?️
سچ خبریں:تہران ٹائمز کے اداریے میں ایران عراق جنگ اور موجودہ امریکی جنگ کا موازنہ کرتے ہوئے صدام اور ٹرمپ کے ایران کی عسکری طاقت اور عوامی ردعمل سے متعلق اندازوں میں مماثلت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
صدام اور ٹرمپ کا مشترکہ وہم
ایران عراق جنگ شروع ہونے کے 46 سال بعد صدام اور ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی صلاحیتوں سے متعلق اندازوں کا موازنہ کئی مماثلتیں ظاہر کرتا ہے؛ جن میں فوری فتح کی توقع، ایرانی عوام کے ردعمل کا غلط اندازہ اور جنگ کے انجام سے متعلق غلط حساب شامل ہیں۔
تہران ٹائمز کے چیف ایڈیٹر نے ہفتہ دفاع مقدس کے موقع پر شائع ہونے والے اپنے اداریے میں 8 سالہ ایران عراق جنگ اور امریکہ کے ساتھ جاری جنگ کا موازنہ کرتے ہوئے صدام اور ٹرمپ کے جنگی اندازوں میں مماثلتوں کا جائزہ لیا ہے۔
صدام کو ایران کی فوری شکست کا یقین تھا
اداریے کے مطابق گزشتہ روز صدام حسین کی حکومت کے تحت عراق کی جانب سے ایران پر حملے کے آغاز کی 46ویں برسی تھی۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں جب صدام جنوبی مغربی سرحد پر ایران کی مقبوضہ سرزمین پر موجود تھا تو اس نے صحافیوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ چند روز بعد تہران میں ان سے دوبارہ ملاقات کرکے انٹرویو دے گا۔
تہران ٹائمز کے اداریے کے مطابق صدام کا یہ تصور بے بنیاد نہیں تھا۔ ایران حال ہی میں ایک بڑے انقلاب سے گزرا تھا جس کے نتیجے میں ملک کے تقریباً تمام اہم اداروں میں بنیادی تبدیلیاں آئی تھیں اور متعدد ادارے ابھی تشکیل کے ابتدائی مراحل میں تھے۔
اداریے میں کہا گیا ہے کہ فوج کے متعدد اعلیٰ کمانڈر ملک سے فرار ہوچکے تھے یا گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمات چلائے جاچکے تھے۔ پاسداران انقلاب بھی ابھی نیا قائم ہوا تھا اور اس کے بہت سے ارکان کے پاس بنیادی فوجی تجربہ بھی نہیں تھا۔ اس لیے دشمن کے اندازوں میں ایرانی دفاعی قوت کو ایسی طاقت نہیں سمجھا گیا جو ایک مکمل بیرونی فوجی حملے کا مقابلہ کرسکے۔
مجموعی طور پر صدام کا خیال تھا کہ اسے ایک کمزور ایران کا سامنا ہے اور ایک تیز رفتار اور وسیع فوجی حملہ ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کردے گا اور اسے آسان اور فوری فتح حاصل ہوجائے گی۔
تاہم اداریے کے مطابق یہ خونریز وہم 8 سالہ جنگ میں تبدیل ہوگیا اور صدام جنگ کے آغاز میں اعلان کیے گئے اپنے کسی بھی بنیادی مقصد کو حاصل نہیں کرسکا۔
تہران ٹائمز کے مطابق ٹرمپ اور صدام کی مماثلت
اداریے میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ موجودہ جنگ میں مصروف ڈونلڈ ٹرمپ کے اندازوں میں صدام سے نمایاں مماثلت پائی جاتی ہے۔
تہران ٹائمز کے مطابق ٹرمپ کا بھی خیال تھا کہ ایران کمزور اور نازک صورتحال سے دوچار ہے اور ایک تیز رفتار اور وسیع فضائی حملہ جنگ کا فیصلہ کردے گا۔
اداریے میں صدام کے ابتدائی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس نے بھی ایران کے درجنوں فوجی اور غیر فوجی اہداف پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کرکے جنگ شروع کی تھی اور اسے توقع تھی کہ ایران مفلوج ہوجائے گا۔
جنگی جرائم کے الزامات
اداریے میں صدام اور ٹرمپ کے درمیان ایک اور مماثلت ان کے جنگ کے دوران شہری اہداف کے خلاف کارروائیوں کو قرار دیا گیا ہے۔
تہران ٹائمز کے اداریے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ صدام نے جنگ کے دوران مغربی ممالک سے حاصل کیے گئے کیمیائی بموں کے علاوہ شہری علاقوں اور غیر فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے اور ایرانی شہریوں کو ہلاک کیا۔
اداریے میں موجودہ جنگ کے حوالے سے ٹرمپ پر بھی ایران کے اسکولوں، یونیورسٹیوں، اسپتالوں اور دیگر غیر فوجی اہداف پر حملوں کے ذریعے جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اداریے میں میناب کے ایک اسکول پر جنگ کے پہلے روز ہونے والے حملے کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس میں 120 سے زیادہ طلبہ ہلاک ہوئے۔
خلیجی ممالک کا کردار
اداریے میں صدام اور ٹرمپ کے ساتھ ایران کے جنوبی پڑوسی ممالک کے تعلقات میں بھی مماثلت کا ذکر کیا گیا ہے۔
تہران ٹائمز کے مطابق ایران عراق جنگ کے دوران خلیج فارس کے بعض عرب ممالک نے عملی طور پر صدام کی جنگی مشین کو مالی مدد فراہم کی اور اس کی جنگی کارروائیوں میں معاونت کی۔
اداریے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ موجودہ جنگ میں بھی ان ممالک نے امریکی فوج کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے کر اور دیگر فوجی تعاون فراہم کرکے ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں میں مدد کی ہے۔
اداریے کے مطابق جس طرح ماضی میں صدام کی حمایت ان ممالک کے لیے پشیمانی کا باعث بنی، موجودہ صورتحال میں بھی ان ممالک نے غلط گھوڑے پر شرط لگائی ہے اور انہیں اس کے نتائج سے محفوظ رہنے کی ضمانت نہیں۔
ایرانی عوام کے ردعمل کا غلط اندازہ
تہران ٹائمز کے اداریے میں صدام اور ٹرمپ کے درمیان ایک اور مماثلت ایرانی عوام کے ردعمل سے متعلق ان کے اندازوں کو قرار دیا گیا ہے۔
اداریے کے مطابق صدام کا خیال تھا کہ خوزستان کے عرب باشندے عراقی فوج کا خیرمقدم کریں گے، لیکن اس کے برعکس وہی لوگ حملے کے خلاف مزاحمت کرنے والوں میں سب سے آگے رہے اور انہوں نے طویل اور تاریخی مزاحمت کا مظاہرہ کیا۔
اداریے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کو بھی توقع تھی کہ بڑے پیمانے پر فضائی بمباری شروع ہونے کے بعد ایرانی عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے اور ان کی حکومت کی تبدیلی کی حکمت عملی کو مکمل کردیں گے۔
تہران ٹائمز کے مطابق ٹرمپ نے مختلف مواقع پر اس توقع کا کھل کر اظہار کیا اور ایک موقع پر ایرانی عوام کی جانب سے بغاوت نہ کرنے پر حیرت اور ناراضی کا اظہار بھی کیا۔
صدام کا انجام اور ٹرمپ سے متعلق اداریے کی پیش گوئی
اداریے میں صدام حسین کے انجام کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ عراقی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ جب صدام کو پھانسی دینے کے لیے لے جایا گیا تو اس نے ایران کو اپنی ذلت آمیز صورتحال کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے گالیاں دی تھیں۔
تہران ٹائمز کے اداریے میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ٹرمپ اپنی پوری زندگی ایران کے انتقام کے خوف کے سائے میں رہیں گے۔
اداریے کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ دنیا میں ان دونوں افراد سے حساب لینے کی گنجائش نہیں اور طنزیہ انداز میں لکھا گیا ہے کہ وہ جہنم میں ایک دوسرے کے لیے مناسب ہمسائے ثابت ہوں گے۔


مشہور خبریں۔
لبنان کی سرحد پر صیہونی جاسوس خواتین یونٹ کا کیا کردار ہے؟
?️ 15 نومبر 2021سچ خبریں: اتوار کے روز ایک صہیونی اخبار نے جاسوسی اور فوجی
نومبر
برطانیہ اور امریکہ صیہونی حکومت کی مکمل حمایت کیوں کرتے ہیں؟
?️ 14 دسمبر 2023سچ خبریں: برطانوی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز ایک بیان جاری
دسمبر
جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ، 4 ہزار 386 شہید
?️ 26 اکتوبر 2026سچ خبریں: خبر رساں ذرائع نے پیر کے روز بتایا کہ اسرائیلی فوج
اکتوبر
پی ٹی آئی حکومت کی کورونا وباء کے دوران ایک اور بڑی کامیابی
?️ 14 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) حکومت پاکستان نے اپنی کوششوں اور کاوشوں کے
جون
ملک بھر میں کورونا وبا کی تیسری لہر کا قہری جاری
?️ 14 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) مقامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر
مارچ
رفح کراسنگ کا کنٹرول کس کے پاس رہے گا؟!صیہونی ذرائع ابلاغ
?️ 8 مئی 2024سچ خبریں: صہیونی میڈیا نے رفح کراسنگ کے انتظام کے حوالے سے
مئی
کیا صیہونی حکومت فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کر سکے گی؟
?️ 16 نومبر 2023سچ خبریں: غزہ کی پٹی کے باشندوں کی جبری ہجرت کی پالیسی
نومبر
غزہ جنگ کے بارے میں سلامتی کونسل کی قرارداد
?️ 13 جون 2024سچ خبریں: 25 مارچ 2025 کی عام قرارداد کی منظوری کے بعد، جس
جون