تہران نے پہلے ہی غیر متوازن حکمت عملی اختیار کر رکھی تھی، جس کی مؤثریت حالیہ جنگ میں واضح طور پر سامنے آئی۔

انہوں نے لکھا کہ عملی تصادم کے دوران یہ بات ثابت ہوئی کہ ایران کی طاقت صرف اس کے جوہری پروگرام، میزائلوں یا علاقائی اتحادیوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کی اصل قوت خطے کے اسٹریٹجک ماحول پر اثر انداز ہونے اور توانائی، تجارت اور عالمی بحری نقل و حمل کے حوالے سے وسیع علاقائی و بین الاقوامی بحران پیدا کرنے کی صلاحیت میں پوشیدہ ہے، جو فوجی ذرائع اور جغرافیائی اسٹریٹجک برتری کے امتزاج سے حاصل ہوتی ہے۔

آبنائے ہرمز، جنگ کا سب سے اہم اسٹریٹجک سبق

تجزیہ نگار کے مطابق آبنائے ہرمز پر ایران کے اثر و رسوخ نے اس جنگ کا سب سے اہم اسٹریٹجک سبق پیش کیا، جو امریکی اور عالمی پالیسی سازوں کے ذہنوں میں طویل عرصے تک محفوظ رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس جنگ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ایران اپنے قومی سلامتی کے مفادات کو عالمی معیشت اور توانائی کی سلامتی کے ساتھ جوڑنے کی مستقل صلاحیت رکھتا ہے۔

ایران کے بارے میں صیہونی تصور کی ناکامی

علی حیدر کے مطابق 28 فروری سے قبل صیہونی سیاسی اور سکیورٹی اداروں میں یہ تصور موجود تھا کہ تہران اور محور مزاحمت پر مسلسل فوجی دباؤ کے ذریعے خطے میں تل ابیب کے حق میں بڑی اور تاریخی تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔

تاہم بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ ایران کو گرانا، اسے علاقائی معادلات سے باہر کرنا یا اس پر اسٹریٹجک سطح پر ہتھیار ڈالنے کی شرائط مسلط کرنا حقیقت پسندانہ ہدف نہیں، خواہ امریکہ کی براہ راست فوجی طاقت بھی اس جنگ میں شریک کیوں نہ ہو۔

اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے جنگ کے 5 خطرناک نتائج

پہلا نتیجہ: فیصلہ کن فتح کے تصور کا زوال

صیہونی سکیورٹی نظریے کی ایک بنیادی اساس ہمیشہ یہ رہی ہے کہ دشمن کے خلاف فیصلہ کن اور حتمی فتح حاصل کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس جنگ نے یہ تصور مضبوط کیا ہے کہ ایران ایسا حریف ہے جسے نہ مکمل طور پر شکست دی جا سکتی ہے اور نہ ہی علاقائی معادلات سے خارج کیا جا سکتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کو مستقبل میں ایران کو ایک مستقل اور مؤثر علاقائی طاقت کے طور پر قبول کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسرا نتیجہ: ایران کی کثیر جہتی قوت مدافعت کا پھیلاؤ

اسرائیل روایتی طور پر قوت مدافعت کو میزائلوں اور فوجی طاقت کے تناظر میں دیکھتا تھا، لیکن اس جنگ نے واضح کر دیا کہ ایران کی قوت مدافعت اب کئی سطحوں پر قائم ہے۔

یہ قوت مدافعت ایران کی سرزمین سے شروع ہو کر لبنان اور محور مزاحمت کے دیگر محاذوں سے گزرتی ہوئی عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی معیشت تک پھیل چکی ہے۔

تیسرا نتیجہ: محاذوں کی علیحدگی کے تصور کا خاتمہ

ایران مختلف محاذوں کے درمیان باہمی ربط کے نظریے کو مضبوط بنانے میں کامیاب رہا۔

خلیج فارس کی سلامتی، بحری گزرگاہوں کا تحفظ، لبنان کی صورتحال اور اسرائیل کی سلامتی اب الگ الگ مسائل نہیں رہے بلکہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے عوامل بن چکے ہیں، جس سے اسرائیل کا سکیورٹی ماحول مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔

چوتھا نتیجہ: غیر فوجی طاقت کے ذرائع کی بڑھتی اہمیت

اس جنگ نے ثابت کیا کہ اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی دباؤ کے ذرائع بعض اوقات براہ راست فوجی طاقت سے بھی زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ نگار کے مطابق یہ اسرائیل کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ فوجی برتری کے باوجود اس کے پاس عالمی توانائی یا اہم بحری گزرگاہوں سے متعلق وہ اسٹریٹجک ذرائع موجود نہیں جو ایران کے پاس ہیں۔

پانچواں نتیجہ: اسرائیل کی طاقت کے تصور پر نظرثانی

جس طرح اس جنگ نے امریکہ کی طاقت کے بارے میں عالمی تصورات کو متاثر کیا، اسی طرح اسرائیل کی طاقت کے بارے میں موجود تصورات کو بھی تبدیل کر دیا۔

تجزیہ نگار کے مطابق اب اسرائیل کے اتحادی اور مخالف دونوں اپنی سابقہ سوچ پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہیں، خاص طور پر اس حوالے سے کہ آیا اسرائیل اپنی فوجی طاقت کو طویل المدتی سیاسی اور اسٹریٹجک کامیابیوں میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس کا مطلب اسرائیل کی فوجی طاقت کا خاتمہ نہیں، بلکہ اس بات پر اعتماد میں کمی ہے کہ یہ فوجی طاقت خطے میں فیصلہ کن سیاسی تبدیلیاں لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

مشہور خبریں۔

آئندہ الیکشن میں کچھ لوگ پارٹی چھوڑ دیں گے

?️ 12 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا

صہیونی فوجی، حزب اللہ کے جال میں گرفتار

?️ 14 نومبر 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کی فوج کی ایک یونٹ کو حزب اللہ

صیہونی حکومت کا طیارہ مغربی کنارے میں گر کر تباہ

?️ 1 اکتوبر 2022سچ خبریں:   اسرائیل کا ایک تربیتی طیارہ جمعہ کو بیت المقدس کے

سندھ کی طرح اسلام آباد میں آرٹیکل 147 نافذ ہوگا

?️ 28 اکتوبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے پنجاب میں 60

ایران نے پاکستان کے ذریعے 14 نکات پر مشتمل نیا متن امریکہ کو بھجوا دیا

?️ 18 مئی 2026سچ خبریں:مذاکراتی ٹیم کے قریبی ذرائع کے مطابق، ایران نے اپنا نیا

قانون اور آئین کی بالادستی صدر مملکت اولین ترجیح ہے۔ گورنر پنجاب

?️ 10 اکتوبر 2025لاہور (سچ خبریں) گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا ہے

پنجاب حکومت کا یونیورسٹی طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ اسکیم میں توسیع کا اعلان

?️ 12 دسمبر 2025لاہور (سچ خبریں) پنجاب حکومت نے اپنے لیپ ٹاپ اسکیم کو پہلی

محمد علی سدپارہ کے متعلق حکومت اہم بیان جاری کر دیا

?️ 18 فروری 2021سکردو (سچ خبریں) گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت ناصر علی خان نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے